لندن میں بارش کے دوران تین لاکھ فلسطینی حامیوں کا تاریخی مارچ

تازہ خبر عالمی

لندن میں بارش کے دوران تین لاکھ فلسطینی حامیوں کا تاریخی مارچ

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید احتجاج

نئی دہلی : 22/اکتوبر
(زین نیوز ورلڈ ڈیسک)
غزہ پر اسرائیل کی جاری بمباری بند کرنے کا مطالبہ کرنے کے لیے تقریباً تین لاکھ فلسطینی حامیوں نے ہفتہ کے روز لندن میں بارش کے دوران مارچ کیا۔

اسی طرح دنیا کے مختلف شہروں میں لوگوں نے بم دھماکے روکنے کے لیے آواز بلند کی۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کا یہ تیسرا ہفتہ ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے اتوار کی علی الصبح مقبوضہ مغربی کنارے میں مسجد الانصار کے نیچے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ جنین پناہ گزین کیمپ میں مسجد کے نیچے کا کمپاؤنڈ حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے کارکنوں کا تھا، جو حالیہ مہینوں میں حملوں کے ذمہ دار تھے۔ فلسطینی حکام نے بتایا کہ اس حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا۔

اسرائیل نے ہفتہ کے روز فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے اس دعوے کو "پروپیگنڈا” قرار دیا کہ ملک نے انسانی بنیادوں پر مزید دو مغویوں کی رہائی کو مسترد کر دیا ہے۔

حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ قطر کو مطلع کیا گیا تھا کہ گروپ جمعہ کو مزید دو افراد کو رہا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اسی دن اس نے امریکی شہریوں جوڈتھ تائی راعان اور ان کی بیٹی نٹالی کو رہا کیا تھا۔

 

اسرائیل اور حماس کی جنگ کے باعث غزہ میں 10 لاکھ سے زائد لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے  مجبور ہو گئے ہیں۔

فلسطینی حامی لندن میں وائٹ ہال کی طرف مارچ کرنے سے پہلے یہاں ہائیڈ پارک کے قریب ماربل آرچ میں جمع ہوئے۔

پولیس کا اندازہ ہے کہ تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اس مظاہرے میں شریک مظاہرین کی تعداد ایک تین لاکھ تک تھی۔

فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے اور ‘غزہ پر بمباری بند کرو’ کے نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین نے غزہ پر اسرائیل کے حملے اور بمباری بند کرنے کا مطالبہ کیا