حیدرآباد : پرانے شہر میں کانسٹیبل پر حملہ کے الزام میں روڈی شیٹر گرفتار
حیدرآباد :۔ 23 اگست
(ایجنسیز)
روڈی شیٹر اور اس کے ایک ساتھی کو ساتھ زون ٹاسک فورس ٹیم نے گرفتار کر کے شاہ علی بنڈہ پولیس کے حوالہ کر دیا۔ روڈی میٹر پر کانسٹبل پر حملہ کا الزام ہے۔
تاہم اس کے ساتھی پر کسی قسم کا کوئی الزام نہیں ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ فلک نما علاقہ کا رہنے والا روڈی شیٹر محمد مسیح الدین 15 جولائی کی رات فتح دروازہ علاقہ میں کھڑا تھا۔
اس دوران شاہ علی بندہ پولیس اسٹیشن کا ایک کانسٹیبل سری کانت ایکٹوا پر اپنے ایک ساتھی کے ساتھ پٹڑولنگ کرتے ہوئے وہاں پہنچے کانسٹیل نے وہاں کھڑے ہوئے افراد سے استفسار کیا کہ وہ وہاں کیوں کھڑے ہیں۔
اس موقع پر محمد مسیح الدین روڈی شیٹر نے سمجھا کہ کوئی عام آدمی ان پر حملہ کرنے آیا ہے کیونکہ کانسٹبل یونیفارم پر جیکٹ میں ملبوس تھے۔
مسیح الدین نے کانسٹبل سری کانت کو دھکا دیدیا جس کے نتیجہ میں کانسٹیل کو چوٹ آئی اور وہ زخمی ہو گیا۔ کانسٹبل سری کانت نے اس واقعہ کی شکایت شاہ علی بنڈہ پولیس اسٹیشن میں درج کروائی۔
اس وقت کے انسپکٹر نے نامعلوم حملہ آور کے خلاف کرائم 97/2023 فعات 353/332/307 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ اس مقدمہ میں اقدام قتل 307 کی دفعہ بھی لگائی گئی ہے۔ جبکہ روڈی ھیٹر نے کانسٹبل پر ہتھیار سے حملہ نہیں کیا۔
اب پولیس کے رول پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بے قصور افراد کو مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ساتھ زون ٹاسک فورس نے روڈی شیٹر مسیح کو گرفتار کر کے تفتیش کے دوران پوچھا کہ 15 جولائی کو کانسٹیل پر حملہ کے موقع پر کون کون ان کیساتھ تھے۔
ملزم نے مزید 4 افراد کے نام بتائے جس پر ٹاسک فورس سب انسپکٹر نرسمبلونے ان 4 افراد کا نام اس کیس میں شامل کر دیا جبکہ یہ 4 افراد وہاں تھے