آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا سپریم کورٹ کے وقف (ترمیمی) ایکٹ کے عبوری فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار
مکمل طور پر منسوخی کا مطالبہ، قومی سطح پر احتجاج کا اعلان
نئی دہلی:۔15؍ستمبر
(ای۔میل)
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے عبوری فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے نامکمل اور غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ اگرچہ عدالت عظمی نے ترمیمی ایکٹ کی چند دفعات پر حکم امتناعی جاری کیا ہے، لیکن مسلم کمیونٹی، مسلم پرسنل لا بورڈ اور انصاف پسند شہریوں کی توقع تھی کہ دستور ہند سے متصادم تمام شقوں پر عبوری حکم امتناعی دیا جائے گا۔
ڈاکٹر الیاس نے کہاکہ "عدالت نے جزوی ریلیف تو دیا ہے، لیکن بڑے آئینی خدشات کو نظر انداز کر دیا ہے، جس سے ہمیں سخت مایوسی ہوئی ہے۔ کئی اہم شقیں جو بظاہر پوری برادری کی سمجھ کے خلاف اور مکمل طور پر من مانیاں ہیں، انہیں عبوری طور پر نہیں روکا گیا۔”بورڈ کے مطابق، حکومت کے متعصبانہ رویے کو دیکھتے ہوئے برادری کو خدشہ ہے کہ ان دفعات کا غلط استعمال کیا جائے گا۔
اس ضمن میں سپریم کورٹ کے عبوری حکم میں درج ذیل ریلیف دیا گیا: عدالت نے فیصلہ دیا کہ وقف جائیدادوں کو حتمی فیصلہ آنے تک نہ تو بے دخل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سرکاری ریکارڈ میں کوئی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ وقف ملکیت کے ثبوت کے لیے سرکاری افسر کی رپورٹ لازمی قرار دی گئی اور شہریوں کے املاک کے حقوق پر انتظامیہ فیصلہ نہیں کر سکتی۔
عدالت نے دفعہ 30 کے نفاذ پر روک لگائی کہ کوئی سرکاری افسر یکطرفہ طور پر یہ فیصلہ نہ کرے کہ کون وقف قائم کرنے کا اہل ہے۔ اسی طرح تفتیش کے دوران کسی جائیداد کو وقف نہ مانا جائے گا۔ جب تک وقف ٹربیونل مکمل فیصلہ نہ کرے، کسی وقف کو بے دخل یا اس کے ریکارڈ میں ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ریونیو افسر کو جائیداد کے حق ملکیت کے تعین کا کام نہیں سونپا جا سکتا، اصول اختیارات کی علیحدگی کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
مرکزی وقف کونسل میں 22 میں سے زیادہ سے زیادہ 4 غیر مسلم اراکین اور ریاستی وقف بورڈ میں 11 میں سے زیادہ سے زیادہ 3 غیر مسلم اراکین شامل کیے جا سکتے ہیں، تاکہ مذہبی امور میں بیرونی مداخلت کا تدارک کیا جا سکے۔ عدالت نے اس من مانی شرط پر روک لگادی کہ وقف قائم کرنے والا شخص لازماً یہ ثابت کرے کہ وہ کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل پیرا ہے۔
یہ حکم تب تک نافذ رہے گا جب تک حکومت اس حوالے سے قواعد مرتب نہیں کرتی۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا مؤقف ہے کہ یہ پورا ترمیمی ایکٹ وقف جائیدادوں کو کمزور کرنے اور قبضہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ اس لیے بورڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو مکمل طور پر واپس لیا جائے اور پرانا وقف ایکٹ بحال کیا جائے۔
عدالت کا مکمل ایکٹ پر حکم امتناعی نہ دینے کا مطلب ہے کہ کئی نقصان دہ دفعات بدستور نافذ العمل رہیں گی، جیسے وقف یوزر کی تنسیخ اور وقف نامہ کو لازمی قرار دینا، جو اسلامی قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے مزید اعلان کیا کہ بورڈ کی وقف بچاؤ مہم پوری قوت سے جاری رہے گی۔
اس مہم کا دوسرا مرحلہ ستمبر 2025 سے شروع ہو چکا ہے، جس میں دھرنے، احتجاجی مظاہرے، وقف مارچ، یادداشتیں پیش کرنا، قیادت کی گرفتاریاں، گول میز اجلاس، بین المذاہب کانفرنسیں اور پریس کانفرنسیں شامل ہیں۔ یہ قومی سطح کے احتجاجات 16 نومبر 2025 کو رام لیلا میدان، دہلی میں ایک عظیم الشان ریلی میں عروج پر پہنچیں گے، جس میں پورے ملک سے عوام شرکت کریں گے۔