، میں ہندوستانی ہوں، میرے دادا ہندوستانی فوج میں صوبیدار تھے”
جنوبی ہند میں نفرت کی بڑھتی ہوئی فضا اور ہندوستانی مسلمانوں کے خدشات
از عمران زین
سینئر جرنلسٹ جگتیال
ہندوستان اپنی تہذیبی گوناگونی، مذہبی تنوع اور جمہوری اقدار کے سبب دنیا بھر میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے کروڑوں لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ ہندوستان کا آئین تمام شہریوں کو مذہبی آزادی، مساوات اور عزت و احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی شناخت کثرت میں وحدت، رواداری اور باہمی احترام سے جڑی ہوئی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ملک کے مختلف حصوں سے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے مسلمانوں سمیت اقلیتی طبقات میں تشویش اور عدم تحفظ کے احساس کو بڑھایا ہے۔
مختلف ریاستوں میں پیش آنے والے بعض واقعات نے مذہبی منافرت، نفرت انگیز زبان اور شہریوں کی حب الوطنی کو مذہبی شناخت کے پیمانے پر جانچنے کے رجحان کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔حالیہ دنوں حیدرآباد کے مضافاتی علاقے کاپرا میں واقع جن پریہ لیک فرنٹ سوسائٹی کا ایک واقعہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔
اطلاعات کے مطابق ایک کرایہ داری تنازعہ کے دوران سوسائٹی کے ایک عہدیدار پر ایک مسلم جوڑے کو "پاکستانی” کہنے کا الزام لگا۔ واقعہ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ وائرل ویڈیو میں ایک شخص جذباتی انداز میں یہ کہتے ہوئے نظر آیا کہ "مجھے پاکستانی مت کہو، میں ہندوستانی ہوں، میرے دادا ہندوستانی فوج میں صوبیدار تھے۔” اس نے سوال اٹھایا کہ آخر اس کی حب الوطنی پر کس بنیاد پر شک کیا جا سکتا ہے۔
اس واقعہ کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ بتایا گیا کہ "پاکستانی” کہہ کر مخاطب کیے جانے والوں میں ایک نابالغ مسلم لڑکا بھی شامل تھا۔ وائرل ویڈیو میں مبینہ طور پر اس کم سن لڑکے سے "تم یہاں کیوں رہ رہے ہو؟” جیسے سوالات بھی کیے گئے۔ ناقدین کے مطابق ایک نابالغ ہندوستانی شہری کو اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا اور اس کی ہندوستانی شناخت یا حب الوطنی پر سوال اٹھانا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ آئینی مساوات اور سماجی ہم آہنگی کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔
رپورٹس کے مطابق معاملہ ابتدا میں کرایہ داری اور سوسائٹی کے ضابطوں سے متعلق اختلاف سے شروع ہوا تھا۔ سوسائٹی انتظامیہ نے مبینہ طور پر ایک کرایہ دار خاتون سے اعتراض کیا کہ اس نے ایک جوڑے کو اپنے فلیٹ میں رہائش دی لیکن اس کی اطلاع انتظامیہ کو نہیں دی تھی۔
بعد میں گفتگو تلخ ہوگئی اور مبینہ طور پر "پاکستانی” جیسے الفاظ استعمال کیے گئے۔ جواہر نگر پولیس موقع پر موجود تھی اور اس نے دونوں فریقوں کے درمیان مصالحت کرا دی۔ بعد ازاں معذرت اور باہمی رضامندی کے بعد معاملہ رفع دفع کر دیا گیا، تاہم سوشل میڈیا اور مختلف سماجی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر کسی شہری کو اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر "پاکستانی” کہا جائے اور اس کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا جائے تو کیا یہ نفرت انگیز رویے کے زمرے میں نہیں آتا؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ پولیس کی موجودگی کے باوجود کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی قابلِ ذکر قانونی کارروائی سامنے آئی، جس کی وجہ سے قانون کے یکساں نفاذ کے حوالے سے سوالات پیدا ہوئے۔یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ تلنگانہ حکومت حالیہ عرصے میں مذہبی منافرت، نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے خلاف سخت قانون سازی کی ضرورت پر زور دے چکی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ مذہب، ذات، زبان یا برادری کی بنیاد پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ ایسے میں بعض سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس کا غیر جانبدارانہ اور یکساں نفاذ بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔اسی دوران تلنگانہ کے ضلع نرمل میں بھی ایک معاملہ زیرِ بحث آیا۔ اطلاعات کے مطابق رام نومی کے موقع پر سوشل میڈیا پر ایک مبینہ اشتعال انگیز واٹس ایپ اسٹیٹس کو لے کر تنازعہ پیدا ہوگیا۔
الزام ہے کہ بی جے پی سے وابستہ رنجیت نامی ایک شخص، جو فینانس کے کاروبار سے بھی منسلک بتایا جاتا ہے، نے اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر "یہ نیا ہندوستان ہے، گھر میں گھس کے ماریں گے” جیسا جملہ پوسٹ کیا تھا۔ مقامی مسلم نمائندوں اور شہریوں نے اس اسٹیٹس پر اعتراض کرتے ہوئے پولیس سے رجوع کیا اور متعلقہ شخص کے خلاف شکایت درج کروائی۔
شکایت کنندگان کا مؤقف تھا کہ مذکورہ اسٹیٹس مذہبی منافرت، اشتعال انگیزی اور سماجی کشیدگی کو فروغ دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سلسلے میں معاملے کی شکایت ضلع نرمل کے پولیس حکام، بشمول ایس پی اور ایڈیشنل ایس پی، کو بھی پیش کی گئی۔ تاہم شکایت کے باوجود تاحال پولیس کی جانب سے اس معاملے میں کوئی باضابطہ بیان یا کارروائی کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے بحث و مباحثہ جاری ہے، جبکہ بعض سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی منافرت یا اشتعال انگیزی سے متعلق شکایات پر بلاامتیاز اور فوری کارروائی کی جائے تاکہ قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھا جا سکے۔
تلنگانہ میں حالیہ عرصے کے دوران فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ضلع جگتیال کے ابراہیم پٹنم منڈل میں رام نومی کے موقع پر پیش آنے والے ایک واقعہ میں مبینہ طور پر قریشی برادری سے تعلق رکھنے والے باپ اور بیٹے کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ واقعہ کے ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، تاہم متاثرین اور بعض سماجی تنظیموں کے مطابق اب تک قابلِ ذکر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
اسی طرح ضلع جگتیال کے بیرپور منڈل میں عید کے موقع پر عیدگاہ کی اراضی کے حوالے سے تنازعہ پیدا ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق بعض افراد نے مذکورہ اراضی پر دعویٰ کرتے ہوئے مسلمانوں کو عید کی نماز ادا کرنے سے روکنے کی کوشش کی، جس کے باعث کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوئی۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ معاملے کی اطلاع پولیس کو دی گئی، تاہم اب تک کسی واضح قانونی کارروائی کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔سماجی اور اقلیتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے واقعات پر بروقت اور غیر جانبدارانہ کارروائی نہ کی جائے تو اس سے معاشرے میں بے اعتمادی اور کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق تلنگانہ، جو طویل عرصے سے مذہبی ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کے لیے جانا جاتا رہا ہے، وہاں حالیہ برسوں میں فرقہ وارانہ نوعیت کے تنازعات اور نفرت انگیز واقعات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ریاست میں امن، بھائی چارہ اور سماجی ہم آہنگی برقرار رہ سکے۔
اسی دوران اتر پردیش کے ضلع سدھارتھ نگر سے سامنے آنے والا ایک اور واقعہ بھی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا۔ وائرل ویڈیو کے مطابق ایک معمر مسلم شخص کھانے (پرساد) کے حصول کے لیے آیا تھا۔ الزام ہے کہ مقامی رہنما لوکیش اوجھا نے اسے کھانا دینے سے قبل مخصوص مذہبی نعرے لگانے کی شرط عائد کی۔
ویڈیو میں بزرگ شخص مسکراتے ہوئے نعرے لگاتا دکھائی دیتا ہے اور بعد ازاں اسے کھانا دیا جاتا ہے۔ اس واقعہ پر بھی ملک بھر میں مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض لوگوں نے اسے مذہبی ہم آہنگی کی مثال قرار دیا جبکہ ناقدین نے اسے انسانی وقار اور مذہبی آزادی کے اصولوں سے متصادم قرار دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب اس نوعیت کے واقعات منظر عام پر آئے ہوں۔ اس سے قبل دہلی، اتر پردیش، بہار، آسام اور دیگر ریاستوں میں بھی مختلف مواقع پر ایسے واقعات خبروں کا حصہ بنتے رہے ہیں جہاں مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر توہین آمیز جملوں، تعصب یا مشکوک نگاہوں کا سامنا کرنا پڑا۔
متعدد رپورٹس اور ویڈیوز نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ معاشرے کے بعض حلقوں میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم اور نفرت کے رجحانات فروغ پا رہے ہیں۔حال ہی میں کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے ابّی گیری علاقے میں پیش آنے والا ایک واقعہ بھی ملک بھر میں موضوعِ بحث بنا۔ وائرل ویڈیوز کے مطابق ایک ریٹائرڈ فوجی افسر اور اس کی اہلیہ پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک مسلم شہری کو "دہشت گرد” اور "پاکستانی” جیسے الفاظ سے مخاطب کیا۔
اطلاعات کے مطابق ایک رہائشی تنازعہ کے دوران یہ تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد متاثرہ شخص دیگر افراد کے ساتھ واپس آیا اور ان الفاظ پر سخت اعتراض کیا۔ موقع پر موجود افراد نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ملک کی مسلح افواج میں خدمات انجام دینے والا ایک سابق افسر مذہبی اور فرقہ وارانہ نوعیت کی زبان کیسے استعمال کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ہندوستان تمام مذاہب اور برادریوں کے لوگوں کا مشترکہ وطن ہے اور کسی بھی شہری کی حب الوطنی کو اس کے مذہب کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا۔
بعد ازاں وائرل ویڈیوز میں ریٹائرڈ افسر اور اس کی اہلیہ کو عوامی طور پر معذرت کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جس کے بعد فوری کشیدگی میں کمی آئی۔ اگرچہ اس معاملے میں ابتدائی طور پر کوئی باضابطہ پولیس شکایت درج نہیں ہوئی، تاہم اس واقعہ نے ایک بار پھر مذہبی تعصب، نفرت انگیز زبان، روزمرہ زندگی میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور سماجی ہم آہنگی کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی۔حیدرآباد، نرمل، بنگلورو، اتر پردیش اور ملک کے دیگر حصوں سے سامنے آنے والے ایسے واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی شہری کو "پاکستانی”، "دہشت گرد” یا دیگر توہین آمیز القابات سے پکارنا محض ایک لفظی حملہ نہیں بلکہ اس کے ذریعے اس کی شہریت، وفاداری اور سماجی حیثیت کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے کارکن، سماجی تنظیمیں اور مختلف حلقہ ہائے فکر نفرت انگیز زبان کے خلاف مؤثر کارروائی، عوامی شعور کی بیداری اور آئینی اقدار کے فروغ پر زور دے رہے ہیں تاکہ ہندوستان کی تکثیری شناخت، جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کو محفوظ رکھا جا سکے۔پارلیمنٹ جیسے اعلیٰ جمہوری اداروں میں بھی بعض مواقع پر ایسے بیانات سننے کو ملے جنہیں مسلمانوں کے خلاف تعصب یا اشتعال انگیزی کے تناظر میں دیکھا گیا۔
ایسے بیانات خواہ کسی بھی سیاسی جماعت یا فرد کی جانب سے آئیں، ان کے اثرات معاشرے پر دور رس ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ ملک کی جمہوری اقدار کی علامت ہے اور وہاں سے اتحاد، رواداری اور آئینی مساوات کا پیغام جانا چاہیے۔مسئلہ صرف چند واقعات یا چند افراد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک وسیع سماجی چیلنج کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جب کسی شہری کو اس کے نام، لباس، مذہب یا شناخت کی بنیاد پر شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف متاثرہ فرد کی دل آزاری ہوتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں بداعتمادی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
ہندوستان کی اصل طاقت اس کے تنوع، کثرت میں وحدت اور مختلف برادریوں کے درمیان صدیوں پر محیط مشترکہ تہذیبی ورثے میں پوشیدہ ہے۔یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ نفرت انگیز زبان اور اشتعال انگیز رویے کسی ایک برادری کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب نفرت معمول بن جائے تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام طبقات قانون، آئین اور انسانی اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلافات کا اظہار کریں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مذہبی منافرت اور نفرت انگیز رویوں کے ہر واقعہ پر بلاامتیاز کارروائی کریں۔ سیاسی جماعتیں، سماجی تنظیمیں، مذہبی قائدین اور ذرائع ابلاغ بھی اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور ایسے بیانات یا اقدامات کی حوصلہ شکنی کریں جو معاشرے میں تقسیم پیدا کرتے ہوں۔ آئینِ ہند تمام شہریوں کو برابر کا درجہ دیتا ہے اور کسی بھی شہری کی حب الوطنی کو اس کے مذہب کی بنیاد پر جانچنا آئینی روح کے منافی ہے۔
آج ہندوستان کو نفرت، تقسیم اور بداعتمادی سے زیادہ رواداری، بھائی چارے اور باہمی احترام کی ضرورت ہے۔ ہر ہندوستانی، خواہ وہ کسی بھی مذہب، زبان یا ثقافت سے تعلق رکھتا ہو، اس ملک کا برابر کا شہری ہے۔ یہی ہندوستان کی جمہوری روح ہے، یہی اس کی تہذیبی شناخت ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ملک کو امن، ترقی اور استحکام کی جانب لے جا سکتا ہے۔
