نوح تشدد پر چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کو 101 خاتون وکلاء کا خط

تازہ خبر قومی
نوح تشدد پر چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کو 101 خاتون وکلاء کا خط
نفرت انگیز تقاریر کو روکنا ضروری۔ بلڈوز کارروائی نسل کشی کا اشارہ  
حکومت ہریانہ پر نوح میں ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے کا الزام
دہلی:۔17؍اگست
(زین نیوز ڈیسک)
ہریانہ میں نوح تشدد کے بعد مسلمانوں کے بائیکاٹ کی ویڈیو کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی خا تون وکلاء کے فورم نے جمعرات کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کو ایک خط بھیجا ہے۔ جس میں سوشل میڈیا پر چلنے والے مسلمانوں کے بائیکاٹ کی ویڈیوز اور دیگر مواد پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
101 خواتین وکلاء کے دستخط شدہ 3 صفحات پر مشتمل خط میں سپریم کورٹ کے پرانے مقدمات کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ نفرت انگیز تقریر کی ویڈیو پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے سپریم کورٹ سے 3 مطالبات کیے ہیں۔
 جس میں ہریانہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انہیں روکنے کے لیے اقدامات کرے، تقریر کی ویڈیو پر پابندی لگائی جائے اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
خا تون وکلاءنے کہا کہ ہریانہ میں ریلیوں میں نفرت انگیز ویڈیوز ریکارڈ کی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے نفرت انگیز تقاریر نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے باوجود احکامات کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ ان کا سراغ لگا کر فوری پابندی لگائی جائے۔
 یہ تقریریں نفرت کو فروغ دے رہی ہیں اور خوف کا ماحول پیدا کر رہی ہیں۔ ان سے تشدد کا بھی خطرہ ہے۔ یہ لوگ ہتھیاروں کے ساتھ فرقہ وارانہ نعرے بھی لگا رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان ویڈیوز پر کوئی تحقیقات یا کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ اگر ان کو نہ روکا گیا تو نفرت اور تشدد کو روکنا ممکن نہیں ہو گا۔
وکلاء نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی ویڈیوز ریاستی انتظامیہ اور پولیس کی ناکامی ہیں۔ وہ نفرت انگیز تقریر کے دوران اور بعد میں کوئی کارروائی نہیں کر سکے۔
ہائی کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئےخواتین وکلاء نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے حکم کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں نوح میں انہدام کی کارروائی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
 اس میں ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے تھے کہ حکومت نوح میں ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت بلڈوزر چلا کر نسلی تطہیر کر رہی ہے۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں ڈی جی پی اور ہوم سکریٹری سے جواب طلب کیا تھا۔ یہ بھی سو موٹو تھا۔ ہائی کورٹ کا ‘تیز اور حساس نقطہ نظر’ قانون میں شہریوں کا اعتماد بڑھانے میں بہت آگے نکل گیا ہے۔
نوح کے تشدد کے بعد ایک ریلی کی ویڈیو منظر عام پر آئی۔ جس میں دکانداروں کو کھلے عام تنبیہ کی گئی کہ وہ مسلمانوں کو ملازمت نہ دیں۔ کسی نے رکھا ہے تو نکال لے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ غدار کہلائیں گے۔ تاہم اس معاملے میں پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا۔
ہریانہ کے جند، کیتھل، سرسا، مہندر گڑھ، ریواڑی، جھجر اور کچھ دوسرے اضلاع کی تقریباً 50 پنچایتوں نے اسی طرح کے خط لکھے تھے۔ جس میں مسلم ہاکروں کے گاؤں میں داخلے پر پابندی لگانے کی بات کہی گئی تھی۔ تاہم بعد میں یہ خطوط واپس لے لیے گئے۔
انی پت کے نوہرہ گاؤں میں مسلمانوں کے بائیکاٹ کا بینر لگایا گیا۔ یہی نہیں گاؤں میں رہنے والے کچھ مسلم خاندانوں کو بھی گاؤں چھوڑنے کی تنبیہ کی گئی۔