منی پور۔میوات اور انڈیا کا راہول

تازہ خبر مضامین
منی پور۔میوات اور انڈیا کا راہول
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔
نفرت کے بازارمیں محبت کی دُکان کھولنے کی بات کرنےوالے راہول گاندھی اس وقت ملک کے مختلف مقامات پر لوگوں سے مل رہے ہیں،کبھی وہ ٹرک پر چڑھ رہے ہیں تو کبھی جھونپڑی میں بیٹھ کرکھانا کھارہے ہیں،کبھی گائوں کی عورتوں کو گھر پر لاکر ان کے ساتھ ملک کے حالات پر بات کررہے ہیں تو کبھی مہنگائی سے پریشان شخص کو اپنے دسترخوان پر بٹھاکر اس کے مسئلے کو سُن رہے ہیں۔
راہول گاندھی نے منی پورمیں ہورہے ظلم وستم پر مودی حکومت سے سوال کیا،وزیر اعظم نریندرمودی کو سخت پریشان کیااور منی پور میں حالات کا جائزہ لینے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کا وفد بنا کر خود منی پور پہنچ گئے،وہاں کے حالات کے تعلق سے پارلیمنٹ میں آواز بلند کی۔
راہول گاندھی نے منی پورمیں ہونےوالے ظلم وستم کےحالات کو بڑے ہی جذباتی اندازمیں پیش کیااور اس بات کا احساس دلایاکہ راہول گاندھی اب پپونہیں رہے بلکہ وہ راہول گاندھی بن گئے ہیں۔ان تمام کے درمیان ایک سوال پھر سے کھٹک رہاہے کہ آخر راہول گاندھی مسلمانوں پر ہونےوالے ظلم وستم کے تعلق سے کیوں نہیں بات کررہے ہیں؟
جس طرح سے منی پورکے حالات تھے اُسی طرح کے حالات میوات میں بھی دیکھنے کو ملے ہیں،منی پورمیں کوککی اور میتی گروپ کے درمیان پُرتشدد واقعات رونماہوئے ہیں،جبکہ میوات میں سنگھ پریوار اور مسلمانوں کے درمیان فسادبرپاہواہے۔منی پورمیں کئی چرچوں کو تہس نہس کردیاگیاتھا،میوات میں درجنوں مسجدوں کو توڑاگیاہے۔
منی پورمیں سینکڑوں جانیں گئی،وہیں میوات میں کئی بے قصورمسلمانوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا،سینکڑوں مسلمانوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے جاناپڑاہے۔لیکن راہول گاندھی نے میوات کے مسلمانوں پر ہونےوالے ظلم پر نہ ہی سوشیل میڈیاپر تبصرہ کیاہے،نہ تو انہوں نے میوات کے مسلمانوں سے ملاقات کرنے کا کوئی ارادہ ظاہرکیاہے۔
سوال ہورہاہے کہ آخرراہول گاندھی میوات کیوں نہیں جاتے؟۔اس کا جواب بھی آسان ہےکہ کانگریس ہویا دوسری سیلف ڈکلیر سیکولرجماعتیں بخوبی جان چکی ہیں کہ مسلمان چاہے میوات کے ہوں یاکرناٹک کے مسلمان چاہیں دہلی کے ہوں یا مہاراشٹرکے ،وہ بی جے پی کے ساتھ تو نہیں جائینگے،البتہ کانگریس اور سیلف ڈکلیر سیکولرسیاسی جماعتوں کے ہی ووٹ بینک بن کررہے گیں۔
یہی وجہ ہے کہ کانگریس سمیت انڈیاکی مختلف سیاسی جماعتوں نے میوات کے مسلمانوں پر ہورہے ظلم کے تعلق سے زبانیں نہیں کھولی ہیں۔دریں اثناء مسلم قائدین بھی اس معاملے میں خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں۔جن سیکولرجماعتوں کے لیڈروں کو مسلم تنظیمیں افطارپارٹی،عیدملن اوریکجہتی کے پروگراموں میں اسٹیج کی رونق بناتے ہیں،اُنہیں قائدین پر کبھی اس بات کا دبائو ڈالنے کیلئے آگے نہیں آتے کہ وہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے مسائل پر کھل کرمیدان میں آئیں
کچھ مسلمان خواجہ کی درگاہ پرسیاستدانوں کے ذریعے چادر چڑھانے سے خوش ہوجاتے ہیں تو کچھ مسلمان سیاستدانوں کےدارالعلوم کا دورہ کرنےپرمطمئن ہوجاتے ہیں اور جو حقیقی مسائل ہیں اُن مسائل پر ایک چادر اور دورہ حاوی ہوجاتاہے۔
مسلمانوں نے اُن قائدین کو اپنا سمجھ رکھاہے جو اپنی تقریروں کے دوران السلام وعلیکم کہتے ہیں،اذان کے دوران وقفہ دیتے ہیں،ایسے سیاستدان تو بی جے پی میں بھی موجودہیں
،مگر مسلمان ان لوگوں کے دکھائوے پر جلد بھروسہ کرلیتے ہیں اور اپنے مسائل کو حل کروانے کیلئے پیش رفت نہیں کرتے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ان جذباتی حرکتوں میں نہ آئیں بلکہ اپنی عقل لگاکر حالات کو بہتربنانے کیلئے کام کریں۔