چیف جسٹس وپل منوبھائی پنچولی کو سپریم کورٹ میں جج مقرر کرنے کی سفارش کی سخت مخالفت
عدلیہ کے لیے نقصان دہ۔سپریم کورٹ جج جسٹس بی وی ناگرتھنا
نئی دہلی: 27؍ اگست
(زیڈ این میڈیا سرویس)
سپریم کورٹ کی جج جسٹس بی وی ناگرتھنا نے پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وپل منوبھائی پنچولی کو سپریم کورٹ میں جج مقرر کرنے کی سفارش کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ تقرری عدلیہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔اگر جسٹس پنچولی سپریم کورٹ کے جج بن جاتے ہیں تو اکتوبر 2031 میں وہ چیف جسٹس آف انڈیا بننے کے اہل ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق جسٹس ناگرتھنا نے مئی ہی میں اس تجویز سے اختلاف ظاہر کیا تھا، جب پہلی مرتبہ جسٹس پنچولی کا نام سامنے آیا تھا۔ اُس وقت جسٹس این وی انجاریا کو ان سے قبل سپریم کورٹ میں مقرر کیا گیا۔ تین ماہ بعد جب دوبارہ جسٹس پنچولی کا نام تجویز ہوا تو جسٹس ناگرتھنا نے باضابطہ طور پر اختلاف درج کرایا۔
چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت میں 25 اگست کو منعقدہ کالجیم میٹنگ میں بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آلوک ارادے اور جسٹس وپل پنچولی کے نام ججوں کی حیثیت سے مرکز کو تجویز کیے گئے۔ پانچ رکنی کالجیم میں جسٹس سوریا کانت، جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس ناگرتھنا شامل تھے۔
غیر سرکاری تنظیم "مہم برائے عدالتی احتساب و اصلاحات” (CJAR) نے بھی اس معاملے پر بیان جاری کیا ہے۔ سی جے اے آر نے کہا کہ کالجیم کا 25 اگست کو جاری کردہ بیان شفافیت کے معیارات کا مذاق اڑاتا ہے۔ تنظیم کے مطابق جسٹس پنچولی کی تقرری 4-1 کی اکثریت سے منظور کی گئی، جس میں جسٹس ناگرتھنا نے اختلاف کیا۔
سی جے اے آر نے مزید کہا کہ گجرات ہائی کورٹ کے حجم کے مقابلے میں وہاں سے سپریم کورٹ میں ججوں کی نمائندگی غیر متوازن ہے۔ جسٹس پنچولی آل انڈیا سینیارٹی لسٹ میں 57 ویں نمبر پر ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ جسٹس وپل منوبھائی پنچولی کو 21 جولائی 2024 کو پٹنہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ اس سے قبل 24 جولائی 2023 کو ان کا تبادلہ پٹنہ ہائی کورٹ کیا گیا تھا جہاں وہ جج کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے 1991 میں گجرات ہائی کورٹ میں وکالت کا آغاز کیا اور اپنے کیریئر کے دوران سرکاری وکیل کے طور پر بھی کام کیا۔