اسرائیل نے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں 30 یہودیوں کو گرفتار کرلیا۔
نئی دہلی :۔12؍ڈسمبر
(زین نیوز ورلڈ ڈیسک)
اسرائیلی حکام نے ایران کے لیے جاسوسی کے شبہ میں تقریباً 30 افراد کو گرفتار کیا ہے۔جن میں زیادہ تر یہودی شہری ہیں ۔ وہ سلیپر سیل بن کر ایران کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔مشتبہ افراد مبینہ طور پر نو خفیہ خلیوں کا حصہ تھے جو فوجی دفاع کے بارے میں انٹیلی جنس جمع کرنے اور اسرائیل کے اندر تخریب کاری کی منصوبہ بندی کے لیے ذمہ دار تھے ۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جنہوں نے مبینہ طور پر نو خفیہ سیلوں میں ایران کے لیے جاسوسی کی تھی، نے ملک میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اس نے اسرائیل کے فوجی اڈوں اور فضائی دفاعی نظام کے بارے میں معلومات اکٹھی کی تھیں۔
جاسوسی کے الزام میں 30 یہودیوں کی گرفتاری سے اسرائیل کی سکیورٹی ایجنسی موساد اور شن بیٹ کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی ایجنسی شن بیٹ کے مطابق سلیپر سیل کا نشانہ ایک اسرائیلی ایٹمی سائنسدان اور سابق فوجی افسر تھے۔
اس کے علاوہ اس سیل میں شامل کچھ لوگوں نے اسرائیلی فوج کے اڈوں اور فضائی دفاع کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کیں۔ روئٹرز کے مطابق یہودیوں کی گرفتاری اسرائیل کے لیے تشویشناک ہے۔
سیکیورٹی سروس شن بیٹ نے کہا ہے کہ مبینہ سیلز کے نامکمل اہداف میں ایک اسرائیلی ایٹمی سائنسدان اور سابق فوجی عہدیداروں کا قتل تھا، جب کہ ایک گروپ نے فوجی اڈوں اور فضائی دفاع کے بارے میں معلومات اکٹھی کی
شن بیٹ نے کہا کہ ایک باپ بیٹے کو بھی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران انکشاف ہوا کہ اس نے شام کی سرحد سے متصل گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی فوج کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات دی تھیں۔
گولان ہائٹس تقریباً 1800 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایک پہاڑی علاقہ ہے جس کا ایک تہائی حصہ اسرائیلی فوج کی نگرانی میں ہے۔ ایسے میں اسے اسرائیل میں سیکیورٹی کی ایک بڑی خامی قرار دیا جا رہا ہے۔ شن بیٹ کے مطابق اس سے قبل گرفتار کیے گئے ایرانی جاسوسوں کی زیادہ تر اقسام دیواروں پر نیتن یاہو کے خلاف پوسٹر لگاتے تھے اور حکومت مخالف باتیں لکھتے تھے۔
اسرائیلی سیکیورٹی حکام کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں ایرانی خفیہ ایجنسیوں نے اسرائیل کے خلاف خفیہ معلومات حاصل کرنے اور پیسوں کے عوض حملے کرنے کے لیے اسرائیلی افراد کو بھرتی کرنے کی کوشش کی جس کے بعد اسرائیل نے ان ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
اسرائیل کی سیکیورٹی ایجنسی شن بیٹ کے سابق اہلکار شالوم بن حنان نے جاسوسی کے الزام میں یہودی شہریوں کی گرفتاری پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑا واقعہ ہے۔ ملزمان نے جان بوجھ کر خفیہ معلومات اکٹھی کیں اور اپنے ہی ملک میں بدامنی پھیلانے کے لیے پیسے لے کر ایران کے لیے کام کیا۔
گزشتہ دہائی تک ایران کا جاسوسی کا طریقہ مختلف تھا۔ اس میں بہت کم عام لوگ شامل تھے۔ ایران نے گونن سیگیو کو بھرتی کیا تھا، جو کہ ایک اعلیٰ کاروباری شخصیت اور کابینہ کے سابق وزیر تھے۔
حال ہی میں ایران کی جانب سے نشانہ بنائے گئے کچھ اسرائیلی افراد کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، جن میں ایک تارک وطن، ایک فوجی اور ایک جنسی مجرم شامل ہیں۔