اتر پردیش میں مسجد کے امام کو بندوق کی نوک پر ” جے شری رام” کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا
دو ملزمین گرفتار ، تیسرا فرار
باغپت :۔23؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)
اتر پردیش کے باغپت ضلع میں ایک مسجد کے امام کو حال ہی میں بندوق کی نوک پر مبینہ طور پر ‘جے شری رام’ کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔ نعرہ لگانے سے انکار کرنے پر ان پر حملہ کیا گیا۔
یہ واقعہ 18 جولائی کو پیش آیا اور اگلے دن مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک دو افراد – راہول کمار اور باغپت شہر کے جتیندر کمار کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔
شہر قاضی حبیب الرحمن کے بیٹے مجیب الرحمٰن نےنے صحافیوں کو بتایاکہ "میں عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد گھر واپس جا رہا تھا کہ تین نوجوانوں نے مجھے روکا میرے گلے میں زعفرانی اسکارف ڈالا میری طرف ہتھیار سے اشارہ کیا اور مجھ سے جے شری رام اورہندوستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کو کہاجب میں نے جئے شری رام کہنے سے انکار کیا تو انہوں نے مجھے مکے مارے اور لاتیں ماریں مجھ پر حملہ کیا۔
امام مجیب الرحمن نے مزید الزام لگایا کہ اعلیٰ پولیس افسران کی مداخلت کے بعد ہی کارروائی کی گئی۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ ہم نے بدھ (19 جولائی) کو پولیس سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کی
جب کوتوالی پولیس ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔ لیکن پولیس نے مبینہ طور پر ایک دن بعد جب سینئر افسران کی مداخلت پر مقدمہ درج کر لیا۔ دو ملزمان کو بدھ کی شام گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ منیش مشرا نے کہا کہ ہم نے دو ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے اور تیسرے کی تلاش کر رہے ہیںافسر نے دعویٰ کیا کہ شکایت درج ہوتے ہی پولیس نے کارروائی کی۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے تینوں ملزمان کی شناخت کر لی ہے۔
واضح رہے کہ باغپت ضلع میں مسلمانوں کی کافی آبادی ہے۔۔ ایک پندرہ دن پہلے کچھ نامعلوم افراد نے وہاں ایک مزار کو زعفرانی رنگ دیا تھا۔
باغپت سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں سے ایک تھا جب 2013 میں مظفر نگر سے ملحقہ فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ باغپت کے ایک درجن سمیت 50 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔
