Modi's Cyprus

وزیر اعظم نریندرمودی کا دورۂ قبرص

تازہ خبر مضامین
وزیر اعظم نریندرمودی کا دورۂ قبرص
قبرصی صدر کی جانب سے اعلیٰ ترین شہری اعزاز
نئی عالمی صف بندی: ہندوستانی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں تبدیلی ‘منصوبہ بند پیش قدمی
 کیاوزیر اعظم نریندر مودی کا یہ قدم ثمر آور ثابت ہوگا؟
Imran zain عمران زین
(ایڈیٹر زین نیوز)
موجودہ عالمی سیاست نہایت پیچیدہ اور مسلسل تغیر پذیر ہے۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ کی دہلیز پر ہے تو دوسری جانب جنوبی ایشیا میں پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات سرد مہری بلکہ تناؤ کا شکار ہیں۔ ان ہی حالات کے بیچ وزیراعظم نریندر مودی کا قبرص کا دورہ نہایت معنی خیز اور سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جو ہندوستان کی بدلتی ہوئی عالمی صف بندی اور اس کی تزویراتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔
ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کا دورۂ قبرص محض ایک رسمی دورہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے سفارتی اور تزویراتی منصوبے کا حصہ ہے، جو مستقبل میں نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔یہ دورہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ یہ دو دہائیوں میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا پہلا دورۂ قبرص ہے۔
نریندر مودی کی آمد کے موقع پر قبرص کے صدر نکوس کرسٹوڈولائڈس نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں ملک کا سب سے بڑا شہری اعزاز "گرانڈ کراس آف دی آرڈر آف میکاریوس III” سے نوازا۔ اس علامتی اعزاز سے نہ صرف باہمی تعلقات کو فروغ ملا بلکہ ہندوستان کو یورپ میں اپنی حیثیت مزید مستحکم کرنے کا موقع بھی ملا۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے نکوسیا کے پہاڑی علاقوں کا دورہ بھی کیاجو 1974ء سے ترکی کے قبضے میں ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ قبرص اور ترکی کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں۔ جولائی 1974 میں یونانی فوجی جنتا کے تعاون سے قبرص میں بغاوت کی گئی جس کے بعد ترکی نے ٹریٹی آف گارنٹی ((1960) کا حوالہ دیتے ہوئے مداخلت کی اور جزیرے کے 37 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا جو آج ترک جمہوریہ شمالی قبرص (TRNC) کہلاتا ہے – جسے صرف ترکی تسلیم کرتا ہے۔
  1974ء میں ترکی کی فوجی مداخلت کے بعد یہ ملک عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ جنوبی قبرص، یعنی جمہوریہ قبرص، جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ شمالی قبرص پر ترکی کا قبضہ ہے، جسے دنیا میں صرف ترکی تسلیم کرتا ہے۔ ہندوستان جمہوریہ قبرص کے مؤقف کو تسلیم کرتا ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہندوستان اور ترکی کے درمیان خفیف کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
۔اس جغرافیائی تقسیم نے قبرص کو نہ صرف علاقائی سیاست میں بلکہ یورپی یونین اور مشرقی بحیرہ روم میں بھی ایک اہم فریق بنا دیا ہے۔ قبرص اور ترکی کے درمیان گیس کی تلاش اور سمندری حدود کے تنازع نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔
 قبرص ایک یورپی یونین کا رکن ہونے کے ناطے ترکی کے ان دعوؤں کی کھل کر مخالفت کرتا ہے جبکہ ترکی قبرص کی سرگرمیوں کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے اس تناظر میں قبرص کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور اتحاد کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں ملکوں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ "بامعنی مذاکرات کی بحالی کے لیے یکطرفہ اقدامات سے بچنا لازم ہے۔
یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ترکی اور پاکستان کے تعلقات میں گہرائی آئی ہے۔ انقرہ نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر بارہا پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، اور "آپریشن سندھور” کے دوران پاکستان کی جانب سے ترک ساختہ ڈرونز کے استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اس کے برعکس قبرص نے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے، اور پہلگام حملے کے بعد یورپی یونین میں اس مسئلے کو اٹھانے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔
یہ واضح اشارے ہیں کہ قبرص، ہندوستان کا ایک قابلِ اعتماد سفارتی ساتھی بن کر ابھرا ہے۔ قبرص نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت، نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG) اور IAEA جیسے اداروں میں ہندوستان کی شمولیت کی کھل کر حمایت کی ہے۔
قبرص کی جغرافیائی پوزیشن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف یورپ، ایشیا اور افریقہ کے بیچ واقع ہے بلکہ اسے انڈیاِمڈل ایسٹ ،یورپ اکنامک کوریڈور (IMEC) میں کلیدی کردار حاصل ہے۔
 وزیراعظم مودی کا یہ دورہ 2026 میں قبرص کے یورپی یونین کونسل کی صدارت سنبھالنے سے قبل کیا گیا ہے تاکہ یورپی یونین کے توانائی، تجارتی اور سفارتی فریم ورکس میں ہندوستان کی شمولیت کو وسعت دی جا سکے۔ خاص طور پر ہندوستان۔
یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کو 2025 کے اختتام تک مکمل کرنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے یہ دورہ نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔قبرص کی معیشت تقریباً 30 ارب امریکی ڈالر کے قریب ہے اور اس کی آبادی تقریباً 12 لاکھ ہے۔
 یورو کرنسی کو اختیار کرنے کے بعد یہ ایک فنانشل اور سرمایہ کاری مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ تعلیم، بینکاری، آئی ٹی، سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں ہندوستان کے لیے کئی نئے مواقع موجود ہیں۔ وزیراعظم مودی کے اس دورے میں ان ہی امکانات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات زیر غور آئے۔ہندوستان کے اس دورے سے ترکی کی ناراضی کا امکان ہے کیونکہ ترکی قبرص کے مسئلے کو نہایت حساس نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ترکی نہ صرف شمالی قبرص کی آزادی کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اس کے تحفظ کو اپنے قومی مفاد سے جوڑتا ہے۔
دوسری جانب ہندوستان نے اپنے حالیہ اقدامات سے واضح کر دیا ہے کہ وہ قبرص کے یونانی اکثریتی حصے کے ساتھ اپنے سفارتی، تجارتی اور تزویراتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔ اس تناظر میں ترکی ہندوستان کو قبرص کے مسئلے میں ایک فریق کے طور پر دیکھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ترکی اور ہندوستان کے تعلقات میں مزید سرد مہری پیدا ہو سکتی ہے۔
ترکی اور ہندوستان کے تعلقات کی تاریخ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک اقتصادی سطح پر مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن پچھلے چند برسوں میں یہ تعلقات خاصے پیچیدہ ہو چکے ہیں۔
 ترک صدر رجب طیب اردوغان نے بارہا اقوامِ متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے، جس پر ہندوستان نے شدید ردعمل دیا ہے۔ ہندوستان کی جانب سے ترکی کے ساتھ بعض دفاعی و تجارتی معاہدے محدود کیے گئے، اور باہمی دورے بھی موقوف ہو چکے ہیں۔
 ترکی کا پاکستان کے ساتھ بڑھتا ہوا عسکری و سفارتی اشتراک ہندوستان کے لیے مزید تشویش کا باعث ہے۔قبرص کے ساتھ ہندوستان کی قربت اس کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، خصوصاً جب یہ واضح پیغام دیا جا رہا ہو کہ ہندوستان ترکی کے زیرِ اثر کسی بھی علاقے کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
 ہندوستان دراصل قبرص سے تعلقات بڑھا کر یورپی یونین، یونان، اسرائیل اور مصر جیسے ممالک کے ساتھ اپنی سفارتی پوزیشن کو مضبوط کر رہا ہے، جن کے ترکی سے تعلقات اکثر تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔اس دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی بھی جنوبی ایشیا کے لیے ایک نیا خطرہ بن کر ابھری ہے۔
 ایسے حالات میں قبرص ہندوستان کے لیے ایک اہم تزویراتی مقام بن سکتا ہے، جہاں سے وہ نہ صرف اپنی بحری موجودگی کو مستحکم کر سکتا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں کسی ممکنہ انسانی انخلا یا بحران کی صورت میں فوری کارروائی کا آغاز بھی کر سکتا ہے۔
 اسرائیل اور ایران دونوں ہندوستان کے اہم شراکت دار ہیں، ایسے میں ان کے تنازع میں توازن قائم رکھنے کے لیے ہندوستان کو ایسے تیسرے ہم خیال ممالک کی ضرورت ہے جن سے وہ بیک وقت تزویراتی اور اخلاقی تائید حاصل کر سکے، اور قبرص اس کمی کو پورا کر سکتا ہے۔دوسری جانب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سرد جنگ کا سلسلہ بھی اپنی جگہ جاری ہے۔
 ہندوستان ایسے ممالک سے قریبی روابط قائم کر کے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان کے بیانیے کا مؤثر توڑ چاہتا ہے۔ قبرص ایک ایسا ملک ہے جس نے کشمیر کے مسئلے پر کبھی بھی ہندوستان کے خلاف مؤقف نہیں اپنایا، بلکہ ماضی میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کی حمایت بھی کی ہے۔
ہندوستان کی خارجہ پالیسی اب روایتی توازن کے بجائے مفاد پرستی اور صف بندی کے نئے زاویے اختیار کر رہی ہے۔ وزیراعظم مودی کا دورۂ قبرص اسی خارجہ پالیسی کا مظہر ہے، جس میں ہندوستان اپنے معاشی، سفارتی اور تزویراتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے دوست اور حلیف تلاش کر رہا ہے، چاہے اس سے کچھ روایتی تعلقات متاثر ہی کیوں نہ ہوں۔
یہ اقدام ہندوستان کو یورپی یونین کے حلقے میں زیادہ باوقار مقام دلا سکتا ہے، اس کی دفاعی حکمت عملی کو وسعت دے سکتا ہے، اور عالمی صف بندی میں اسے ایک مستحکم کھلاڑی کے طور پر ابھار سکتا ہے۔ تاہم دوسری طرف یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ ترکی جیسے اہم مسلم ملک سے تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہو جائیں اور پاکستان اور ترکی کا باہمی اتحاد مزید گہرا ہو کر جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی دراڑیں پیدا کرے۔
قبرص کی سرزمین پر رکھا گیا یہ قدم بظاہر سفارتی ہے، لیکن اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک متحرک مگر نازک سفارتی چال ہے، جو ہندوستان کو نئی بلندیوں تک پہنچا بھی سکتی ہے اور خطے میں کچھ طاقتوں کی ناراضی کا سبب بھی بن سکتی ہے
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کی قبرص سے قربت، ترکی سے دوری کا سبب بنے گی؟ ترکی پہلے ہی ہندوستان کی کشمیر پالیسی پر تنقید کرتا رہا ہے اور اب اگر ہندوستان قبرص کو کھل کر حمایت دیتا ہے، تو یہ ترکی کے لیے ایک ناپسندیدہ پیغام ہو سکتا ہے۔
ان حالات میں پاکستان، ترکی اور بعض دیگر مسلم ممالک کے درمیان ایک سفارتی بلاک تشکیل پا سکتا ہے، جو ہندوستان کے مفادات سے متصادم ہو گا۔لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اب توازن سے زیادہ مفاد پرستی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ہندوستان اب ایسے شراکت داروں سے تعلقات مستحکم کر رہا ہے جو اسے عالمی سطح پر حمایت، معاشی ترقی اور تزویراتی سہارا فراہم کر سکیں، خواہ اس کے بدلے روایتی تعلقات پر کچھ دباؤ کیوں نہ آئے۔قبرص کا یہ دورہ، جہاں سفارتی لحاظ سے ایک علامتی قدم ہے، وہیں اس میں گہرے تزویراتی اور معاشی مفاہیم بھی پنہاں ہیں۔ ہندوستان کے لیے یہ نہ صرف ایک یورپی دروازہ کھولنے کی کوشش ہے بلکہ مشرقی بحیرہ روم میں اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک ذریعہ بھی۔گویا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا دورۂ قبرص ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا ایک سنگِ میل ہے، جو عالمی سیاست میں اس کے نئے مقام اور خودمختار فیصلوں کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے۔
 اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قدم کے اثرات کیا عالمی سطح پر ہندوستان کے حق میں جاتے ہیں یا خطے میں نئی کشیدگیاں جنم دیتی ہیں۔ وقت ہی بتائے گا کہ ہندوستان کا یہ اقدام عالمی سیاست میں کیا رنگ لاتا ہے، مگر یہ طے ہے کہ نئی عالمی صف بندی کے نقشے پر ہندوستان کا قدم اب مزید واضح ہوتا جا رہا ہے۔