ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے ساتھ اتحاد کے لیے جماعت اسلامی ہند کے مذاکرات
اقلیتی یونیورسٹی کے قیام میں تاخیر پر تنقید
جگتیال میں صدر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ ڈاکٹر محمد خالد مبشر الظفر کی پریس کانفرنس
اقلیتی یونیورسٹی کے قیام میں تاخیر پر تنقید
جگتیال میں صدر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ ڈاکٹر محمد خالد مبشر الظفر کی پریس کانفرنس
جگتیال :۔15؍فروری
(عمران زین)
ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات‘کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کے لئے جماعت ہند مذاکرا ت کا آغاز کرچکی ہے یہہ بات ڈاکٹر محمد خالد مبشر الظفر، صدر جماعت اسلامی ہند، تلنگانہ نےد فتر جماعت اسلامی ہند جگتیال میں پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہی ہے
انھوں نے کہاکہ انسانیت کے لئے مسلم اتحادکو یقینی بنانے کے ایک پراجکٹ کا آغاز کیا ہے اورجماعت اسلامی جیسی تنظیم کو رورل اور دیہی سطح پر خدمات انجام دینے اولین ترجیح ہے اسی پیش نظر جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ایک پراجکٹ مصعب بن عمیر کے نام سے متعارف کروایا گیا ہے
اس پراجکٹ کے تحت تلنگانہ 614 منڈلس 322 منڈلس میں کام کا آغاز کیا ہےجبکہ 130منڈلس میں سرگرم عمل ہےگزشتہ دیڑھ سال سے یہ سرگرمیاں جاری ہیں جماعت اسلامی کی کیثر الجہتی سرگرمیاں ہیں بلالحاظ مذہب و ملت عوام کا بہت اچھا ردعمل رہا ہےاور بچھڑے اورپسماندہ طبقات‘ اور قبائلی مثبت نظرکے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
جماعت اسلامی ہند دیہاتو ں میں جس کام کو انجام دے رہی ہے وہ انسانیت کے لئے مسلم اتحادکو یقینی بنایا ہے ۔ انھوں نےضلع عادل آباد کے موضع سانگوی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جہاں صرف محدود مسلم آبادی ہے صرف 7،8 خاندان بستے ہیں وہاں کے مسلمانوں کو ترغیب د ی گئی کے بحیثیت مسلم طبقہ ادا کریں۔اور وہاں ایک مفت میڈیکل کیمپ رکھا گیا
جس میں اطراف کے بیس مواضعا ت سےتعلق رکھنے والے تمام طبقات کے تقریباً 400افراد نے استفادہ کیا ۔ انھوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کی جانب سے جو کوشش کی جارہی ہےکہ گاؤں گاؤں میں مسلمانوں کی خدمات کو قائم کرنا مقصد ہےاور بچھڑے ‘ قبائلی اور پسماندہ طبقات کے ساتھ سماجی تعلقات کو مضبوط کرنا ہے
علاوہ اسکے نان پولٹیکل ایریا جہاں کوئی سیاسی اثر و رسوخ نہ ہو اسے جگہ بچھڑے اور پسماندہ‘ قبائلی طبقات‘کے ساتھ اتحاد قائم کرنا ہے اور جماعت اسلامی اس طرح کے مذاکرا ت کا آغاز کرچکی ہے
انھوں نے کہاکہ سوشیل سرویس ( سماجی خدمات)‘ ایجوکیشن اور مشترکہ کاروبار غیرمسلم بھائیوں کے ساتھ مثبت اشتراک کریںاچھے نتائج آئیں گے اور یہ توحضورﷺ کی سنت کا بھی ایک حصہ ہے اور مسلمان ہمیشہ بلالحاظ مذہب و ملت سماجی خدمات میں آگے رہا ہے
کمبھ میلہ کے دوران مسلمانوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں او راسطرح کے سارے کام آنیوالے دنوں میں ہندوستان کی فاسسٹ طاقتوں کوبہت ہی شرمناک نتائج سے دوچار کریں گے۔اور مثبت سوچ ذہن رکھنے والے ہندو بھائی بھی انصاف و عدل کی راہ ہموار کریں گے۔
محمد خالد مبشر الظفر نے کہاکہ جماعت اسلامی ہند کانگریس کی زیر قیادت تلنگانہ حکومت کی اس پہلو سے ستائش کرتی ہے کہ اس نے انتخابات سے قبل عوام سے کیے گئے بعض وعدوں کی تکمیل کی ہے۔لیکن بہت سارے معاملات میں خاموشی معنیٰ خیز بھی ہےحکومت کو سماج دشمن عناصر چاہے کسی بھی طقبہ سے تعلق رکھتے ہوں ساتھ سختی کے ساتھ پیش آنا چاہے۔
اورمیڈیا کو بھی حقائق کے ساتھ معاملے کو اٹھانا چاہے ۔ضلعی سطح پرتعلیم میدان کو چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کئی وعدے کیے تھے انھوں نے اقلیتی یونیورسٹی بھی قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا
مینارئٹی یونیورسٹی کے قیا م پر سست پیش رفت پر تنقید کی۔اگر عادل آباد یا پھر جگتیال میں کریم نگر میں قائم کی جاتی ہے تو کانگریس حکومت میں مسلمانوں کوبہت فائدہ ہوگا۔اس ضمن میں حکومت کو مسلم قائدین ‘ تنظیموں ‘مسلم سماج سے رسائی کرنی چاہیے۔
انھوںنے کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف املاک کے تحفظ اور ترقی کے لیے مضبوط اقدامات کیے جائیں۔گانگریس رہنما راہول گاندھی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وقف ترمیمی بل کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور اپوزیشن کا کردار نبھائیں
انھوں نے کانگریس پارٹی سے اس معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے پر زور دیا ہے تاکہ وقف جائیدادوں کو تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اس پریس کانفرنس میں ریاستی سکریٹری ‘ امیر مقامی جماعت اسلامی جگتیال محمد عماد الدین عمیر‘ نعیم الدین ‘ محمد اسحاق علی ناظم ضلع‘ محمد شعیب الحق طالب صدرادارہ ادب اسلامی تلنگانہ و سابق امیر مقامی جگتیال‘ خواجہ صلاح الدین اور دیگر موجود تھے