منی پور،مسلمان،وزیر اعظم

تازہ خبر مضامین

منی پور،مسلمان ،وزیر اعظم

از:۔مدثراحمد۔
شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327

ہندوستان کی شمال مشرق ریاست منی پورمیں پچھلے کئی مہینوں سے جاری پُرتشدد واقعات کا سلسلہ نہیں رُک رہاہے،ایسے میں ایک نیا ویڈیو ایساآیاہے جسے دیکھنے یا اُس ویڈیوکے تعلق سے سننے پر بھی رونگٹے کھڑے ہورہے ہیں۔

منی پور کے دارالحکومت کے امپھال کے قریب دو خواتین کو پوری طرح سے ننگاکرتے ہوئے پریڈنکالاگیاتھا،اس کے علاوہ ان دونوں خواتین کی اجتماعی عصمت دری بھی ہوئی تھی۔پورے45 دن بعد اس معاملے کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے،جسے مہذب سماج کیلئے داغ ہی ماناجاسکتاہے۔

ایسے میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندرمودی نے منی پور کے تعلق سے اب تک زبان نہیں کھولی تھی،وہ آج انٹرنیشنل لیول میں ہورہی تنقیدکے بعد اپنے آپ کو میڈیاکے سامنے پیش کیا اور30 سکینڈمیں اس معاملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی ہے۔

غورطلب بات یہ ہے کہ منی پورمیں اب تک سینکڑوں لوگ جان گنواں چکے ہیں،باوجوداس کے فرقہ وارانہ فسادات اب بھی چل رہے ہیں۔لیکن مودی نے کبھی بھی اس تعلق سے نہ من کی بات کہی نہ ہی دماغ کی بات کہنے کی جرات کی ہے۔مانوکہ منی پور ہندوستان کا حصہ ہی نہیں ہے اور نہ ہی انہیں منی پورکے معاملات سے کوئی لینا دیناہے۔

نہ صرف وزیر اعظم نریندرمودی اس معاملے میں خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں،بلکہ بی جے پی کے وہ لیڈران بھی خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں جو بات بات پر سڑکوں پر اترکراحتجاج کرتے ہیں۔ان کا یہ احتجاج اس وجہ سے نہیں ہورہاہے ،کیونکہ وہاں منی پور خود بی جے پی کی حکومت ہے۔

اگر یہی حال غیر بی جے پی ریاست میں ہوتاتواب تک نہ جانے کئی بلڈوزر چلادئیے ہوتے،اس میں بھی اگر کہیں مسلمانوں کی طرف سے فسادکیاہوتاتو نہ صرف اُن پر گولیاں برسائی جاتیں بلکہ اُن کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کے گھروں کو مسمارکردیاجاتا۔مدھیہ پردیش میں ایک مذہبی جلوس کے دوران مسلمانوں کی جانب سےجلوس پرپانی تھوکنے کاالزام لگاکر اُن کے گھروں پر بلڈوز چلادیاگیاہے۔

جب پانی تھوکنے پر ان بڑی سزا مل رہی ہے تو منی پورمیں عورتوں کو ننگاکرنے پر بلڈوزر والی حکومتیں کیاکررہی ہیں یہ سب سے بڑاسوال ہے؟۔یقیناً یہاں بات ہندویا مسلمان کی نہیں ہے،بلکہ بات انسانیت کی ہے۔حالانکہ وزیر اعظم نریندرمودی کیلئے منی پورکے فسادات نئے نہیں ہیں،انہیں فسادات کی نگرانی کرنے کا اچھا تجربہ بھی ہے،سال2002 میں ہونےوالے گجرات فسادات میں بھی ایسے ہی حالات رونماہوئے تھے،

ہزاروں لوگ جہاں ان فسادات کا شکارہوئے وہیں سینکڑوں عورتوں کی اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی،انہیں عصمت دری کے واقعے میں بلقیس بانوکا بھی معاملہ ابھی تک زندہ ہے،لیکن اس گھنائونی حرکت کو انجام دینےوالے مجرموں کو معافی دیکر مودی اور ان کی پارٹی نے بہت ہی بڑا کارنامہ انجام دیاہے،

ایسے حالات میں منی پورکی خواتین کے ساتھ انصاف ہوگایانہیں یہ اس کااندازہ تونہیں ہے البتہ یہ اندازہ کیاجاسکتاہے کہ کل کے دن منی پورکے وزیراعلیٰ بیرن سنگھ کو بھی وزیر اعظم بننے کا موقع ملے گا،کیونکہ سنگھ پریوارمیں ایسے لوگوں کو ہی وزیر سے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم کے تخت پر بٹھایاجاتاہے۔