دو کوڑی کے ٹیچرس یا دو کوڑی کی صحافی؟
تعلیم کی توہین،گودی میڈیا کا کردا،ہندوستان میں صحافتی بحران
از تحریر : عمران زین
سینئر جرنلسٹ جگتیال
"علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض عین ہے۔” — حدیث نبوی ﷺ
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور تہذیبی ارتقا کی بنیاد ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے علم کو اپنا سرمایہ بنایا، انہوں نے دنیا کی قیادت کی، اور جنہوں نے علم و تحقیق سے منہ موڑا، وہ زوال کا شکار ہو گئیں۔ استاد صرف کتابیں نہیں پڑھاتا بلکہ نسلوں کی تعمیر کرتا ہے، خوابوں کو حقیقت میں بدلتا ہے اور قوم کے مستقبل کو سنوارتا ہے۔ اسی لیے ہر مہذب معاشرے میں معلم کا مقام نہایت بلند سمجھا جاتا ہے۔دوسری جانب صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔
صحافی اور میڈیا عوام اور اقتدار کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل کو اجاگر کریں، اقتدار سے سوال کریں اور سچائی کو سامنے لائیں۔ لیکن جب تعلیم اور صحافت دونوں میں سے کسی ایک شعبے کے کردار پر سوالات اٹھنے لگیں تو پورے معاشرے میں بحث پیدا ہونا فطری امر ہے۔حالیہ دنوں میں ایسا ہی ایک تنازع سامنے آیا جس نے ہندوستان بھر میں تعلیم، میڈیا اور سیاست کے کردار پر نئی بحث چھیڑ دی۔
آج تک کی معروف اینکر انجنا اوم کشیپ نے ایک ٹی وی مباحثے کے دوران بعض یوٹیوب اساتذہ کو "دو کوڑی کے ٹیچر” اور "فراڈ” قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ تعلیم سے زیادہ شہرت، ویوز اور مالی مفادات پر توجہ دے رہے ہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب NEET امتحان میں مبینہ پیپر لیک، بے ضابطگیوں اور امتحانی نظام پر سوالات کے باعث لاکھوں طلبہ سراپا احتجاج تھے۔ ملک بھر میں نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند تھے اور متعدد آن لائن اساتذہ ان کے حق میں آواز بلند کر رہے تھے۔
خان سر، ابھنئےشرما،وکاس دیوکیرتی، نیتوسنگھ، ، ڈاکٹر بابیتا تیاگی ، محمد کاشف، عادل خان اور دیگر معروف تعلیمی یوٹیوبرز امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مطالبات پر مسلسل گفتگو کر رہے تھے۔انجنا اوم کشیپ کے بیان کے بعد طلبہ اور اساتذہ کے ایک بڑے طبقے نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ مبصرین نے سوال اٹھایا کہ اگر لاکھوں نوجوانوں کو تعلیم دینے والے، انہیں سرکاری ملازمتوں اور مسابقتی امتحانات کے لیے تیار کرنے والے اساتذہ "دو کوڑی کے” ہیں تو پھر وہ صحافت کس معیار کی ہوگی جو قوم کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر غیر ضروری مباحث کو سرخی بناتی ہے؟اسی سوال نے پورے تنازع کو ایک نئے رخ پر پہنچا دیا۔
گزشتہ چند برسوں سے ہندوستانی میڈیا کی ترجیحات پر مسلسل تنقید ہوتی رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق میڈیا کا ایک حصہ بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کی مشکلات، تعلیمی بحران، صحت اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے بنیادی مسائل کے بجائے ایسے موضوعات کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے جن کا عوامی زندگی پر براہِ راست اثر محدود ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بارہا یہ مثال دی جاتی رہی کہ جب لاکھوں نوجوان امتحانی نظام میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، تب بعض نیوز رومز میں "میلوڈی اتنی چاکلیٹی کیوں ہے؟”، "ایک میلوڈی کی قیمت تم کیا جانو راہول بابو” اور "جھل موری ایک اسٹریٹ فوڈ نہیں بلکہ ایک ایموشن ہے” جیسے موضوعات زیر بحث تھے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک اسٹریٹ فوڈ قومی بحث بن سکتا ہے تو لاکھوں طلبہ کا مستقبل بھی قومی بحث بننا چاہیے تھا۔اسی پس منظر میں "گودی میڈیا” کی اصطلاح گزشتہ چند برسوں کے دوران عام ہوئی۔ مبصرین کے مطابق میڈیا کا ایک حصہ اقتدار سے سوال کرنے کے بجائے اقتدار کے بیانیے کو فروغ دیتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ جمہوریت میں صحافت کا بنیادی کردار احتساب اور عوامی نمائندگی ہے۔
مبصرین کی ایک اور بڑی شکایت یہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا کے بعض حلقے اکثر اہم سماجی اور سیاسی مسائل کو ہندو مسلم زاویے سے پیش کرتے ہیں۔نماز، حجاب کا مسئلہ ہو، اذان کا معاملہ ہو، مذہبی جلوسوں کے تنازعات ہوں یا کوئی مقامی واقعہ، متعدد مباحث کو مذہبی رنگ دے دیا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس طرزِ صحافت سے مسلمانوں کی اجتماعی شبیہ متاثر ہوتی ہے اور اصل عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
ان کے نزدیک جب بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، صحت، کسانوں کے مسائل اور امتحانی بے ضابطگیاں ملک کے بڑے چیلنجز ہوں تو میڈیا کی اولین ترجیح بھی یہی موضوعات ہونے چاہئیں۔انجنا اوم کشیپ کے بیان کے خلاف صرف خان سر ہی نہیں بلکہ متعدد معروف آن لائن اساتذہ اور تعلیمی شخصیات نے بھی آواز اٹھائی۔ نیتو سنگھ ٹیچر، بابیتا میم، محمد کاشف، عادل خان، وکاس دیوکیرتی اور دیگر تعلیمی یوٹیوبرز نے مختلف پلیٹ فارمز پر اس بیان پر اعتراض کرتے ہوئے اسے اساتذہ اور طلبہ دونوں کی توہین قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوچنگ انڈسٹری یا بعض افراد پر تنقید مقصود ہو تو اس کا حق ہر کسی کو حاصل ہے، لیکن پورے تدریسی طبقے کو "دو کوڑی کا” قرار دینا غیر منصفانہ اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو ہے۔بعض اساتذہ اور سوشل میڈیا صارفین نے ردعمل میں انجنا اوم کشیپ کی صحافت کو "پھوٹی کوڑی کی صحافت” تک قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر قوم کے اصل مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور اساتذہ کی تضحیک کی جائے تو عوام بھی صحافت کے معیار پر سوال اٹھانے کا حق رکھتے ہیں۔
اس تنازع کے دوران ایک اور پہلو بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور تبصروں میں متعدد صارفین نے نشاندہی کی کہ جن اساتذہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، ان کے خلاف گفتگو کے دوران بعض محاوروں اور الفاظ کا استعمال بھی درست انداز میں نہیں کیا گیا۔
مبصرین کا کہنا تھا کہ صحافت ایک سنجیدہ پیشہ ہے جس میں زبان و بیان پر مضبوط گرفت بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔ اسی لیے بعض حلقوں نے سوال اٹھایا کہ دوسروں کی علمی صلاحیت پر تنقید کرنے والوں کو اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے حوالے سے بھی عوامی جانچ پڑتال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
شدید عوامی ردعمل اور آن لائن اساتذہ کے احتجاج کے بعد انجنا اوم کشیپ نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ہدف تمام اساتذہ نہیں بلکہ بعض "کوچنگ مافیا” اور ایسے نام نہاد سیلیبریٹی ٹیچرز تھے جو ان کے بقول طلبہ اور والدین کی محنت کی کمائی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے پروگرام نے NEET پیپر لیک سے متاثرہ طلبہ کی آواز بلند کی اور کوچنگ مافیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
تاہم مبصرین کے مطابق اگر مقصد کوچنگ مافیا پر تنقید تھا تو اس کے لیے پورے آن لائن تدریسی طبقے کو "دو کوڑی کے ٹیچر” اور "فراڈ” جیسے الفاظ سے مخاطب کرنا مناسب نہیں تھا۔تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب پٹنہ میں انجنا اوم کشیپ کی ایک تقریب میں شرکت کے دوران بعض افراد نے "گودی میڈیا گو بیک‘ اور "گودی میڈیا مردہ باد” کے نعرے لگائے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں یہ مناظر بڑے پیمانے پر شیئر کیے گئے اور انہیں عوام کے ایک طبقے کی ناراضی کی علامت قرار دیا گیا۔اسی دوران خان سر اور روشن سر کا تنازع بھی قومی سطح پر موضوعِ بحث بن گیا۔ روشن یادوکی گرفتاری کے بعد یہ معاملہ محض دو کوچنگ اداروں کا اختلاف نہیں رہا بلکہ اس میں سیاست، میڈیا اور سوشل میڈیا بھی شامل ہو گئے۔
سوشل میڈیا پر یہ تاثر بھی ابھرا کہ بعض بی جے پی اور جن سنگھی حلقے روشن یادوسر کی حمایت میں سرگرم ہیں، جبکہ خان سر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ تعلیمی مسابقت اور ذاتی رقابت کا ہے جسے سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق روشن سر کو خان سر کے کوچنگ ادارے پر مبینہ حملے، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جبکہ ان کے حامی اس کارروائی کو یک طرفہ قرار دیتے رہے۔
خان سر، جن کا اصل نام مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق فیصل خان بتایا جاتا ہے، پہلے ہی اپنے منفرد تدریسی انداز اور سماجی و سیاسی موضوعات پر تبصروں کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔ انجنا اوم کشیپ کے متنازع بیان کے بعد انہوں نے نہایت سخت ردعمل ظاہر کیاانھوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ "دو ہزار کے نوٹ میں چِپ کیسے لگائی جاتی ہے”۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام کو بتایا جائے کہ "تلوے کیسے چاٹے جاتے ہیں”۔ ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ محنت کی کمائی کھاتے ہیں، اس لیے کسی کا نام لینے سے نہیں ڈرتے نہ ہی تلوے چاٹتے ہیں، جبکہ بعض لوگ "دلالی کی کمائی” پر چلتے ہیں۔ ان کے یہ بیانات سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر وائرل ہوئے۔
کوچنگ ٹیچر ببیتا مام نے کہا کہ میں نے ایک اور بات نوٹ کی۔ انجنا اوم کشیپ کی حالیہ ویڈیوز کا جائزہ لیا جائے تو ان کی گفتگو میں ایک طرح کی لڑکھڑاہٹ اور جھجک محسوس ہوتی ہے۔ الفاظ بار بار اٹک رہے ہیں اور اندازِ بیان میں پہلے جیسا اعتماد دکھائی نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی بڑے پیمانے پر عوامی مخالفت انسان کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ خواہ کوئی کتنا ہی بااعتماد، ذہین اور تجربہ کار کیوں نہ ہو، دنیا کے بڑے رہنماؤں کے انٹرویوز کر چکا ہو اور طاقتور شخصیات سے بے باکی کے ساتھ سوالات پوچھنے کا عادی ہو، لیکن جب اسے یہ احساس ہو کہ عام لوگ اس کے خلاف کھڑے ہیں تو اس کے اعتماد پر اثر پڑنا فطری بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انجنا اوم کشیپ کی گزشتہ روز کی پیشکش میں بھی یہ تبدیلی واضح طور پر محسوس ہوئی۔ وہ تنقید کے ساتھ ساتھ بار بار یہ بھی کہتی نظر آئیں کہ بعض اساتذہ اور کئی لوگ اچھا کام بھی کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی متعدد افراد نے تبصرہ کیا کہ ان کا لہجہ اور اندازِ گفتگو بدل گیا ہے۔
ببیتا مام کے مطابق یہ ایک مثبت بات ہے کہ وہ عوامی ردِعمل اور دباؤ کو محسوس کر رہی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب وہ سوچے سمجھے بغیر کوئی بات نہیں کر سکتیں، کیونکہ یہ معاملہ ایسے طبقے سے متعلق ہے جو تعلیم یافتہ، باشعور اور حالات کا گہرا ادراک رکھتا ہے۔ خاص طور پر مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کو کم سمجھنا یا ان کی رائے کو نظرانداز کرنا آسان نہیں۔انیل کمارکوچنگ ٹیچر نے کہا کہ خان سر کو آج بھی عوام کی جانب سے عزت اور احترام حاصل ہے، لیکن بعض میڈیا اداروں نے انہیں "فیصل خان” بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہی میڈیا آگے چل کر انہیں دنگائی قرار دے سکتا ہے، پھر ان کا پاکستان سے تعلق جوڑنے کی کوشش کرے گا اور بالآخر انہیں ملک دشمن ثابت کرنے کی مہم بھی چلائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آج راجستھان میں آن لائن تعلیم کے میدان میں کسی ایک شخصیت کو نمایاں مقام حاصل ہے تو وہ سبھاش تانڑ ہیں، جبکہ قومی سطح پر آن لائن تعلیم کا ذکر ہو تو خان سر کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔
ان کی مقبولیت مذہب اور فرقے سے بالاتر ہے اور ہندو، مسلم سمیت ہر طبقے کے طلبہ ان سے استفادہ کرتے ہیں۔انیل کمار کا کہنا تھا کہ طلبہ کا ماننا ہے کہ اگر خان سر نہ ہوتے تو معیاری اور کم خرچ تعلیم عام لوگوں کی پہنچ میں نہ آتی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خان سر کی کوششوں کے باعث غریبوں کے لیے فلاحی خدمات اور سہولتوں کی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بعض میڈیا ادارے اس بات سے پریشان ہیں کہ روایتی میڈیا شخصیات کے مقابلے میں اساتذہ کو زیادہ مقبولیت اور عوامی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر تنازعات اور تنقید کے باوجود وہ اور ان جیسے بے شمار طلبہ خان سر کے ساتھ تھے، ہیں اور آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
انجنا اوم کشیپ پر تنقید کے بعد خان سر کے حامیوں نے اسے اساتذہ کے وقار کا دفاع قرار دیا جبکہ مخالفین نے ان کے سخت لہجے پر اعتراض کیا۔ اسی دوران سوشل میڈیا کے بعض حلقوں، خصوصاً ہندوتوا اور جن سنگھی فکر سے وابستہ بعض افراد کی جانب سے خان سر کے خلاف مہم بھی دیکھی گئی۔ بعض پوسٹوں اور بیانات میں ان سے بہار چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ ان کے حامیوں نے اسے ایک مقبول استاد کے خلاف منظم مہم قرار دیا۔
تاہم یہ مطالبات زیادہ تر سوشل میڈیا اور سیاسی مباحث تک محدود رہے اور انہیں کسی سرکاری موقف کے طور پر نہیں دیکھا گیا۔مبصرین کے مطابق روشن سر کی گرفتاری، انجنا اوم کشیپ تنازع، خان سر کے ردعمل، طلبہ کے احتجاج اور اس کے بعد سامنے آنے والی سیاسی و نظریاتی صف بندیوں نے اس پورے معاملے کو محض دو کوچنگ اداروں کے اختلاف سے کہیں آگے بڑھا دیا ہے
آج یہ تنازع تعلیم، میڈیا، سیاست اور سوشل میڈیا کے باہمی اثرات کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے۔اس بحران کا ایک اور پہلو عالمی سطح پر ہندوستان کی صحافتی ساکھ ہے۔ صحافتی آزادی پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں ہندوستان کی درجہ بندی مسلسل بحث کا موضوع رہی ہے۔
اس پورے بحران کا ایک اور پہلو عالمی سطح پر ہندوستان کی صحافتی ساکھ ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں ہندوستان کی درجہ بندی مسلسل تنقید کا موضوع رہی ہے۔ 2026 میں ہندوستان 180 ممالک میں 157 ویں مقام پر رہا۔مبصرین کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے لیے یہ صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ صحافت اپنی پیشہ ورانہ ساکھ، غیر جانبداری اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج بحث صرف "دو کوڑی کے ٹیچر” کے ایک جملے تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سوال بن چکی ہے کہ قوم کے اصل معمار کون ہیں اور عوام کے حقیقی مسائل کی ترجمانی کون کر رہا ہے۔ جب اساتذہ، طلبہ اور عام شہری میڈیا سے جواب طلب کرنے لگیں تو یہ محض ایک تنازع نہیں بلکہ معاشرے میں اعتماد کے بحران کی نشاندہی بھی ہوتا ہے۔۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا سنسنی خیزی، غیر ضروری مباحث اور فرقہ وارانہ موضوعات سے نکل کر عوامی مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے، تعلیم اور اساتذہ کے مقام و مرتبے کا احترام کرے، نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے سوالات کو سنجیدگی سے اٹھائے اور صحافت کو دوبارہ عوامی اعتماد کا ادارہ بنانے کی کوشش کرے۔
کیونکہ مضبوط تعلیم، آزاد صحافت اور جوابدہ نظام ہی کسی بھی قوم کی ترقی، استحکام اور عالمی وقار کی حقیقی ضمانت ہوتے ہیں۔جمہوریت میں استاد اور صحافی دونوں ناگزیر ہیں، لیکن دونوں کا احتساب بھی ضروری ہے۔ استاد کی کامیابی اس کے شاگردوں سے ناپی جاتی ہے اور صحافی کی کامیابی اس کی سچائی، غیر جانبداری اور عوامی مفاد سے وابستگی سے۔
مضبوط تعلیم، آزاد صحافت اور جوابدہ نظام ہی کسی بھی قوم کی ترقی، استحکام اور عالمی وقار کی حقیقی بنیاد ہوتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو قوموں کو علم دیتے ہیں اور عوام کو سچائی سے آگاہ کرتے ہیں، نہ کہ انہیں جو وقتی شور اور سنسنی پیدا کرتے ہیں۔
