انصاف جرم نہیں، آئینی ذمہ داری ہے
سزا یافتہ 14 ملزمان کی رہائی نہ ہونے پر ملک گیر قتلِ عام کی دھمکی، عدلیہ کے وقار پر سنگین سوالات
کیا قانون سے بالاتر ہو چکے ہیں انتہا پسند عناصر؟
ازتحریر : عمران زین
سینئر جرنلسٹ‘ جگتیال
ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی، ثقافتی اور لسانی تنوع کا ایک نمایاں نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ ملک کا آئین تمام شہریوں کو مذہبی آزادی، مساوات، جان و مال کے تحفظ اور قانون کے سامنے برابری کی ضمانت دیتا ہے۔ آئین کی بنیادی روح یہی ہے کہ کسی بھی شہری کے ساتھ مذہب، ذات، زبان یا عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ کیا جائے اور ہر شخص کو منصفانہ قانونی تحفظ حاصل ہو۔تاہم گزشتہ ایک دہائی کے دوران فرقہ وارانہ تعلقات، مذہبی رواداری، ہجومی تشدد، نفرت انگیز تقاریر، اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی جیسے موضوعات قومی بحث کا اہم حصہ بن گئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں، قانونی ماہرین، سابق جج صاحبان، سماجی کارکنوں اور متعدد مبصرین نے بارہا اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق بلکہ آئینی اداروں کی ساکھ کے بارے میں بھی سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں۔سن 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے ایسے متعدد واقعات سامنے آئے جن میں گائے کے تحفظ، مویشیوں کی نقل و حمل، گوشت رکھنے یا گؤ رکشا کے نام پر افراد کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات میں کئی مسلم شہریوں کے علاوہ دلت اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد بھی متاثر ہوئے۔
متعدد واقعات میں متاثرین کو محض شبہے کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعد میں کئی معاملات میں الزامات ثابت بھی نہ ہو سکے۔اسی عرصے کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات، سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مہمات، مذہبی شناخت کی بنیاد پر تعصب، حب الوطنی پر سوالات اور فرقہ وارانہ بیانیے بھی مسلسل قومی بحث کا موضوع بنتے رہے۔
متعدد مواقع پر مسلمانوں کو "پاکستانی”، "دہشت گرد” اور دیگر توہین آمیز القابات سے مخاطب کیے جانے کے واقعات سامنے آئے، جس سے اقلیتی برادریوں میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا۔اس تمام پس منظر میں ہجومی تشدد کے مقدمات میں آنے والے عدالتی فیصلے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں، کیونکہ یہ صرف چند ملزمان کی سزا کا معاملہ نہیں بلکہ آئین، قانون کی حکمرانی، کی آزادی اور شہری حقوق کے تحفظ سے جڑا ہوا سوال ہے۔
گائے کے نام پر ہونے والے تشدد اور نفرت انگیز مہمات کے تناظر میں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ہندوستان کو عالمی تجارتی اعداد و شمار میں اکثر دنیا کے بڑے بیف برآمد کنندگان میں شمار کیا جاتا ہے، اور بعض حالیہ عالمی تجارتی رپورٹس میں اسے دوسرے بڑے برآمد کنندگان میں بھی بتایا گیا ہے۔ملک کی مختلف ریاستوں میں سرکاری قوانین اور لائسنسوں کے تحت مذبح خانے کام کرتے ہیں جہاں گوشت کی پراسیسنگ، پیکنگ اور برآمدات کا منظم نظام موجود ہے۔
اتر پردیش، مہاراشٹر، تلنگانہ، آندھرا پردیش، پنجاب، ہریانہ اور مغربی بنگال سمیت متعدد ریاستیں اس صنعت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس شعبے سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے اور ملک کو ہر سال قابلِ ذکر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جس پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ ایک طرف گوشت کی تجارت اور برآمدات قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک منظم صنعتی سرگرمی کے طور پر جاری ہیں، جبکہ دوسری طرف گائے یا گوشت کے شبہ میں عام شہریوں کو ہجوم کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ان کے مطابق اگر کوئی سرگرمی ملکی قوانین کے تحت انجام دی جا رہی ہے تو پھر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر افراد کو سزا دینے کا اختیار کسی ہجوم کو کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ آئین کے مطابق جرم کا تعین کرنا، شواہد کا جائزہ لینا اور سزا دینا صرف عدالتوں کا اختیار ہے، نہ کہ کسی تنظیم، گروہ یا مشتعل ہجوم کا۔بعض مبصرین اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہندوستان کی گوشت برآمدی صنعت میں کئی ایسی کمپنیاں شامل ہیں جن کے نام عربی یا اسلامی طرز کے معلوم ہوتے ہیں، لیکن مختلف میڈیا رپورٹس اور عوامی مباحث میں یہ دعوے کیے جاتے رہے ہیں کہ ان کے مالکان یا سرمایہ کار مختلف مذہبی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔
بعض حلقے ہیل، عربین ایکسپورٹس، النور ایکسپورٹس، اے او وی ایکسپورٹس اور اسٹینڈرڈ فروزن جیسی کمپنیوں کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔ ان دعوؤں کے بارے میں ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر یہ معلومات درست ہیں تو اس پہلو پر بھی غیر جانب دارانہ بحث ہونی چاہیے، تاہم ایسے دعوؤں کی تصدیق متعلقہ کمپنیوں کے سرکاری ریکارڈ اور کارپوریٹ دستاویزات کی بنیاد پر ہی کی جانی چاہیے۔یہی حلقے یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر گوشت کی تجارت ایک قانونی کاروبار ہے اور حکومت کی نگرانی میں انجام دی جاتی ہے، تو پھر عام شہریوں کو محض شبہ کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنانے کا جواز کیا ہے؟ ان کے مطابق قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ کسی بھی الزام کا فیصلہ عدالت کرے، نہ کہ مشتعل ہجوم۔
گزشتہ برسوں کے دوران دادری، الور، جھارکھنڈ، راجستھان، مدھیہ پردیش، ہریانہ، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں سے ایسے متعدد واقعات سامنے آئے جن میں افراد کو گائے، مویشیوں کی نقل و حمل یا گوشت رکھنے کے شبہے میں ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ان واقعات نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کیا بلکہ یہ سوال بھی پیدا کیا کہ اگر کوئی شخص کسی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب بھی ہو تو کیا اس کی سزا سڑک پر موجود ہجوم دے سکتا ہے، یا یہ اختیار صرف عدالتوں کو حاصل ہے؟انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کا مؤقف رہا ہے کہ ہجومی تشدد دراصل قانون کی حکمرانی کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے، کیونکہ اس میں عدالت، پولیس اور قانونی عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے ہجوم خود ہی مدعی، گواہ، منصف اور جلاد بن جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے مقدمات میں آنے والے عدالتی فیصلے صرف چند افراد کی سزا تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ آئینی نظام، عدلیہ کی آزادی اور شہری حقوق کے تحفظ کی علامت بن جاتے ہیں
ہجومی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں حالیہ دنوں مدھیہ پردیش کے ضلع نرمداپورم (سابق ہوشنگ آباد) کی عدالت کا ایک فیصلہ ملک بھر میں موضوعِ بحث بن گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کی معزز جج تبسم خان نے 2022 میں مہاراشٹر کے رہائشی نذیر احمد کے ہجومی قتل کے مقدمے میں 14 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق نذیر احمد مویشیوں کی نقل و حمل کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے جب انہیں گائے لے جانے کے شبہے میں ایک مشتعل ہجوم نے روک لیا۔
بعد ازاں انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ اس مقدمے کی سماعت تقریباً چار برس تک جاری رہی، جس دوران استغاثہ نے متعدد گواہان، فرانزک شواہد اور دیگر قانونی مواد عدالت کے سامنے پیش کیا۔تمام شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد معزز جج تبسم خان نے اپنے تفصیلی فیصلے میں 14 ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ صرف ایک قتل کے مقدمے کا فیصلہ نہیں بلکہ اس بنیادی آئینی اصول کی توثیق بھی ہے کہ کسی بھی شہری کو محض شبہے کی بنیاد پر سزا دینے یا اس کی جان لینے کا اختیار کسی فرد، تنظیم یا ہجوم کو حاصل نہیں۔متعدد قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو ہجومی تشدد کے خلاف ایک مضبوط عدالتی پیغام قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ ہندوستان میں انصاف کا معیار جذبات یا عوامی دباؤ نہیں بلکہ قانون، شواہد اور آئینی اصول ہیں۔
قانونی مبصرین کے مطابق اس فیصلے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس نے یہ واضح کر دیا کہ اگر کوئی شخص کسی جرم کا مرتکب ہونے کے شبہے میں بھی ہو تو اس کے خلاف کارروائی صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتیں ہی کر سکتی ہیں۔ کسی فرد یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود ہی جرم کا فیصلہ کرے اور سزا نافذ کر دے۔ان کے مطابق اگر ہجومی تشدد کو نظر انداز کیا جائے تو اس سے ریاست کی قانونی عمل داری کمزور ہوتی ہے اور شہریوں کا عدالتی نظام پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے ایسے مقدمات میں سخت عدالتی فیصلے مستقبل میں قانون اپنے ہاتھ میں لینے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
معزز جج تبسم خان کے فیصلے کے بعد متعدد انسانی حقوق کارکنوں، قانونی ماہرین، وکلاء اور سماجی تنظیموں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔انسانی حقوق سے وابستہ حلقوں کا کہنا تھا کہ ہجومی تشدد کے متاثرین کو انصاف دلانا نہ صرف مقتول کے خاندان بلکہ پورے عدالتی نظام کے لیے اہم ہے، کیونکہ اگر ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سزا نہ ملے تو قانون کی حکمرانی کمزور پڑ جاتی ہے۔متعدد سماجی کارکنوں نے اس فیصلے کو ان تمام متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی علامت قرار دیا جو برسوں سے انصاف کے منتظر رہے ہیں۔ ان کے مطابق عدالت نے یہ واضح پیغام دیا کہ کسی بھی شخص کی جان مذہبی شناخت، افواہوں یا ہجوم کے جذبات سے کم اہم نہیں۔
قانونی حلقوں نے بھی اس فیصلے کو آئین میں دیے گئے مساوات، جان کے تحفظ اور منصفانہ سماعت کے اصولوں سے ہم آہنگ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آئین ہر شہری کو یکساں قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، خواہ اس کا مذہب، ذات یا سماجی پس منظر کچھ بھی ہو۔ مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ صرف ایک فوجداری مقدمے تک محدود نہیں بلکہ اس نے تین اہم اصولوں کو دوبارہ اجاگر کیا۔قانون کی بالادستی ہجوم کی طاقت سے بالاتر ہے۔جرم ثابت کرنا اور سزا دینا صرف عدالتوں کا اختیار ہے۔
مذہبی جذبات یا عوامی دباؤ کسی بھی عدالتی فیصلے کا متبادل نہیں ہو سکتے۔بعض قانونی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر ایسے مقدمات میں عدالتیں سخت مؤقف اختیار نہ کریں تو ہجومی تشدد کا رجحان مزید بڑھ سکتا ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق بلکہ ریاست کی قانونی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔اسی لیے معزز جج تبسم خان کا یہ فیصلہ حالیہ برسوں کے اہم عدالتی فیصلوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے ایک مرتبہ پھر اس اصول کو مضبوط کیا کہ انصاف صرف عدالت کرے گی، ہجوم نہیں۔
معزز جج تبسم خان کی جانب سے 14 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والے ردِعمل نے اس مقدمے کو مزید حساس بنا دیا۔ ذرائع اور مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں گجرات کے شہر سورت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مبینہ طور پر معزز جج تبسم خان کے خلاف نازیبا اور فرقہ وارانہ زبان استعمال کرتے ہوئے سزا یافتہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔رپورٹس کے مطابق ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر دس دن کے اندر سزا یافتہ 14 افراد کو رہا نہ کیا گیا تو ملک اور مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر تشدد برپا ہوگا۔
بعض میڈیا رپورٹس میں اس شخص کی شناخت "وشال سنگھ” کے نام سے کی گئی، تاہم اس حوالے سے تمام تفصیلات اور قانونی کارروائی کی مکمل سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اطلاعات کے مطابق متعلقہ پولیس نے ویڈیو کا نوٹس لینے کی بات کہی جبکہ سوشل میڈیا پر اس بیان کو عدلیہ کو دھمکانے اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا گیا۔میڈیا میں آنے والی معلومات کے مطابق مذکورہ تقریر میں مقرر نے نہ صرف ایک مخصوص مذہبی برادری کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز زبان استعمال کی بلکہ متعدد فحش اور نازیبا گالیاں بھی دیں۔ اس میں سزا یافتہ افراد کی رہائی نہ ہونے کی صورت میں بڑے پیمانے پر تشدد کی دھمکی دی گئی، مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے اور ایک مسلم خاتون جج کے بارے میں بھی غیر مہذب اور قابلِ اعتراض ریمارکس دیے گئے۔ مبصرین کے مطابق اگر ایسی تقاریر کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات میں ان کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ صرف اظہارِ رائے کا معاملہ نہیں بلکہ عدلیہ، قانون کی حکمرانی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے نہایت سنگین چیلنج تصور کیا جا سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف ہر شہری کا قانونی حق ہے، لیکن اس اختلاف کا اظہار آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپیل، نظرثانی یا دیگر قانونی ذرائع سے کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی معزز جج کو ان کے عدالتی فیصلے کی بنیاد پر مذہبی شناخت کے حوالے سے نشانہ بنایا جائے، دھمکیاں دی جائیں یا ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی جائے تو یہ عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرناک مثال بن سکتی ہے۔ان کے مطابق اگر جج صاحبان اپنے فیصلوں کے بعد خوف اور دباؤ کا شکار ہوں تو اس سے نہ صرف انفرادی جج بلکہ پورے عدالتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسی معاملے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر قانونی اداروں نے بھی معزز جج تبسم خان کے خلاف مبینہ دھمکیوں اور نفرت انگیز مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔قانونی برادری کا کہنا تھا کہ اگر کسی جج کو صرف اس لیے ہدف بنایا جائے کہ اس نے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا ہے، تو یہ عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی دونوں کے لیے خطرناک نظیر ثابت ہو سکتی ہے۔ ان حلقوں نے اس امر پر زور دیا کہ عدالتی فیصلوں سے اختلاف کا آئینی راستہ اپیل ہے، نہ کہ دھمکی، گالی گلوچ یا اشتعال انگیزی۔
اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھی میڈیا رپورٹس کے مطابق ازخود نوٹس لیا اور متعلقہ حکام کو معزز جج تبسم خان کی سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔قانونی ماہرین کے مطابق کسی ماتحت عدالت کے جج کی حفاظت کے لیے ہائی کورٹ کی جانب سے اس نوعیت کی مداخلت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عدلیہ اپنے ارکان کی آزادی اور سلامتی کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔
اس کے بعد ہندوستان کے سابق چیف جسٹس مارکنڈے کٹجو بھی معزز جج تبسم خان کی حمایت میں سامنے آئے۔ انہوں نے جج کو مذہبی بنیاد پر ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے اور ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے لیے بھی خطرناک رجحان ہے۔مارکنڈے کٹجو نے کہا کہ اگر کسی کو کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف ہے تو اس کے لیے قانونی راستہ اپیل کا ہے، نہ کہ جج کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انصاف کو بھی مذہبی عینک سے دیکھا جانے لگے تو یہ ایک جمہوری اور آئینی نظام کے لیے نہایت تشویشناک صورتحال ہوگی۔
اس پورے واقعے کے بعد ایک بنیادی سوال شدت سے سامنے آیا ہے کہ اگر ہجومی تشدد میں ملوث افراد کو سزا سنانے والے معزز جج ہی دھمکیوں، نفرت انگیز مہمات اور مذہبی بنیادوں پر حملوں کا نشانہ بننے لگیں تو کیا اس سے یہ تاثر پیدا نہیں ہوتا کہ کچھ عناصر خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں؟انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اصل افسوس اس بات پر ہونا چاہیے کہ ایک شہری کو ہجوم نے جان سے مار دیا، نہ کہ اس بات پر کہ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سزا کیوں سنائی۔ ان کے مطابق اگر متاثرین کو انصاف دلانا بھی تنازع کا سبب بن جائے تو یہ قانون کی حکمرانی کے لیے خطرے کی علامت ہے۔
جمہوری معاشروں میں عدلیہ کو انصاف کی آخری امید سمجھا جاتا ہے۔ اگر معزز جج صاحبان اپنے آئینی فرائض انجام دینے کے بعد خوف، دباؤ، دھمکیوں یا نفرت انگیز مہمات کا سامنا کرنے لگیں تو اس کے اثرات صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا عدالتی نظام متاثر ہوتا ہے۔ عدالتی فیصلوں سے اختلاف ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن اس اختلاف کا اظہار اپیل، نظرثانی اور دیگر قانونی ذرائع سے ہونا چاہیے، نہ کہ دھمکیوں، اشتعال انگیزی یا فرقہ وارانہ نفرت کے ذریعے۔قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالتی فیصلوں پر ردعمل کے طور پر ججوں کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے تو اس سے نہ صرف عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے بلکہ آئین کے اس بنیادی اصول کو بھی نقصان پہنچتا ہے کہ انصاف بلاامتیاز اور بلاخوف فراہم کیا جائے۔
ہجومی تشدد محض قتل یا تشدد کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ریاست کی قانونی عمل داری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ جب ہجوم خود ہی الزام لگائے، خود ہی جرم کا فیصلہ کرے اور خود ہی سزا نافذ کر دے تو آئین، عدالت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حیثیت کمزور پڑ جاتی ہے۔اسی لیے سپریم کورٹ بھی مختلف مقدمات میں ہجومی تشدد کو ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلہ قرار دے چکی ہے اور ریاستوں کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیتی رہی ہے
معزز جج تبسم خان کے فیصلے کے بعد سامنے آنے والے ردعمل نے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا آج ہندوستان میں متاثرین کو انصاف فراہم کرنا بھی بعض حلقوں کی نظر میں جرم بنتا جا رہا ہے؟اگر ایک بے گناہ شہری ہجوم کے ہاتھوں قتل ہو جائے، برسوں تک مقدمہ چلے، عدالت تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ملزمان کو سزا سنائے، اور اس کے بعد سزا سنانے والے معزز جج ہی دھمکیوں اور نفرت انگیز مہمات کا نشانہ بن جائیں تو یقیناً یہ صورتحال ایک سنجیدہ قومی بحث کا تقاضا کرتی ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اصل تشویش اس بات پر ہونی چاہیے کہ ایک شہری کو قانون سے بالاتر سمجھنے والے عناصر نے جان سے مار دیا، نہ کہ اس بات پر کہ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سزا کیوں سنائی۔
متعدد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی شخص کی جانب سے کھلے عام تشدد پر اکسانے، عدلیہ کو دھمکانے یا کسی مذہبی برادری کے خلاف نفرت پھیلانے جیسے بیانات سامنے آئیں تو ان کی فوری، غیر جانبدارانہ اور قانون کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں۔ قانون کا یکساں نفاذ ہی عوام کے اعتماد کو مضبوط بناتا ہے اور یہی جمہوری ریاست کی بنیاد ہے۔ان کے مطابق اگر قانون کا اطلاق افراد، تنظیموں یا نظریات کی بنیاد پر مختلف انداز میں کیا جائے تو اس سے انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے
مدھیہ پردیش کے نذیر احمد ہجومی قتل مقدمے میں معزز جج تبسم خان کا فیصلہ حالیہ برسوں کے ان اہم عدالتی فیصلوں میں شمار کیا جا رہا ہے جنہوں نے یہ واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو محض شبہے، افواہ یا مذہبی جذبات کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور جرم و سزا کا فیصلہ صرف عدالتیں کر سکتی ہیں۔اس فیصلے کے بعد سامنے آنے والے ردعمل، مبینہ دھمکیوں، نفرت انگیز بیانات اور عدلیہ کے خلاف مہمات نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا کچھ عناصر خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں، یا پھر ہندوستان کا آئینی نظام ایسے رجحانات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرے گا۔جمہوری معاشرے کی اصل طاقت ہجوم کی قوت میں نہیں بلکہ آئین، قانون اور آزاد عدلیہ میں ہوتی ہے۔
اگر انصاف کرنے والے معزز جج خوف سے آزاد ہوں گے تو ہی عام شہری بھی خود کو محفوظ محسوس کریں گے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہجومی تشدد میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو، متاثرین کو بروقت انصاف ملے، عدلیہ کے وقار کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے اور کسی بھی معزز جج کو ان کے قانونی فرائض انجام دینے پر دھمکیوں یا نفرت انگیز مہمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔یہی ہندوستان کے آئین، جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور تکثیری سماج کا بنیادی تقاضا ہے کہ انصاف کا فیصلہ عدالتیں کریں، ہجوم نہیں۔
