کانگریس حکومت میں آنے کے بعد وعدے پورے نہیں ہوئے تو وہ اقتدار سے دستبردارہو جائیں گے
تلنگانہ کے نوجوانوں کو کمپنیوں میں 75 فیصد ریزرویشن کا وعدہ۔ طالبات میں مفت اسکوٹر تقسیم کیے جائیں گئے
کے سی آر ا تلنگانہ کو پنی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں‘حیدرآباد میں جلسہ سے‘پرینکا گاندھی کاخطاب
حیدرآباد:۔8؍مئی
(زین نیوز)
آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے تلنگانہ کے عوام بالخصوص نوجوانوں اور طلبہ سے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند مہینوں میں نئی حکومت کا انتخاب کرتے وقت چوکس رہیں اور باخبر فیصلہ کریں، یہ کہتے ہوئے کہ حکمراں پارٹی کی قیادت یہ عقیدہ کہ ریاست ان کی جاگیر ہے اور وہ جاگیردار ہیں ۔
تلنگانہ میں اس سال کے آخر میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے پیر کو حیدرآباد کے سرو نگر اسٹیڈیم میں جلسہ جدوجہد (یواسنگھر ش سبھا) میں یوتھ منشور جاری کیا۔
عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں حکومت آنے پر تلنگانہ کے نوجوانوں کو سرکاری امداد یافتہ پرائیویٹ کمپنیوں میں 75 فیصد ریزرویشن ملے گا۔ بے روزگار نوجوانوں کو ہر ماہ 4 ہزار روپے کا بے روزگاری الاؤنس ملے گا۔
ہم ایک سال کے اندر ریاست میں 2 لاکھ خالی جائیدادوں کو پر کرنے کی کوشش کریں گے۔ تلنگانہ کو علیحدہ ریاست کا درجہ دینے کی تحریک میں ہلاک ہونے والوں کے خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے گی۔
شہدا کے والدین یا ان کی بیویوں کو 25 ہزار روپے ماہانہ پنشن دی جائے گی۔ الیکٹرک اسکوٹر 18 سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کو دیے جائیں گے۔ ریاست کے ہر زون میں اسکل ڈیولپمنٹ مراکز قائم کیے جائیں گے۔
پرینکا گاندھی نے کہاکہ اس دھرتی کے لیے سینکڑوں لوگوں نے قربانی دی،آپ تلنگانہ کو ماں کہتے ہیں۔ یہ ریاست آپ کے لیے صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہے اور نہ ہی یہ نقشے پر کھینچی گئی لکیر ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جسے تم ماں سمجھتے ہو۔ اس دھرتی کے لیے سینکڑوں لوگوں نے قربانیاں دیں۔ میرے خاندان نے بھی بہت قربانیاں دی ہیں، اندرا اماں ملک کے لیے شہید ہوئیں۔
ہمیں قربانی کا مطلب معلوم ہے، میری ماں سونیا گاندھی آپ کی بات سمجھ گئی، فیصلہ مشکل تھا، پھر بھی ہم نے سیاست کے بارے میں نہیں سوچا۔
موجودہ حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ تلنگانہ ان کی جاگیر ہے۔ملک اور تلنگانہ کے لیے شہید ہونے والوں کا خواب تھا کہ ریاست کے ہر شہری کو ان کے حقوق ملیں۔ شہداء کا نعرہ تھا پانی، فنڈ اور روزگار، لیکن آج ریاست میں صرف حکمران جماعت کو پانی مل رہا ہے۔ انہیں فنڈز مل رہے ہیں، حکومت کے قریبی لوگوں کو نوکریاں مل رہی ہیں۔
کے سی آر حکومت تلنگانہ کے عوام کے خوابوں کو پورا نہیں ہونے دے رہی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ یہ خطہ ان کی جاگیر ہے اور وہ اس کے نئے جاگیردار ہیں۔ انہیں یہاں سے نکال دو۔
ریاست میں روزانہ 3 کسان خودکشی کر رہے ہیں،تلنگانہ کے 2.5 لاکھ کسانوں پر 1.5 لاکھ کا قرض ہے۔ حکومت نے کسانوں کے قرضے معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کرپائی۔ 2014 سے اب تک 8 ہزار کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ روزانہ 3 کسان خودکشی کرتے ہیں۔
کے سی آر کی حکومت بننے سے پہلے وہ کہتے تھے کہ ہم ہر گھر کو روزگار دیں گے، کیا آپ کے گھر میں نوکری ملی؟ کہا گیا کہ بے روزگار نوجوانوں کو ہر ماہ 3000 روپے الاؤنس دیں، کیا آپ کو الاؤنس ملا؟
ریاست میں سرکاری ملازمتوں کی 2 لاکھ آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ پی پی ایس سی کا پیپر لیک ہوا، کوئی کارروائی ہوئی؟ موجودہ حکومت نے گزشتہ پانچ سالوں میں ایک بھی سرکاری یونیورسٹی نہیں بنائی۔ ایک پرائیویٹ یونیورسٹی بنائی گئی ہے لیکن غریب خاندان اس کی فیس ادا نہیں کر سکتا۔
تعلیم کا بجٹ خود کم کر دیا گیا ہے۔ آپ کے بڑے خوابوں کا کیا ہوا، جس کے لیے آپ نے ایک نئی ریاست بنائی تھی۔ حکومت نے آپ کے خواب چکنا چور کر دیئے۔ اب آپ نے فیصلہ کرنا ہے۔ تلنگانہ میں چند مہینوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ تلنگانہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست میں جلد انتخابات ہو نے والے ہیں انہوں نے عوام کو مشورہ دیا وہ حکومت کو منتخب کرتے وقت محتاط رہیں۔اس شعور کے ساتھ نئی حکومت کا انتخاب کریں کہ آئندہ پانچ سال میں ان کا بھلا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وہ تلنگانہ کے عوام کو جھوٹی یقین دہانی نہیں کر سکتے جو40سال قبل فوت ہونے والی اندراما کو آج بھی یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایمانداری سے بول رہی ہیں۔سونیا گاندھی نے پوری ذمہ داری کے ساتھ علحدہ ریاست تلنگانہ کو دیا۔
اب وہ اسی ذمہ داری کے ساتھ یوتھ ڈیکلریشن کا اعلان کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی حکومت آنے کے بعد وعدے پورے نہیں کرسکی تو وہ اقتدار سے دستبردار ہوجائینگی ۔
پرینکا گاندھی نے مزید کہاکہ میرا دادی اندرا سے موازنہ کر کےآپ لوگ مجھے ذمہ داری کا احساس دلاتے ہیں، میری طرف دیکھ کر کہتے ہیں کہ میں اندرا اماں کی طرح ایک اور اندرا اماں ہوں۔ یہ مجھے ذمہ داری محسوس کراتا ہے۔ وہ 40 سال پہلے ملک کے لیے شہید ہوئی تھی، لیکن آج بھی یاد ہیں۔ میں ان کی یاد میں جھوٹے وعدے نہیں کر سکتی
آپ لوگوں کو مجھ میں اندرا گاندھی نظر آتی ہے، اس لیے یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں یہاں جھوٹے وعدے نہیں کروں گا۔ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت بننے کے بعد تمام وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔
طالبات میں مفت اسکوٹر تقسیم کیے جائیں گئے
اعلامیہ میں کہا گیا کہ کانگریس پارٹی ریاست میں نوجوان خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کر رہی ہے، اس مقصد کے لیے 18 سال سے زیادہ عمر کی ہر طالبہ کو الیکٹرک اسکوٹر دیے جائیں گے۔
جلسہ میں پارٹی قائدین وکارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ان میں تلنگانہ کیلئے پارٹی امور کے انچاج مانک راؤ ٹھاکرے‘ ندیم احمد‘ صدر پردیش کانگریسکمیٹی اے ریونت ریڈی‘ بھٹی ملو وکرامارکا‘ سابق وزیروسابق اوپوزیش لیڈر تلنگانہ قانون ساکونسل محمد علی شبیر‘ کارگذارصدر پردیش کانگریس محمد اظہر الدین‘سابق صدور پردیش کانگریسکمیٹی پی لکشمیا‘ وی ہنمنت راؤ‘ این اتم کمار ریڈی‘صدر کانگریس ضلع حیدرآبادسمیر احمد‘پونم پربھاکرو دوسروں نے شرکت کی
