مقدمہ کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالہ‘ تمام مواد  بھی سونپنے ہائی کورٹ کی ہدایت

تازہ خبر تلنگانہ
ایم ایل ایز رشوت کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت 
خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے قیام کے احکامات منسوخ‘
حیدرآباد:۔27 ؍دسمبر
(زین نیوز) 
ایم ایل ایز رشوت کیس کی تحقیقات میں ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے کیس کی تحقیقات سی بی آئی کو منتقل کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔
ہائی کورٹ جس نے بی جے پی اور ملزمین کی طرف سے دائر درخواستوں پر غور کیا اس سلسلہ میں حکم جاری کیا کہ اسے ریاستی حکومت کی طرف سے قائم کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم(ایس آئی ٹی)کی تحقیقات پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔
دوسری طرف ایڈوکیٹ جنرل نے ایس آئی ٹی کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے سے کوئی مقصدحاصل نہیں ہوگا۔
 انہوں نے درخواست کی کہ ایس آئی ٹی سے تفتیش کی اجازت دی جائے کیونکہ کیس تحقیقات کے مرحلے میں آگے بڑھ رہا ہے۔ تاہم عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کے دلائل پر غور نہیں کیا۔
 ایس آئی ٹی کو ہدایت دی گئی کہ وہ اب تک کی گئی تحقیقات کی تفصیلات سی بی آئی کو سونپے۔ بعد میں بی جے پی کی طرف سے دلائل دینے والے رام چندر راؤ نے میڈیا سے بات کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ تفتیش ٹھیک طریقے سے نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کیس کے تکنیکی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔ ہم نے عدالت کو بتایا کہ  ان کے موکلوں سیاسی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ مقدمہ سیاسی مقاصد کے تحت درج کیا گیا۔ چیف منسٹر نے پریس  کانفرنس کی اور تنقید کی۔
 ایس آئی ٹی کو انیشا کے علاوہ تحقیقات کا کوئی اختیار نہیں ہے، رام چندر را ؤنے یہ دعوی کیا۔ اس معاملہ نے  ریاست بھر میں سنسنی پیدا کر دی  تھی۔ پولیس نے بی آر ایس کے ایم ایل اے روہت ریڈی کی شکایت کی بنیاد پر سمہایا جی، رام چندر بھارتی اور نند کمار کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے کہ انہوں نے ان کے ایم ایل اے کو خریدنے کی کوشش کی۔
 کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت تلنگانہ نے تحقیقات کی ذمہ داری سی وی آنند کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو سونپی ہے۔ عدالت جس نے بی جے پی اور ملزمین کی عرضی پر سماعت کی، کہا کہ انہیں ایس آئی ٹی کی جانچ پر کوئی بھروسہ نہیں ہے اور حال ہی میں اس نے کیس سی بی آئی کو سونپ دیا ہے۔
عدالت نے سیٹ کو ہدایت دی کہ اب تک کے اکٹھا کردہ ثبوت اور بیانات سی بی آئی کو سونپے جائیں۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم  سے متعلق‘حکومت کی طرف سے جاری کردہ احکامات کو ہائی کورٹ نے  منسوخ بھی کر دیا۔