Oppositaion

اپوزیشن چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی تیاری

تازہ خبر قومی
اپوزیشن چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی تیاری
نئی دہلی: ۔19؍اگست
(زیڈ این میڈیا سرویس)
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کی بہار میں ووٹ چوری کے الزامات اور رائے دہندگان کی فہرست کے خصوصی نظرثانی (SIR) پر پریس کانفرنس کے بعد اپوزیشن نے حکومت پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک اب چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے پر غور کر رہا ہے۔
پیر کو کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر انڈیا بلاک کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے بعد کانگریس، ٹی ایم سی، ایس پی، ڈی ایم کے اور آر جے ڈی سمیت 8 جماعتوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جبکہ بعد ازاں 20 اپوزیشن جماعتوں کے دستخطوں سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا۔کانگریس لیڈر گورو گوگوئی نے الزام عائد کیا کہ سی ای سی بی جے پی کے ترجمان کی طرح بات کر رہے ہیں۔
” ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ موجودہ پارلیمانی اجلاس میں صرف تین دن باقی ہیں جبکہ مواخذے کی تحریک کے لیے 14 روز پہلے نوٹس دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ای سی کا رویہ دیکھتے ہوئے اپوزیشن سرمائی اجلاس میں نوٹس پیش کرے گی۔راہول گاندھی نے کہا کہ "ووٹ چوری کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ حکومت ہمیشہ نہیں چلے گی۔
” انہوں نے 17 اگست کو بہار میں "ووٹ ادھیکار یاترا” کا آغاز کیا تھا جو ووٹ چوری اور ایس آئی آر کے خلاف ہے۔ 18 اگست کو یاترا کے دوران گیا میں آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کے ساتھ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے آئین کی کاپی لہراتے ہوئے کہا:”یہ مادرِ ہند کا آئین ہے، جس کی آواز تین ہزار سال پرانی ہے۔
جب یہ لوگ ووٹ چوری کرتے ہیں تو آئین کی روح پر حملہ کرتے ہیں۔راہول گاندھی نے مزید کہا کہ "کمیشن کی چوری پکڑی جائے تو یہ بیانِ حلفی مانگتے ہیں۔ میں کمیشن سے کہتا ہوں کہ کچھ وقت دیں، پورا ملک آپ سے حلف نامہ مانگے گا۔ ہم آپ کی چوری پورے ملک کو دکھائیں گے۔ تینوں الیکشن کمشنر سن لیں، آج مودی حکومت ہے، کل انڈیا بلاک کی حکومت ہوگی، تب آپ کے خلاف کارروائی ہوگی۔
"اس سے قبل 7 اگست کو راہول گاندھی نے الیکشن کمیشن پر براہِ راست بی جے پی کے لیے ووٹ چوری کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے ایک تفصیلی پریزنٹیشن میں دعویٰ کیا کہ ووٹر لسٹ میں سنگین بے ضابطگیاں ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ مہاراشٹر کے نتائج نے ہمارے شک کی تصدیق کر دی ہے کہ انتخابی چوری ہوئی ہے۔
مشین ریڈایبل ووٹر لسٹ فراہم نہ کر کے یہ واضح ہوگیا کہ الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے ساتھ مل کر الیکشن چرایا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "یہی ووٹ چوری کا ماڈل کئی ریاستوں میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں استعمال کیا گیا