ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کے باوجود ایران کا اسرائیل پر میزائل حملہ؛ 3 ہلاک، متعدد زخمی
ایرانی وزیر خارجہ نے جنگ بندی کی خبروں کو مسترد کر دیا
اسرائیلی فوج خاموش، عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ
تہران؍تل ابیب:۔24؍
( زین نیوز انٹر نیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے صرف چند گھنٹے بعد ہی ایران نے اسرائیل پر آٹھ بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے ایک اسرائیلی شہر بیر شیبہ میں ایک عمارت پر گرا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنگ بندی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ "اگر اسرائیل ایرانی شہریوں پر حملے بند کر دے تو ایران بھی فوجی کارروائیاں روکے گا، لیکن اب تک ایسی کوئی ضمانت ہمیں موصول نہیں ہوئی۔
"اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر صبح 3:30 بجے اعلان کیا تھا:> "مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی اب سے 6 گھنٹے بعد نافذ العمل ہو جائے گی۔ ایران پہلے 12 گھنٹے تک ہتھیار ڈالے گا، اس کے بعد اسرائیل اگلے 12 گھنٹے تک کوئی حملہ نہیں کرے گا۔
یوں دونوں ممالک جنگ کے خاتمے پر متفق ہو چکے ہیں۔”قطر میں امریکی اڈے پر حملہاس اعلان سے کچھ ہی دیر پہلے ایران نے قطر میں امریکی العدید ایئر بیس پر 19 میزائل داغے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق حملے سے قبل ایران نے ’نوٹ آف الرٹ‘ جاری کیا تھا، جس کے نتیجے میں امریکی فورسز نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں اور جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔
اس حملے کو ایران کی جانب سے امریکا کو واضح انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اسرائیلی فوج کی خاموشینیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان نے صدر ٹرمپ کے جنگ بندی بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں بھی اس حوالے سے خاموشی چھائی ہوئی ہے،

جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی فیصلہ ساز ممکنہ طور پر صورتحال کا ازسرِ نو جائزہ لے رہے ہیں۔عالمی ردِعمل اور خطراتبین الاقوامی سطح پر اس اچانک کشیدگی کے بعد خدشات بڑھ گئے ہیں کہ ایران اور اسرائیل کی یہ محاذ آرائی خطے میں وسیع تر جنگ میں بدل سکتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری جنگ بندی پر زور دیا ہے۔ چین اور روس نے بھی اس تناؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔تجزیہ ماہرین کے مطابق ایران کا اسرائیل اور امریکی مفادات پر بیک وقت حملہ، ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد میدانِ جنگ میں برتری اور سفارتی میز پر دباؤ قائم رکھنا ہے۔
دوسری طرف، اسرائیل کی خاموشی اور امریکا کی احتیاطی حکمت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ فریقین فوری طور پر مکمل جنگ سے گریز چاہتے ہیں، تاہم صورتحال کسی بھی وقت بھی بگڑ سکتی ہے
