بی جے پی پر رام کے نام غنڈہ گردی کرنے کا الزام

بین الریاستی تازہ خبر تلنگانہ
 آئی ٹی‘ ای ڈی اور سی بی آئی کے دھاوں سے ٹی آر ایس قائدین کے خوفزدہ ہونے کا سوال ہی نہیں
حیدرآباد:۔24؍نومبر
(زین نیوز)
 ٹی آر ایس ایم ایل سی کے کویتا نے مرکز میں برسراقتدار بی جے پی حکومت پر رام کا نام لے کر  غنڈہ گردی کی ہے۔  کویتا نے کہاا کہ ای ڈی کے حملوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
 کویتا نے بھی مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کو لے کر بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔ گلوکار محمد رفیع کے گانے کا حوالہ دیتے ہوئے کویتا نے کہا، "بی جے پی کا کام رام-رام اور پرایا لیڈر اپنا، نہیں تو انکو اوپر ای ڈی، آئی ٹی اور سی بی آئی ڈالنا ہے”۔
یلا ریڈی ایم ایل اے جے سریندر نے یلاریڈی پیٹ منڈل کے ناگی ریڈی پیٹ میں ٹی آر ایس کارکنوں کے اجتماع میں شرکت کی اور مخاطب کیا۔
 انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ایک ماہ سے آئی ٹی حملے جاری ہیں۔ کسی بھی وزیر، ایم ایل اے یا ایم پی کوبخشا نہیں جارہا ہے۔کویتا نے سوال کیا کہ قانونی طور پر کاروبار کرناکیا گناہے۔
انہوں نے ان دھاوں پر کہا کہ اس میں کچھ گڑبڑ ہے۔کوئی بھی ٹی آر ایس لیڈر ایسے چھاپوں سے خوفزدہ نہیں ہے وہ آئی ٹی حکام  کے سوال کا جواب دیں گے۔
 کویتا نے کہا کہ ویسے بھی تلنگانہ کے عوام ڈرنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند ایک نے ٹی آر ایس کے ایم ایل ایز کو خریدنے کی کوشش کی۔ ہم سڑکوں  چھاپ چوروں کو آزمانا نہیں چاہتے۔مگر پکڑے گئے چوروں سے تفتیش نہ کرنے کی بی جے پی والوں نے عدالتوں میں درخواستیں دائر کرکئیں۔
عدالت کی طرف سے حکم امتناعی لایا گیا۔ تاہمریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاتوہمارے حق میں حکم صادر ہوا۔حیرت کی بات ہے کہ بی جے پی سربراہ بنڈی سنجے نے یادگیری گٹہ کی مندر جاکرچور ہونے کا حلف لیا۔ ایم ایل ایز کی خریداری کے معاملے میں بی ایل سنتوش کا نام سامنے آیا ہے۔
جب تفتیشی ایجنسی اس سے پوچھ گچھ کرنا چاہی تو وہ  اس سے راہ فراری اختیا کررہا ہے۔ کویتا نے کہا کہ عدالتوں میں عرضیاں دائر کی جا رہی ہیں اور وہ انہیں ٹرائل میں آنے سے روک رہی ہیں۔بنڈی سنجے کل ہی آشک بار ہوئے ۔ وہ بی ایل سنتوش کو گرفتار نہ کرنے کے لئے عدالت جارہے ہیں۔
 عدالت انہیں تفتیش کاسامنا کرنے کی ہدایت دیتی بھی ہے تووہ نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وزراء کو آئی ٹی، ای ڈی، سی بی آئی طلب کررہی ہے ۔
 ان کے گھروں اور دفاتر کی تلاشی بھی گئی لیکن انہیں کہیں بھی کچھ ہاتھ نہ لگا ۔ اس کے باوجود اگر تحقیقاتی ایجنسیاں تحقیقات کرنا چاہتی ہیں تو ہمارے لوگ ان کوجواب دینے کیلئے تیار ہیں کیوں ان کے پاس کوئی غلط کاروبار ہے اور نہی ناجائز پیسہ ہے۔