سیکیورٹی لاپرواہی معاملہ : پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا زبردست ہنگامہ
لوک سبھا کے 14 اور راجیہ سبھا سے ایک ارکان پارلیمان پورے اجلاس کے لیے معطل
نئی دہلی:۔14؍ڈسمبر
(زین نیوز ڈیسک)
پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی کا کہنا ہے کہ کل 14 ممبران پارلیمنٹ کو لوک سبھا سے معطل کر دیا گیا ہے۔ ایک رکن پارلیمنٹ جو ایوان پر موجود نہیں تھے کو بھی معطل کر دیا گیا۔ہم نے لوک سبھا اسپیکر سے اس نام کو چھوڑنے کی درخواست کی اور اسپیکر نے اسے قبول کرلیا۔
پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے نویں دن جمعرات کو جیسے ہی کارروائی شروع ہوئی اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کی حفاظتی خامیوں پر ہنگامہ کیا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈروں نے نعرے لگائے۔ دن میں کئی بار ایوان کو ملتوی کرنا پڑا۔
اس کے بعد لوک سبھا سے اپوزیشن جماعتوں کے 14 اور راجیہ سبھا کے ایک ممبر کو پورے اجلاس کے لیے معطل کر دیا گیا۔ کانگریس کے 9، سی پی آئی (ایم) اور ڈی ایم کے کے 2، 2 اور سی پی آئی کے ایک لیڈر کو لوک سبھا سے معطل کر دیا گیا ہے۔
اس میں کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ ٹی این پرتھاپن، ہیبی ایڈن، جوتھیمانی، رامیا ہری داس، ڈین کوریاکوس، مانیکم ٹیگور، ایم ڈی جاوید، وی کے سری کندن اور بینی بیہان شامل ہیں۔ ٹی ایم سی ایم پی ڈیرک اوبرائن کو راجیہ سبھا سے معطل کر دیا گیا۔
راجیہ سبھا نے ہنگامہ آرائی کے درمیان ان کے مبینہ بدانتظامی کے لیے ان کا معاملہ استحقاق کمیٹی کے پاس بھیجنے کی تحریک منظور کی۔راجیہ سبھا کے چیئرمین دھنکھر نے اوبرائن کے رویے کو ایک ناگوار بدتمیزی اور شرمناک واقعہ قرار دیا انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ نے کرسی کی خلاف ورزی کی تھی
#WATCH | Delhi | TMC MP Derek O'Brien observes a silent protest at the Parliament premises.
He was suspended from Rajya Sabha today and later the House passed a motion against him referring his conduct to the Committee of Privileges for examination and investigation and submit… pic.twitter.com/iHq53B01d3
— ANI (@ANI) December 14, 2023
دراصل ڈیرک اوبرائن نعرے لگاتے ہوئے ایوان میں آ گئے تھے جس کی وجہ سے اسپیکر جگدیپ دھنکھڑ ناراض ہو گئے۔ انہوں نے ڈیرک اوبرائن کو ایوان سے باہر جانے کو کہا اور کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دی۔
کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو ڈیرک اوبرائن دوبارہ ایوان میں داخل ہوئے جس کی وجہ سے ایوان کو دوبارہ ملتوی کرنا پڑا۔ راجیہ سبھا کی کارروائی جمعہ کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی ارکان پارلیمنٹ نے نعرے بازی شروع کردی۔ایوان کی کارروائی جمعرات کو گیارہ بجے شروع ہوئی۔ اسپیکر اوم برلا جیسے ہی لوک سبھا پہنچے اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کو لے کر ہنگامہ کرنا شروع کردیا۔
انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اوم برلا نے سب کو امن برقرار رکھنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ کل ہونے والے واقعہ پر سب کو تشویش ہے
یہ واقعہ افسوس ناک تھا اس پر بات ہوگی۔ انہوں نے سب کو یقین دلایا کہ لوک سبھا کے اسپیکر کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
اس کے ساتھ ہی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں کہا کہ کل کے واقعہ کی سب نے مذمت کی ہے۔ سپیکر نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔ ہمیں محتاط رہنا ہوگا کہ ہم پارلیمنٹ میں داخلے کے لیے کس کو پاس فراہم کرتے ہیں۔
ارکان اسمبلی کو خیال رکھنا ہو گا کہ ایسے لوگوں کو پاس نہ دیا جائے جو افراتفری کا ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔ آئندہ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔
