سرکاری درخواستوں میں کوئی ذات نہیں کوئی مذہب نہیں کے کالم کی شمولیت کی ہدایت۔تلنگانہ ہائی کورٹ

تازہ خبر تلنگانہ
 سرکاری درخواستوں میں کوئی ذات نہیں کوئی مذہب نہیں کے کالم کی شمولیت کی ہدایت۔تلنگانہ ہائی کورٹ
حیدرآباد:۔20جولائی
 (زین نیوز) 
 ہائی کورٹ نے تلنگانہ حکومت کو اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ تعلیم سے متعلق تمام درخواستوں کے کالم میں کوئی ذات نہیں اورکوئی مذہب نہیں کے کالم کوبھی شامل کرنے کرنے کی ہدایت دی  یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہر کسی کو ذات اور مذہب کو ترک کرنے کا حق ہے اور اس آزادی کو روکنا درست نہیں ہے۔
2019 میں سندیپو سوروپ نامی ایک شخص نے اپنے بیٹے کو نو کاسٹ کوئی مذہب کا سرٹیفکیٹ دینے کیلئے کئی بار حکام کو درخواست دی تھی۔ اس نے کتنی ہی بار اپیل کی لیکن حکام نے اس پر غور نہیں کیا۔
 سوروپ کے ساتھ ایک اور نے ہائی کورٹ سے مسئلہ کو رجوع کیا۔ جج جسٹس کنیگنٹی للیتا نے اس عرضی کی سماعت کی۔درخواست گزار کی درخواست کو مسترد کرنا آئین کی سیکولر روح کے خلاف ہے۔
آرٹیکل 14، 19، 21، 25 کی خلاف ورزی بھی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت شہریوں کو مذہب کی آزادی کے ساتھ ساتھ کچھ حقوق حاصل ہیں۔ شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی مذہب یا ذات پر عمل نہ کرنے کا انتخاب کریں۔
عدالت نے واضح کیا کہ درخواست میں تمام درخواستوں کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ میونسپل کمشنرس‘  پرنسپل سکریٹری محکمہ اسکول ایجوکیشن اور دیگر سرکاری محکموں کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔