کے سی آر کی نو سالہ حکمرانی میں دوگنی’’لوٹ مار‘‘

تازہ خبر تلنگانہ
ریاستی حکومت پر ٹی ای ٹی کو بھول جانے کا الزام‘ کانگریس ایم ایل سی ٹی جیون ریڈی کا الزام 
جگتیال:۔31؍دسمبر
(عمران زین) 
یہ بتاتے ہوئے کہ متحدہ ریاست کی تقسیم کے وقت تلنگانہ ریاست کے پاس 60,000 کروڑ روپئے کا اضافی بجٹ تھا، کانگریس  ایم ایل سی ٹی جیون ریڈی نے آج واضح کیا کہ علیحدہ ریاست پانچ لاکھ کروڑ روپئے خسارے کے بجٹ میں پھنس گئی ہے۔
 انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کے چندر شیکھر را ؤکے نو سالہ دور حکومت میں لوٹ مار دوگنی ہوگئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانگریس پارٹی2023میں سمبلی انتخابات کے بعد اقتدار  پر واپس آئے گی جیسا کہ تلنگانہ کے مظاہرین نے خواب دیکھا تھا۔
 آج اپنی رہائش گاہ پر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ کے سی آر حکومت اساتذہ کے مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں دکھا رہی ہے۔
یہ بتاتے ہوئے کہ پچھلی کانگریس حکومت کے دوران ودیا والینٹرس کا سیٹ اپ تھا، کانگریس لیڈر نے کہا کہ سرکاری ذرائع کے مطابق، ریاست میں تقریبا 18,000 سے 20,000 اساتذہ کے عہدے  مخلوعہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چیف منسٹر ا ریاست میں اساتذہ کی تقرری کے لیے ٹی ای ٹی کے وجود کو بھول گئے ہیں۔
 انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کانسٹیبلوں کی تقرری کے جسمانی ٹسٹ میں 800 میٹر کی دوڑ کو 1600 میٹر اور 3,80 میٹر بڑھا کر چار میٹر کر دیا گیا جس سے امیدواروں کو ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
 انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جسمانی ٹسٹ میں چند امیدوار دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ بڑھتی ہوئی تکنیکی معلومات کے پیش نظر حکومت کو  تھوڑی سی نرمی کرنی چاہیے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ جب لوگوں کے مسائل کے بارے میں ریاستی حکومت کے نوٹس میں لانے کے لیے پہلے ’’چلو پرگتی بھون‘‘کی کال دی گئی تھی، تو حکومت نے اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے آدھی رات کو پولیس کو طلب کیا۔انہوں نے سوال کیا کہ کانگریس قائدین کیا مشتعل کرنے والے انتہا پسند ہیں ۔
 انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ پرگتی بھون کے ارد گرد سینکڑوں پولیس جوانوں کو تعینات کیا گیا جس سے ایسا لگتا تھا کہ خود پولیس عملہہی چیف منسٹر کی رہائش گاہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔