ایران-اسرائیل جنگ بند، مغربی ایشیا میں سکون، امریکہ کی ثالثی سے جنگ بندی نافذ
واشنگٹن ؍ تل ابیب؍ تہران25:۔جون
(انٹرنیشنل ویب ڈیسک)
مغربی ایشیا کا جنگ زدہ ماحول بالآخر سکون کی طرف لوٹ رہا ہے۔ اسرائیل اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے اور یہ معاہدہ منگل کی علی الصبح سے نافذ العمل ہوگیا۔ اس سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ اعلان کیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے جنگی طیارے خاموش ہوگئے۔
تاہم معاہدے کے تین گھنٹوں کے اندر ہی ایران نے میزائل داغے جانے کا الزام اسرائیل نے عائد کیا اور جوابی کارروائی کی دھمکی دی، مگر صدر ٹرمپ کی سخت تنبیہ پر اسرائیلی طیارے واپس بلا لیے گئے۔ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ جنگ بندی پر قائم ہے اور کسی قسم کی جارحیت نہیں کی۔ روس، سعودی عرب اور مصر نے جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔
قطر میں امریکی فضائی اڈے پر ایران کے محدود حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ تاہم اس سے قبل اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے جن کے ردعمل میں ایران کی جانب سے کی گئی جوابی کارروائی میں چار اسرائیلی شہری ہلاک ہوگئے۔ ٹرمپ کے اعلان کے فوراً بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی، جبکہ ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پیغام دیتے ہوئے کہا: "جنگ بندی نافذ ہوچکی ہے، براہ کرم اس کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔” بعد ازاں نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ جنگ بندی کا یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی ثالثی سے ممکن ہوا ہے، تاہم اگر خلاف ورزی ہوئی تو جوابی کارروائی ناگزیر ہوگی۔ انہوں نے کابینہ کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے تمام جنگی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے بھی کہا کہ ایران پر حالیہ حملوں کے بعد اسرائیل جنگ بندی پر آمادہ ہوا، اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ایران نے اس پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای ان مذاکرات کا حصہ تھے یا نہیں۔ البتہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کے مقامی وقت کے مطابق منگل کی صبح 4 بجے جنگ بندی نافذ کی گئی۔صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر دونوں ممالک کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا: "بمباری بند کرو۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ سنگین خلاف ورزی ہوگی۔ اپنے پائلٹ فوراً واپس بلاؤ۔”امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا کہ اگر ایران دوبارہ جوہری ہتھیاروں کی جانب بڑھا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے امریکہ کی اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکا جائے گا۔ہندوستان میں ایران کے سفیر ایراج الٰہی نے تصدیق کی کہ ایران نے قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کا کوئی دوسرا ملک ایسا کرنے کی جرات نہیں کرسکا، مگر ایران نے یہ کر دکھایا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران بھی ہر حملے کا منہ توڑ جواب دے گا۔پیر کی رات ایران نے عراق میں موجود امریکی اڈوں پر ڈرون حملے کیے، جن میں بعض مقامات پر ریڈار نظام تباہ ہوا۔ عراقی فوج کے ترجمان صبا النعمان نے بتایا کہ بغداد کے شمال میں کیمپ تاجی اور ذی قار صوبے کے امام علی اڈے میں ریڈار سسٹمز تباہ کیے گئے، جبکہ دیگر حملے ناکام بنا دیے گئے۔
ایک امریکی افسر نے بتایا کہ مغربی عراق کے عین الاسد اڈے اور بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایک اور اڈے پر بھی حملے ناکام بنائے گئے۔قطر کے میجر جنرل شایخ الحاجری نے بتایا کہ ایران نے ان کے ملک پر 19 میزائل داغے۔ تاہم صدر ٹرمپ کے مطابق ایران نے 14 میزائل فائر کیے، جن میں سے 13 کو ناکام بنایا گیا، جبکہ ایک کو خطرہ نہ ہونے کی وجہ سے نظر انداز کر دیا گیا۔
قطر حکومت نے ایران کے سفارت کار کو طلب کر کے واضح کیا کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔پیر کی شب خلیجی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کردی تھیں، تاہم منگل کی صبح انہیں دوبارہ کھول دیا گیا اور قطر سے فضائی پروازیں بحال ہو گئیں۔اس بارہ روزہ جنگ میں دونوں ممالک کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
ایران کے حملوں میں 24 اسرائیلی شہری ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے، جب کہ اسرائیلی حملوں میں 974 ایرانی جاں بحق اور 3,458 افراد زخمی ہوئے۔جنگ کے دوران امریکہ نے اسرائیل میں مقیم 250 امریکی شہریوں کو نکال لیا۔ اسرائیل میں تقریباً 7 لاکھ امریکی شہری مقیم ہیں، جن میں سے بعض کے پاس دوہری شہریت بھی ہے۔
روس نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ فیصلہ مستقل امن کا راستہ ہموار کرے گا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس ابتدا سے ہی خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی صبح، جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی ایران نے 20 میزائل داغے، جن میں سے متعدد میزائل بیئر شیبع شہر میں شہری آبادی والے علاقوں پر گرے۔ فوجی ترجمان کے مطابق تین رہائشی عمارتوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، اور ملبے سے چار افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔
ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد پانچ بتائی گئی تھی، جسے بعد ازاں چار قرار دیا گیا۔ حملے میں 20 افراد زخمی ہوئے، جب کہ کئی گاڑیاں جل کر خاکستر ہوگئیں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ جائے وقوعہ پر تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے بعد ملک کے شمالی علاقوں میں سائرن بجائے گئے، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
بعض پروازوں کو درمیانی مدت کے لیے منسوخ یا موخر کرنا پڑا، اور کئی طیاروں کو بحیرۂ روم کے اوپر چکر لگانے پڑے کیونکہ فضائی اڈوں کو عارضی طور پر بند کیا گیا۔اسرائیل نے ایران پر جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے، تاہم ایران نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے عہد پر قائم ہے اور کسی قسم کی جارحیت میں ملوث نہیں