nepal-gen-z-protest.zn1

پڑوسی ملک نیپال میں تشدد اور مظاہروں کے باعث کھٹمنڈو ایئرپورٹ بند ، تشدد میں اضافہ

تازہ خبر عالمی
پڑوسی ملک نیپال میں تشدد اور مظاہروں کے باعث کھٹمنڈو ایئرپورٹ بند ، تشدد میں اضافہ
نئی دہلی: 9؍ستمبر
 (زیڈ این میڈیا سروِس)
ہندوستان کے پڑوسی ملک  نیپال میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کے خلاف جاری پرتشدد مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے باعث دارالحکومت کھٹمنڈو کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔نیپال ایوی ایشن اتھاریٹی کے عہدیدار گیانندرا بھول کے مطابق، ہوائی اڈہ خراب نمائش اور سیکیوریٹی خدشات کے پیش نظر بند کیا گیا ہے۔
 ایئرپورٹ کی بندش کے باعث انڈیگو ایئر لائن کے دو طیاروں کو لکھنؤ میں اتارنا پڑاچار روز قبل نیپالی حکومت نے اُن عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی جو مقامی قوانین کے تحت رجسٹریشن کرانے میں ناکام رہے تھے۔
ان میں فیس بک، میسنجر، انسٹاگرام، ایکس (ٹوئٹر)، لنکڈ اِن، ریڈٹ، تھریڈز، یوٹیوب، اسنیپ چیٹ، پنٹیرسٹ، سگنل، کلب ہاؤس اور رمبل شامل ہیں۔ دوسری جانب TikTok، Viber، Vitak، Nimbuzz اور Popo Live نے بروقت رجسٹریشن کرایا تھا، اس لیے یہ سروسز بلا رکاوٹ چل رہی ہیں
حکومت نے وضاحت دی کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے مقامی دفتر قائم کرنا، مواد ہٹانے کے لیے نمائندہ مقرر کرنا اور صارفین کا ڈیٹا حکومت کے ساتھ شیئر کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ نومبر 2023 سے حکومت پانچ بار پبلک نوٹس جاری کر چکی تھی، تاہم میٹا اور دیگر کمپنیوں نے مقررہ ڈیڈ لائنز پر عمل نہیں کیا۔ بالآخر 28 اگست کو سات روزہ مہلت دی گئی اور 4 ستمبر کو پابندی نافذ کر دی گئی۔
فیس بک نے حال ہی میں نیپال میں منیٹائزیشن پروگرام شروع کیا تھا جس کے ذریعے صارفین ریلز، پوسٹس اور ویڈیوز کے ذریعے براہِ راست آمدنی کما رہے تھے۔ ناقدین کے مطابق پابندی کے بعد یہ ذریعہ آمدنی اچانک بند ہوگیا، جس نے نوجوانوں اور ڈیجیٹل معیشت پر براہ راست ضرب لگائی۔احتجاج اور اس کے محرکات مبصرین کا کہنا ہے کہ تشدد کی اصل وجہ یہی معاشی نقصان اور اظہارِ رائے پر قدغن ہے۔ احتجاجی مظاہروں میں زیادہ تر نوجوان، خصوصاً طلبہ، شریک ہیں۔
 اطلاعات کے مطابق این جی او "ہامی نیپال” نے مظاہروں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تنظیم نے انسٹاگرام اور ڈسکارڈ پر ویڈیوز اور ہدایات شیئر کیں، طلبہ کو کالج بیگ اور کتابوں کے ساتھ احتجاج میں شریک ہونے اور اسکول یونیفارم پہننے کا مشورہ دیا گیا۔
احتجاج کے دوران طلبہ نے "یوتھز اگینسٹ کرپشن” کے بینرز اٹھا رکھے تھے جو اسی این جی او کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے۔نیپال کی حکومت نے اگرچہ پابندی کو ملک میں سائبر کرائم، جعلی آئی ڈیز اور نفرت انگیز تقاریر روکنے کے لیے ضروری قرار دیا تھا، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عوامی ردعمل نے ملک کو سیاسی اور معاشی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ کھٹمنڈو سمیت کئی شہروں میں حالات کشیدہ ہیں اور مستقبل قریب میں مزید ہنگاموں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نیپال کے صحت اور آبادی کے وزیر پردیپ پوڈیل نے جنریشن زیڈ کے احتجاج سے نمٹنے کے حکومتی طریقے سے اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ فیس بک پوسٹ کے ذریعے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے پوڈیل نے لکھا کہ نوجوان نسل نے صرف گڈ گورننس، احتساب اور انصاف کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس کے بجائے انہیں حکومتی جبر اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ان نوجوانوں کو گولی مارنا جو ملک کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں، کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا’۔ نیپالی کانگریس کے مرکزی رہنما پاوڈل نے کہا کہ ان کا ضمیر انہیں ایسے حالات میں کابینہ میں رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کا استعفیٰ ملک بھر میں شدید احتجاج کے درمیان آیا ہے، جس میں کئی مظاہرین پہلے ہی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔