امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی کا خطاب
دیوبند:۔ 4؍ڈسمبر
(رضوان سلمانی) جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا ہے کہ برادرانِ وطن اسلام کے تعلق سے جن غلط فہمیوں اور منافرت کا شکار ہیں انھیں دور کرناہم سب کی ذمہ داری ہے۔
سعادت اللہ حسینی جماعت اسلامی ہند کی جدو جہد کے 75سال کے تعلق سے ایک یو ٹیوب سیشن کے ذریعہ وابستگان جماعت، ارکان کارکنان، طلبہ تنظیم اسٹو ڈینٹس اسلامک آرگنائزیشن، گرلس اسلامک آرگنائزیشن، متفقین جماعت و دیگر دانشورانِ ملت سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے جماعت کی اب تک کی کارکردگی پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جماعت کی تشکیل 16؍ اپریل 1948 کو جہاں ایک طرف اقامت دین کے لیے کی گئی تھی وہیں آزادی کے بعد جماعت کی کوشش یہی تھی کہ فرقہ پرستانہ ذہنیت کا سد باب کرتے ہوئے مسلم طبقے کو بے جا خوف اور اندیشوں سے باہر نکالا جائے۔
اس کے لئے جماعت نے نہ صرف دینی تشخص کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا بلکہ یہاں کے باشندوں کو باعزت زندگی گزارنے کا صحیح راستہ بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت نے تعلیم یافتہ مسلمانوں میں دینی شعور بیدار کیا اور کالج و یونیورسٹیوں کے طلباء کا دین کی طرف رجحان بھی پیدا کیا۔
دین پر اعتماد بحال کرنے کے ساتھ ساتھ جماعت نے انھیں دین و ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کرنے کی تلقین بھی کی۔ انہوں نے کردار سازی کی طرف خصوصی توجہ دے کر لوگوں کے اندر ڈائنامک تحریک پیدا کی۔جس کی بدولت آج تعلیم یافتہ طبقہ اور طلباء دین کی اشاعت و تبلیغ میں گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہو ںنے کہا کہ تعلیم کے معاملے میں دنیوی و دینی تعلیم کے فرق کا خاتمہ کیا، سیاست میں اخلاقی قدروں کی پاسداری، اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ملک کے مسائل کا حل پیش کرنے کا ایجنڈہ، پوری نسل کی تربیت اور نئے خواب و نئی آرزو کو پروان چڑھانے میں اہم رول ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت نے امت کے باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے کی بھی کامیاب کوشش کی۔مسلکوں اور فرقوں میں بٹی قوم کو یکجا کرنے میں اہم کامیابی حاصل کی۔قرآن فہمی کے حلقے شروع کیے جو جماعت کی شناخت بن گئے، مختلف علاقائی زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کرائے۔آج تمام طبقے قرآن فہمی میں سرگرم ہیں۔
مسلکی اختلافات کو دور کرنے کی غرض سے تمام مسلکوں کو ایک ساتھ لانے کا کارنامہ انجام دیا ، اجتماعی زندگی کا شعور بیدار کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ جماعت میں موروثی و خاندانی قیادت کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔بڑی آسانی کے ساتھ شوریٰ کے ذریعہ امیر کا انتخاب ہو جاتا ہے۔اور قیادت بدل جاتی ہے۔
جس کی نذیر ملنا نا گزیر ہے۔حجاب تحریکی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں ہے۔خواتین کی بڑی تعداد تحریک اسلامی میں اہم رول ادا کر رہی ہیں۔پورے ملک میں جماعت اسلامی نے اصولوں کی روشنی میں اسلامی قدروں کی ترویج کی۔برادران وطن میں اسلام کی دعوت پیش کی۔
مذہبی منافرت کو دور کرنے کے لئے عید ملن پروگرام، سدبھائونا منچ کا قیام، مختلف مذاہب کے مابین مذاکرات کی پہل کی تاکہ اسلام کے خلاف منافرت میں کمی آئے اور نفرتوں کا ماحول دور ہٹے۔انہوں نے آخر میں جماعت کے کیڈر کو مزید بڑھانے نیز اسلام کی دعوت کو مزید عام کرنے، نوجوانوں کی کردار سازی کرنے، قرآن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اس پیغام کو بندگانِ خدا تک پوری ذمہ داری کے ساتھ پہنچانے کی اپیل کی۔ ان کے اس یو ٹیوب سیشن سے ہزاروں لوگوں نے آن لائن استفادہ کیا۔