انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان کو سیلاب کا الرٹ دیا گیا۔ہندوستانی وزارتِ خارجہ
100 سال میں دوسری سب سے بڑی بارش ریکارڈ
نئی دہلی، 25 اگست
(انٹرنیٹ ڈیسک)
ہندوستان نے پاکستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جموں و کشمیر کے دریائے توی میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام محض انسانی امداد اور دونوں ممالک کے عوام کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن نے اتوار کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو سیلاب کے خدشات سے متعلق وارننگ فراہم کی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ہائی کمیشن کے ذریعے براہِ راست اس نوعیت کی معلومات پاکستان کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں۔عام طور پر اس طرح کی معلومات انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت دونوں ممالک کے واٹر کمشنرز کے درمیان تبادلہ ہوتی تھیں، لیکن رواں سال اپریل میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کی جانب سے معاہدہ معطل کر دیے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ مواصلات تقریباً بند ہو گئے تھے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق جموں میں اتوار کی صبح 8:30 بجے تک 24 گھنٹوں میں 190.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جو گزشتہ 100 برس میں اگست کے مہینے کی دوسری سب سے بڑی بارش ہے۔ اس سے قبل اگست 1926 میں 228.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی تھی۔
پاکستانی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندوستان نے یہ معلومات سندھ طاس معاہدے کے تحت شیئر کی ہیں۔ تاہم بھارتی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ یہ اقدام کسی معاہدے کے تحت نہیں بلکہ محض انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت کو مشرقی دریاؤں کے پانی کے استعمال کا حق حاصل ہے جبکہ مغربی دریاؤں کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد بھارت نے اس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔