KTR & Bandi Sanjay

مرکزی وزیر بنڈی سنجے سے اندرون سات دن غیر مشروط تحریری معافی کا مطالبہ

تازہ خبر تلنگانہ
مرکزی وزیر بنڈی سنجے سے اندرون سات دن غیر مشروط تحریری معافی کا مطالبہ
فون ٹیاپنگ الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سابق وزیر کے ٹی آر نے لیگل نوٹس دی
حیدرآباد:۔ 12 اگست
 (زین نیوز)
بی آر ایس کے ورکنگ صدر اور سابق وزیر کلواکنٹلا تارک راما راؤ (کے ٹی آر) نے رکن پارلیمنٹ کریم نگر و مرکزی وزیر برائے امورداخلہ بَنڈی سنجے کمار کو فون ٹیپنگ کے الزامات پر سخت قانونی چیلنج دیتے ہوئے باقاعدہ لیگل نوٹس جاری کی ہے۔
یہ اقدام 8 اگست کو بنڈی سنجے کی پریس کانفرنس میں لگائے گئے سنگین الزامات کے ردعمل میں کیا گیا، جنہیں کے ٹی آر نے من گھڑت، بے بنیاد اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش قرار دیا۔
کے ٹی آر کے وکلا کے مطابق، بنڈی سنجے نے فون ٹیپنگ کے حوالے سے جو دعوے کیےوہ محض سیاسی دشمنی پر مبنی ہیں اور ان کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک پارلیمانی رکن اور مرکزی وزیر کے عہدے پر فائز شخص سے ایسی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی ناقابلِ قبول ہے۔
 ان الزامات کا مقصد عوام میں کے ٹی آر کی طویل سیاسی خدمات پر سوالیہ نشان لگانا اور ان کی عوامی مقبولیت کو کمزور کرنا ہے۔نوٹس میں واضح کیا گیا کہ کے ٹی آر تلنگانہ ریاست کے قیام سے لے کر بطور وزیر مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں، جنہیں عوام اور سیاسی حلقے تسلیم کرتے ہیں۔
 ایسے میں بار بار جھوٹے بیانات اور بے بنیاد الزامات کا مقصد صرف اور صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنا اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنا ہے۔کے ٹی آر کے وکلا نے مطالبہ کیا ہے کہ بنڈی سنجے سات دن کے اندر کے ٹی آر سے غیر مشروط تحریری معافی مانگیں اور آئندہ نہ صرف ان بلکہ ان کے خاندان کے خلاف کسی بھی قسم کی بدنیتی پر مبنی بیان بازی سے مکمل طور پر باز رہیں۔
بصورتِ دیگر، ان کے خلاف سِول اور فوجداری مقدمات دائر کیے جائیں گے اور ان بے بنیاد الزامات کے نتیجے میں ہونے والے تمام مالی و اخلاقی نقصان کی ذمہ داری بَنڈی سنجے پر عائد ہوگی۔
نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 8 اگست کی پریس کانفرنس میں بَنڈی سنجے نے جو زبان استعمال کی اور جو دعوے کیے، ان کے لیے کوئی بھی شواہد یا قانونی بنیاد پیش نہیں کی گئی۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف پارلیمانی آداب کے خلاف ہے بلکہ عوامی سطح پر جھوٹی معلومات پھیلانے کے مترادف ہے۔
سابق وزیر کے مطابق، یہ الزامات عوام میں ان کی عزت و وقار کو مجروح کرنے کی منظم کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے تاکہ آئندہ کوئی بھی سیاسی مخالف ذاتی ساکھ کو نشانہ بنانے سے پہلے سو بار سوچے۔