تلنگانہ ـ: معروف جہد کار انقلابی شاعر غدر چل بسے
حیدرآباد:۔6؍اگست
(زین نیوز)
تلنگانہ تحریک کو اپنے گانوں سے تحریک دینے والی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔ معروف انقلابی شاعر گلوکار غدر (74) عمر میں چل بسے ۔ انہوں نے اتوار (6 اگست) کی سہ پہر کو اپولو ہسپتال میں آخری سانس لی۔ غدر کا اصل نام گمادی وٹھل راؤ ہے۔
وہ 1949 میں مشترکہ ضلع میدک کے توپرانمیں پیدا ہوئے۔۔ نظام آباد اور حیدرآباد میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1975 میں کینرا بینک میں داخلہ لیا
چند روز قبل انہیں دل کے عارضے میں مبتلا امیرپیٹ کے اپولو ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے ان کے دل کا آپریشن کیا۔ جناسینا کے سربراہ پون کلیان سمیت کئی مشہور شخصیات نے ہسپتال میں ان کی عیادت کی
غدرنے ایک بیان بھی جاری کیا کہ وہ صحت یاب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس دورانوہ واپس نہ آنے کی دنیا میں چلے گئے۔غدر کے چاہنے والے سوگ میں ڈوب گئے۔غدر کی بیوی اور تین بچے ہیں۔
غدر جسے عوامی جنگی جہاز کہا جاتا ہےنے عوامی جنگ، ماؤ نواز اور تلنگانہ تحریکوں کے دوران اپنی آواز سے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے نہ صرف عوامی مسائل پر جدوجہد کی بلکہ اپنے گانوں سے سب کو متاثر کیا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کیا۔
انہوں نے اپنے گانوں سے تحریک کو تحریک دی۔تلنگانہ تحریک کے دوران انکا ایک گانا ’’ پڑوستنا پودو میدا پور تلنگانہ‘‘ جو جئے بولو تلنگانہ فلم میں گایا گیاتلنگانہ کے ہر گلی کوچے‘ نکڑ میں بجنے لگا۔
ان کے اس گانے تلنگانہ تحریک کو مزید تقویت بخشی۔غدر جن ناٹیہ منڈل کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ ’’غدر پرجا فرنٹ پارٹی کے بانی بھی تھے
1987 میں، غدر نے کاراچندو میں دلتوں کے قتل کے خلاف انتھک جدوجہد کی۔ انہوں نے فرضی انکاونٹرس کی سخت مخالفت کی۔ 6 اپریل 1997 کو قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا۔

جیسے گانوں نے تحریکوں کو مزید تقویت دی۔ فلم ‘مابھومی میں سلور اسکرین پر نظر آنے والے گدر نے ‘نی پدم میں پٹوماچنائی چلیما. گانے کے لیے نندی ایوارڈ جیتا تھا تاہم یہ ایوارڈ غدرنے مسترد کر دیا تھا
