لاٹھیوں سے دب نہ سکی آواز۔ جنتر منتر سے وزیر تعلیم کے استعفیٰ تک

تازہ خبر مضامین

لاٹھیوں سے دب نہ سکی آواز۔ جنتر منتر سے وزیر تعلیم کے استعفیٰ تک
طلبہ کی تحریک نے ہندوستانی سیاست کو کیسے ہلا دیا؟طلبہ کی تحریک، لاٹھی چارج اور حکومت کی پسپائی

از تحریر : عمران زین
سینئر جرنلسٹ ‘ جگتیال
ہندوستان کی جمہوری تاریخ میں بعض اوقات ایسے عوامی احتجاج سامنے آتے ہیں جو صرف کسی ایک مطالبے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے نظام، حکومتی طرزِ عمل اور عوامی اعتماد پر سوالات کھڑے کر دیتے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ کی جانب سے شروع ہونے والی تحریک بھی اسی نوعیت کی ایک اہم عوامی مہم بن کر ابھری۔ اس تحریک کا آغاز امتحانی بے ضابطگیوں، سوالیہ پرچوں کے افشا ہونے، بھرتی کے عمل میں شفافیت اور نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کے مطالبات سے ہوا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ احتجاج صرف تعلیمی مسائل تک محدود نہ رہا بلکہ حکومت کی جوابدہی، انتظامی شفافیت اور نوجوانوں کے حقوق کی قومی بحث میں تبدیل ہو گیا۔

دہلی کا جنتر منتر، جو برسوں سے مختلف عوامی تحریکوں کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس بار بھی ہزاروں طلبہ کا مرکز بنا۔ ملک کی مختلف ریاستوں سے نوجوان یہاں جمع ہوئے تاکہ حکومت تک اپنا پیغام پہنچا سکیں۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کا مؤقف تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ اپنے مستقبل، اپنے خوابوں اور لاکھوں امیدواروں کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر امتحانات کی شفافیت پر عوام کا اعتماد ختم ہو جائے تو پورا تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے اور سب سے زیادہ نقصان نوجوان نسل کو اٹھانا پڑتا ہے۔

ابتدائی دنوں میں حکومت کی جانب سے یقین دہانیاں دی گئیں کہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں، اصلاحات کی جائیں گی اور قصورواروں کے خلاف کارروائی ہوگی، لیکن احتجاج کرنے والے طلبہ نے ان اعلانات کو ناکافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں بھی اس نوعیت کے وعدے کیے گئے، مگر زمینی سطح پر مطلوبہ تبدیلیاں نظر نہیں آئیں۔ یہی وجہ تھی کہ احتجاج آہستہ آہستہ دھرنے کی شکل اختیار کرتا گیا اور روز بروز اس میں شریک نوجوانوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔

چند ہی دنوں میں دہلی کا یہ احتجاج ملک کی کئی ریاستوں تک پھیل گیا۔ مختلف یونیورسٹیوں، کالجوں اور کوچنگ مراکز کے طلبہ نے بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔ متعدد شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں، علامتی دھرنے دیے گئے اور تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں، اساتذہ، سماجی کارکنوں اور سابق بیوروکریٹس کے بیانات نے بھی اس مسئلے کو قومی سطح پر نمایاں کر دیا۔تحریک اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی جب جنتر منتر پر جاری دھرنے کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے۔

پولیس نے سکیورٹی اور امن و امان کا حوالہ دیتے ہوئے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکا، جس کے بعد تصادم کی صورتِ حال پیدا ہوئی۔ متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے لاٹھی چارج کیا، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، جبکہ پولیس کا مؤقف تھا کہ کارروائی قانون و نظم برقرار رکھنے کے لیے کی گئی۔ لاٹھی چارج کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ زخمی طلبہ کی تصاویر نے عوامی جذبات کو متاثر کیا اور احتجاج دہلی کی حدود سے نکل کر قومی تحریک کی صورت اختیار کرتا گیا۔

کئی ریاستوں میں طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا، احتجاجی مارچ نکالے اور مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ مزید شدت اختیار کر گیا۔ بالآخر بڑھتے ہوئے عوامی اور سیاسی دباؤ کے درمیان مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جسے اس تحریک کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن کیا ایک وزیر کا استعفیٰ اس بحران کا اختتام ہے، یا یہ ہندوستان کے تعلیمی نظام میں گہرے مسائل کی صرف ایک علامت ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب اس تحقیقی سلسلے کی آئندہ قسطوں میں تلاش کیا جائے گا۔

جنتر منتر پر شروع ہونے والا احتجاج چند گھنٹوں یا چند دنوں کا وقتی ردِعمل نہیں تھا بلکہ یہ گزشتہ کئی برسوں سے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی، مایوسی اور غیر یقینی کیفیت کا اظہار تھا۔ ملک بھر میں لاکھوں نوجوان سرکاری ملازمتوں، قومی سطح کے داخلہ امتحانات اور مسابقتی امتحانات کی تیاری میں اپنی عمر، وقت اور سرمایہ صرف کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر متوسط اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کے والدین اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی امید میں اپنی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں مختلف امتحانات کے حوالے سے پیپر لیک، امتحانات کی منسوخی، نتائج میں غیر معمولی تاخیر اور بھرتیوں کے عمل پر اٹھنے والے سوالات نے نوجوانوں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ اگر امتحانی نظام ہی شفاف نہ رہے تو لاکھوں نوجوانوں کی برسوں کی محنت چند لمحوں میں ضائع ہو جاتی ہے۔ یہی احساس رفتہ رفتہ ایک ایسے غصے میں تبدیل ہوا جس نے جنتر منتر کے احتجاج کو جنم دیا۔احتجاج میں شریک طلبہ بار بار اس بات پر زور دیتے رہے کہ ان کی تحریک کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں بلکہ نظامِ تعلیم میں شفافیت، بروقت امتحانات، منصفانہ بھرتیوں اور جوابدہی کے لیے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ امتحانی بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ایسا نظام بنایا جائے جس پر ہر امیدوار بلاخوف اعتماد کر سکے۔جیسے جیسے احتجاج کی شدت میں اضافہ ہوا، ملک کی مختلف ریاستوں سے بھی یکجہتی کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ دہلی، اتر پردیش، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، تلنگانہ، کرناٹک اور دیگر ریاستوں کی جامعات اور کالجوں میں طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ کئی مقامات پر کلاسوں کا بائیکاٹ کیا گیا، خاموش مارچ نکالے گئے اور احتجاجی جلسوں میں حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا۔

اس تحریک نے یہ واضح کر دیا کہ یہ مسئلہ صرف دہلی یا ایک امتحان تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے نوجوانوں کا مشترکہ مسئلہ بن چکا ہے۔دوسری جانب حکومت کی خاموشی اور محدود ردِعمل پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔ طلبہ تنظیموں اور سماجی کارکنوں کا کہنا تھا کہ جب لاکھوں نوجوان اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہوں تو حکومت کو فوری طور پر ان کے نمائندوں سے مذاکرات کرنے چاہییں۔ ناقدین کے مطابق اگر ابتدائی مرحلے میں سنجیدہ مکالمہ کیا جاتا تو شاید احتجاج اتنا وسیع نہ ہوتا اور تصادم کی نوبت بھی نہ آتی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں بلکہ عوام کی آواز سننے کا بھی نام ہے۔ خاص طور پر جب ملک کا نوجوان طبقہ، جو مستقبل کی معیشت، تعلیم اور ترقی کا محور سمجھا جاتا ہے، ایک مشترکہ مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر آ جائے تو اس کی آواز کو محض قانون و نظم کا مسئلہ سمجھنا کافی نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ نوجوانوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے اور اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔جنتر منتر پر دھرنا ابھی جاری ہی تھا کہ حالات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔

احتجاجی طلبہ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے انہیں روکنے کے لیے سخت کارروائی کی۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے اس تحریک کو ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل کر دیاجنتر منتر پر جاری دھرنا اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا جب احتجاجی طلبہ نے اعلان کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا تو وہ اپنی تحریک کو مزید وسعت دیں گے۔ طلبہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کئی دن گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی واضح یقین دہانی سامنے نہیں آئی، جس کے باعث مظاہرین میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔

ان کا مؤقف تھا کہ جب لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہو تو خاموشی اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔احتجاج کے دوران طلبہ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنی آواز براہِ راست حکومت تک پہنچا سکیں۔ تاہم پولیس نے پہلے سے نصب رکاوٹوں اور سکیورٹی انتظامات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ کچھ دیر تک دونوں جانب بات چیت کی کوششیں جاری رہیں، لیکن حالات جلد ہی کشیدہ ہو گئے اور تصادم کی کیفیت پیدا ہو گئی۔متعدد عینی شاہدین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور کئی طلبہ کو حراست میں لیا۔

اس کارروائی میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے، جن میں بعض طالبات بھی شامل تھیں۔ زخمی طلبہ کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جس کے بعد ملک بھر میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب پولیس کا مؤقف تھا کہ مظاہرین نے طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے قانون و نظم برقرار رکھنے کے لیے کارروائی ناگزیر ہو گئی۔پولیس کارروائی کے بعد احتجاج نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔

اب مطالبات صرف امتحانی اصلاحات تک محدود نہیں رہے بلکہ طلبہ تنظیموں نے زخمی طلبہ کے لیے انصاف، پولیس کارروائی کی تحقیقات اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی شروع کر دیا۔ مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ نے اس واقعے کو جمہوری حقِ احتجاج پر حملہ قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاج کی کال دی۔چند ہی گھنٹوں میں دہلی سے نکلنے والی یہ تحریک ملک کی مختلف ریاستوں تک پہنچ گئی۔ پٹنہ، لکھنؤ، جے پور، کولکاتا، حیدرآباد، بنگلورو، بھوپال، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں ہزاروں طلبہ نے ریلیاں نکالیں، انسانی زنجیریں بنائیں، شمع بردار جلوس منعقد کیے اور زخمی طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

کئی مقامات پر اساتذہ، وکلاء، سماجی کارکنوں اور سابق طلبہ نے بھی ان مظاہروں میں شرکت کی۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہی وہ مرحلہ تھا جب یہ احتجاج ایک تعلیمی مسئلے سے نکل کر قومی سیاسی مسئلہ بن گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نوجوانوں کے سوالات کا جواب لاٹھی سے نہیں بلکہ مذاکرات اور اصلاحات سے دیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی کہ اصلاحات کا عمل جاری ہے اور امن و امان برقرار رکھنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔لیکن عوامی سطح پر ایک سوال مسلسل گونج رہا تھا کہ اگر ملک کا نوجوان اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑک پر نکلے اور جواب میں اسے لاٹھیاں ملیں تو اس کا جمہوریت پر کیا اثر پڑے گا؟ یہی سوال آنے والے دنوں میں اس تحریک کو مزید طاقت دینے والا ثابت ہوا اور حکومت پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہونے لگا

جنتر منتر پر لاٹھی چارج کے بعد جو تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں، انہوں نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ زخمی طلبہ، خون میں لت پت کپڑے، بھگدڑ کا منظر، روتے ہوئے نوجوان اور اپنے ساتھیوں کو سہارا دے کر ایمبولینس تک پہنچانے کی کوششیں سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن چینلوں پر مسلسل نشر ہوتی رہیں۔ چند ہی گھنٹوں میں یہ احتجاج دہلی کی حدود سے نکل کر ایک قومی تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔ملک کی متعدد ریاستوں میں طلبہ تنظیموں نے ہنگامی اجلاس منعقد کیے اور احتجاجی پروگراموں کا اعلان کیا۔

دہلی، بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال، تلنگانہ، مہاراشٹر، کرناٹک، پنجاب، راجستھان، مدھیہ پردیش اور تمل ناڈو سمیت کئی ریاستوں میں ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔ کہیں انسانی زنجیریں بنائی گئیں، کہیں خاموش مارچ نکالے گئے، تو کہیں تعلیمی اداروں کے باہر دھرنے دیے گئے۔ ان تمام احتجاجوں میں ایک ہی مطالبہ نمایاں تھا کہ طلبہ کے ساتھ طاقت کے استعمال کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور امتحانی نظام میں فوری اصلاحات نافذ کی جائیں۔طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے مخالف نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کے حامی ہیں جہاں محنت، قابلیت اور میرٹ کی بنیاد پر کامیابی حاصل ہو۔

ان کے مطابق اگر نوجوانوں کا امتحانی نظام سے اعتماد اٹھ جائے تو اس کا نقصان صرف ایک نسل کو نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کو ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ احتجاج میں صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ اساتذہ، والدین، وکلاء، سماجی کارکن اور سابق سرکاری افسران بھی شریک ہونے لگے۔اس دوران مختلف جامعات کے پروفیسروں اور ماہرینِ تعلیم نے مشترکہ بیانات جاری کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل کا حل پولیس کارروائی نہیں بلکہ تعلیمی اصلاحات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کو طاقت سے دبانے کے بجائے حکومت کو طلبہ کے نمائندوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرنے چاہییں تاکہ ایسے مسائل کا مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔

کئی ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، اس لیے ان کی آواز کو سننا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ادھر اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے کو پارلیمنٹ اور عوامی جلسوں میں بھرپور انداز میں اٹھایا۔ حکومت سے سوال کیا گیا کہ اگر طلبہ صرف شفاف امتحانات اور منصفانہ بھرتیوں کا مطالبہ کر رہے تھے تو ان کے ساتھ اس قدر سختی کیوں برتی گئی؟ مختلف سیاسی رہنماؤں نے زخمی طلبہ سے ملاقاتیں کیں اور اس واقعے کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے یہ مؤقف دہرایا جاتا رہا کہ امتحانی نظام میں اصلاحات جاری ہیں، بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے اور پولیس نے صرف امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داری انجام دی۔ لیکن جیسے جیسے احتجاج کی شدت بڑھتی گئی، عوامی دباؤ میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ سوشل میڈیا پر مختلف ہیش ٹیگز مسلسل ٹرینڈ کرتے رہے، لاکھوں افراد نے طلبہ کے حق میں اپنی آواز بلند کی اور ملک کے مختلف حصوں میں یکجہتی کے مظاہرے جاری رہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ عوامی ناراضگی کا سامنا کس انداز میں کرتی ہے۔ اگر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی آواز کو سنجیدگی سے سنا جائے تو بحران مذاکرات کے ذریعے ختم ہو سکتا ہے، لیکن اگر مسلسل بے اعتنائی اختیار کی جائے تو یہی احتجاج ایک وسیع عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جنتر منتر کی تحریک بھی اب اسی مرحلے میں داخل ہو چکی تھی، جہاں اس کے اثرات صرف تعلیمی شعبے تک محدود نہیں رہے بلکہ براہِ راست حکومت کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرنے لگے تھے۔

ملک گیر احتجاج کے پھیلنے کے بعد حکومت پر سیاسی، عوامی اور اخلاقی دباؤ مسلسل بڑھنے لگا۔ جنتر منتر پر ہونے والے لاٹھی چارج کی تصاویر اور ویڈیوز نہ صرف قومی میڈیا بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی نمایاں ہوئیں۔ زخمی طلبہ کی حالت دیکھ کر مختلف سماجی تنظیموں، ماہرینِ تعلیم، وکلاء اور سابق سرکاری افسران نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں نوجوانوں کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

احتجاج کی شدت اس وقت مزید بڑھ گئی جب ملک کی مختلف ریاستوں کی جامعات میں کلاسوں کا بائیکاٹ شروع ہوا۔ کئی مقامات پر اساتذہ نے بھی طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ والدین کی انجمنوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی نظام پر نوجوانوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد نے احتجاج کی حمایت میں مہم چلائی، جس سے حکومت پر عوامی دباؤ مزید بڑھ گیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت کے سامنے اس وقت دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ احتجاج کو محض قانون و نظم کا مسئلہ سمجھ کر سختی کا راستہ اختیار کیا جائے، اور دوسرا یہ کہ نوجوانوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مذاکرات اور اصلاحات کا اعلان کیا جائے۔ لیکن جوں جوں احتجاج پھیلتا گیا، حکومت کے لیے اس بحران سے نکلنا آسان نہیں رہا۔اسی دوران اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھایا۔

پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت سے جواب طلب کیا گیا کہ اگر لاکھوں نوجوان ایک ہی مسئلے پر احتجاج کر رہے ہیں تو ان کی بات سننے کے بجائے طاقت کا استعمال کیوں کیا گیا؟ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ حکومت نوجوانوں کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔دوسری جانب حکومت کے حامی حلقوں کا مؤقف تھا کہ اصلاحات کا عمل جاری تھا اور بعض عناصر احتجاج کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

تاہم اس وضاحت کے باوجود عوامی بحث کا مرکز یہی سوال رہا کہ اگر نوجوانوں کے مطالبات جائز تھے تو ان سے براہِ راست بات چیت کیوں نہیں کی گئی۔جیسے جیسے عوامی دباؤ بڑھتا گیا، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی ذمہ داریوں پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔ مختلف طلبہ تنظیموں نے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی وزارتِ تعلیم کی کارکردگی پر شدید تنقید کی۔ آخرکار بڑھتے ہوئے دباؤ، مسلسل احتجاج اور سیاسی کشیدگی کے ماحول میں دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

ان کے استعفے کو اس تحریک کا سب سے بڑا سیاسی نتیجہ قرار دیا گیا۔تاہم سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا ایک وزیر کے استعفے سے لاکھوں طلبہ کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے؟ کیا امتحانی نظام میں وہ بنیادی اصلاحات ہوں گی جن کا مطالبہ نوجوان کئی ہفتوں سے کر رہے تھے؟ یا پھر یہ احتجاج صرف ایک سیاسی تبدیلی تک محدود رہ جائے گا؟ یہی وہ سوالات ہیں جن پر اس مضمون کی آخری قسط میں تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے نے اگرچہ اس تحریک کو ایک اہم سیاسی کامیابی ضرور دی، لیکن اس کے ساتھ ہی کئی بنیادی سوالات بھی چھوڑ دیے۔ طلبہ تنظیموں کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد کبھی کسی ایک وزیر یا ایک شخصیت کے خلاف نہیں تھی بلکہ وہ ایک ایسے تعلیمی نظام کے لیے آواز اٹھا رہے تھے جو شفاف، جوابدہ اور قابلِ اعتماد ہو۔ ان کے مطابق اگر نظام میں بنیادی اصلاحات نہ ہوئیں تو کسی ایک وزیر کی تبدیلی سے نوجوانوں کے مسائل ختم نہیں ہوں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی جمہوری تاریخ میں متعدد مواقع ایسے آئے ہیں جب عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومتوں کو اپنے فیصلے تبدیل کرنا پڑے یا وزراء کو ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدہ چھوڑنا پڑا۔ لیکن کسی بھی عوامی تحریک کی اصل کامیابی اس وقت سمجھی جاتی ہے جب اس کے نتیجے میں مستقل پالیسی اصلاحات سامنے آئیں، نہ کہ صرف انتظامی تبدیلیاں۔جنتر منتر سے شروع ہونے والی اس تحریک نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ ملک کا نوجوان اپنے مستقبل کے معاملے میں خاموش رہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

آج کا طالب علم صرف ملازمت کا خواہش مند نہیں بلکہ وہ ایک ایسا نظام چاہتا ہے جہاں محنت کا صلہ ملے، میرٹ کا احترام ہو، امتحانات شفاف ہوں، بھرتیوں میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو اور کسی بھی بے ضابطگی پر فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔اس احتجاج نے حکومت، تعلیمی اداروں اور انتظامیہ کے سامنے بھی ایک بڑا سوال کھڑا کیا ہے۔

اگر لاکھوں نوجوان ایک ہی مسئلے پر سڑکوں پر نکل آئیں تو کیا ان کے مطالبات کو صرف قانون و نظم کا مسئلہ سمجھنا کافی ہوگا، یا پھر ان کی بات سن کر نظام میں بنیادی اصلاحات لانا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے؟ جمہوریت کی روح یہی ہے کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اس سے مکالمہ کیا جائے، کیونکہ طاقت وقتی طور پر احتجاج کو روک سکتی ہے مگر نوجوانوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کو ختم نہیں کر سکتی۔اس تحریک نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کی کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع نے عوامی تحریکوں کی نوعیت بدل دی ہے۔

جنتر منتر پر پیش آنے والے واقعات چند ہی منٹوں میں ملک کے کونے کونے تک پہنچ گئے، جس کے نتیجے میں مختلف ریاستوں کے طلبہ نے خود کو اس جدوجہد کا حصہ محسوس کیا۔ یوں ایک مقامی احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے قومی تحریک میں تبدیل ہو گیا۔اب جبکہ احتجاج کا ایک مرحلہ اختتام کو پہنچ چکا ہے اور سیاسی سطح پر بھی اس کے اثرات سامنے آ چکے ہیں، اصل امتحان حکومت اور نئے وزیر تعلیم کے سامنے ہے۔

نوجوان یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا ان کے مطالبات صرف احتجاج ختم کرنے کے لیے سنے گئے تھے یا واقعی تعلیمی نظام میں ایسی اصلاحات کی جائیں گی جو مستقبل میں اس قسم کے بحران کو جنم لینے سے روک سکیں۔جنتر منتر کی سڑکوں پر گونجنے والے نعرے، زخمی طلبہ کی تصاویر، ملک گیر احتجاج، عوامی یکجہتی اور بالآخر ایک مرکزی وزیر کا استعفیٰ اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت میں عوام، خصوصاً نوجوانوں کی آواز کو ہمیشہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب نوجوان کسی مقصد کے لیے متحد ہو جائیں تو ان کی آواز ایوانِ اقتدار تک ضرور پہنچتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ آواز ہندوستان کے تعلیمی نظام میں حقیقی تبدیلی کی بنیاد بنے گی یا یہ تحریک بھی وقت کے ساتھ صرف تاریخ کا ایک باب بن کر رہ جائے گی