حیدرآباد : بارکس سے تعلق رکھنے والے شہید سماجی کارکن شیخ سعیدباوزیر کی تدفین‘ہزاروں لوگوں کی شرکت
فٹ بال گراؤنڈ میں نماز جنازہ‘ سماجی کارکنوں و دیگر سیاسی قائدین کا اظہاردکھ
‘ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا کیا مطالبہ‘ واقعہ سے بارکس میں ہے غم کا ماحول
حیدرآباد:۔ 12اگست
(زین نیوز بیورو)
بارکس علاقہ سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور و معروف سماجی کارکن شیخ سعدباوزیر کی 12اگست ہفتہ کی رات کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں تدفین عمل میں آئی۔ جن کی نماز جنازہ بارکس کے فٹ بال گراؤنڈ میں ہفتہ کی رات کو 9:30بجے ادا کی گئی
جس میں شہرحیدرآباد سے تعلق رکھنے والے بے شمار سماجی کارکنوں کے علاوہ شہر حیدرآباد کے مختلف مقامات سے رہنے والے افراد نے شرکت کی اور ان کی نماز جنازہ کو ادا کیا۔
یہاں حالات کی مناسبت اور لوگوں کے بڑھتے ہوئے ہجوم کو دیکھتے ہوئے فٹ بال گراؤنڈ میں ان کی نمازجنازہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مسجد میں جگہ ناکافی ہونے کی وجہ سے بارکس فٹ بال گراؤنڈ کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ اس کے بعد بارکس کے بڑے قبرستان میں مرحوم شیخ سعیدباوزیر کی تدفین عمل میں لائی گئی
جہاں پر ہزاروں لوگوں نے شرکت کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے بے رحمانہ قتل کی واردات پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا کیونکہ مرحوم شیخ سعیدباوزیر گذشتہ چند عرصہ سے سماجی کارکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے عوامی مسائل کو منظرعام پر لارہے تھے اور وہ جل پلی میونسپالٹی حدود میں پیش آرہے بلدی مسائل پر خاص توجہ دیتے ہوئے وقفہ وقفہ سے وہاں کے مسائل کو عوام کے بیچ لارہے تھے۔
جن کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کچھ لوگوں کو جلن و حسد شروع ہوگئی تھی اور اسی وجہ سے مرحوم شیخ سعیدباوزیر اور سب کے نظروں میں بھی آگئے تھے۔ اتنا ہی نہیں شیخ سعیدباوزیر کو مسلسل جان سے ماردینے کی دھمکیاں بھی دی جارہی تھی اور خود شیخ سعید باوزیر کو اپنی زندگی میں ان پر حملہ کا بھی خدشہ تھا اور آخر کار 10اگست بروز جمعرات کو رات دیر گئے شیخ سعیدباوزیر کا وہ خدشہ پورا ہوگیا۔
جنہیں بنڈلہ گوڑہ مین روڈ پر ایک ہوٹل کے قریب گنجان آبادی والے مقام پر کچھ کرایہ کے قاتلوں نے مہلک ہتھیاروں سے حملہ کردیا اور موت کے گھاٹ اتار گیا۔ اس طرح سے گذشتہ چار پانچ سالوں سے وقفہ سے شروع ہوا شیخ سعیدباوزیر کا سماجی کارکن کی حیثیت سے سفر اب ختم ہوگیا۔ جن کی مغفرت اور اللہ پاک کی بارگاہ میں درجات کی بلندی کے لئے دعاؤں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔
قبل ازیں مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجداللہ خاں خالد اور شہرحیدرآباد کے سینئر ایڈوکیٹ و امان اللہ خاں صاحب کے فرزند مظفراللہ خاں شفاعت نے بھی مرحوم کے گھر پہنچ کر ان کے ضعیف العمر والد کو پرسہ دیا اور ان کے قتل پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قانونی لڑائی میں ممکنہ مدد فراہم کرنے کا تیقن دیا۔
علاوہ ازیں مرحوم کے ایک بھائی بھی سعودی عرب سے حیدرآباد پہنچ چکے ہیں اور وہ بھی اپنے بھائی کا آخری دیدار کرکے ان کی نماز جنازہ و تدفین میں شرکت کی۔ جن کے جلوس جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں ہجوم دیکھا گیا جہاں سروں کا سمندر نظر آرہا تھا اور اس موقع پر پولیس کی طرف سے بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر خصوصی طور پر بندوبست کیا گیاتھا۔
مقامی اطلاعات کے مطابق نماز جنازہ اور جلوس جنازہ میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں لوگ نکلے۔ تلنگانہ کے مختلف علاقوں اور پڑوسی ریاستوں کرناٹک اور مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ملاقات کی اور اہل خانہ کو تسلی دی
مگر خاص بات تو یہ ہے کہ اب تک بھی پولیس عملہ کی طرف سے مقتول شیخ سعیدباوزیر کے قتل کے واقعہ میں کسی بھی قسم کی کوئی پیشرفت نہیں کی گئی اور میڈیا میں بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ البتہ تین قاتلوں کی گرفتاریوں کی خبریں سوشیل میڈیا پر گشت کررہی ہیں۔