چندرابابو نائیڈو پر وائی ایس آر کارکنوں کی سنگباری‘ پنگنور میں شدید کشیدگی
پولیس لاٹھی چارج وآنسو گیا کا استعمال‘ متعدد زخمی‘ آتشزدگی کے بھی واقعات‘ امتناعی احکامات نافذ
چتور:۔ 4/اگست
(زین نیوزبیورو)
آندھراپردیش کے پنگنور ضلع چتورمیں حکمراں وائی ایس آر اور اصل اپوزیشن تلگودیشم پارٹی کارکنوں کے درمیان گھمسان کی وجہ صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی جہاں دونوں مزاحمتی گروپس کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے پولیس کو آنسو گیاس اور ربڑ کی گولیاں داغنی پڑی۔
احتجاجیوں نے یکدوسرے پر سنگباری اور نومر گاڑیوں کو آگ لگا ئی۔سنگباری میں پولیس کے عہدیدار اور ملازمین بھی زخمی ہوگئے۔ ٹی ڈی پی سربراہ نارا چندرابابو نائیڈو پنگنور کے دورہ کے دوران شدید تناؤ پیدا ہوگیا۔ وائی ایس آرکانگریس کارکنوں نے ٹی ڈی پی سربراہ نارا چندرابابو نائیڈوپر پتھراؤ کیا تاکہ ان کے روڈ شو کو روکا جا سکے۔
این ایس جی کمانڈوز راستے میں کھڑے ہو گئے۔ اس کی اطلاع کے بعد ٹی ڈی پی اور وائی سی پی کے کارکنان انامیا ضلع کے انگلو کے قریب آپس میں لڑ پڑے۔ جب دونوں گروپوں نے پتھراؤ کیا تو پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں گروپوں پر لاٹھی چارج کیا اور انہیں منتشر کردیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔
وائی ایس آرکانگریس لیڈروں نے چندرا بابونائیڈو کو پنگنور شہر میں داخل ہونے سے روکنے ایک لاری سڑک پر پارک کر دی۔ جس کی وجہ سے لاری کی رکاوٹ کو ہٹانے کیلئے احتجاج کرنے والے ٹی ڈی پی کارکنوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس سے حالات کشیدہ ہو گئے۔
اس لاٹھی چارج میں ٹی ڈی پی کے کئی کارکنان شدید زخمی ہو گئے اور جب چندرا بابونائیڈو آ رہے تھے، وائی سی پی کے کارکنوں نے پنگنور میں ٹی ڈی پی کے بیانرس کو پھاڑ دیا۔
اس موقع پر ہونے والی جھڑپوں میں ٹی ڈی پی ایم پی ٹی سی دیویندر زخمی ہوگئے۔ ان کے ساتھ ٹی ڈی پی کے کئی کارکن زخمی ہوئے جنہیں ہاسپٹل لے جایا گیا۔ چندرا بابونائیڈو کو پنگنور کے راستے سوم پلی پراجیکٹ کا دورہ کرنا تھا۔ لیکن گو بیک چندرابابونائیڈو کے نعروں کے ساتھ وائی سی پی کارکنان سڑک پر آگئے۔
پولیس نے چندرا بابو کونائیڈو بتایا کہ تناؤ کے ماحول کی وجہ سے انہیں پنگنور میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایک کنٹینر لاری اور گاڑیوں کو اس سڑک پر روک دیا گیا جہاں چندرا بابونائیڈو جا رہے تھے۔
وائی ایس آر کانگریس کارکنوں نے تلگودیشم قائدین کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جس میں چندرا بابو کا قافلہ جا رہا تھا۔ اس حملے میں 20 گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
چندرا بابونائیڈو نے انگلو میں وزیر پدی ریڈی رامچندریڈی کو کشیدہ صورتحال کے پس منظر میں وارننگ دی اور چیلنج کیا کہ وہ چھپے نہیں، لیکن اگر وہ ہمت کرے تو میدان میں آئے۔ تاہم صبح سے ہی چندرابابونائیڈو کے دورہ کو لے کر تناؤتھا۔
یہ دورہ کشیدگی کے درمیان جاری رہا۔ کشیدہ ماحول کے درمیان پولیس نے چندرا بابو نائیڈوکے دورے کیلئے سخت حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔ 500 کے قریب پولیس اہلکار تعینات کئے گئے۔
اس وقت پنگنور کے نواحی علاقوں میں جنگ کا ماحول ہے۔ کشیدگی کے پیش نظر پنگنور بائی پاس پر شدید ٹریفک جام کے باعث موٹر سائیکل سواروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پولیس حالات کو سدھارنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن وہ نہیں آ رہی۔حکام نے اس علاقہ میں امتناعی احکامات نافذ کئے ہیں۔