Superim-Court

سپریم کورٹ میں 14 اپوزیشن جماعتوں کی عرضی خارج

تازہ خبر قومی
سپریم کورٹ میں 14 اپوزیشن جماعتوں کی عرضی خارج
 سیاست دانوں کے لیے الگ رہنما خطوط نہیں بنائے جاسکتے۔سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ 
نئی دہلی:۔5؍اپریل
(زیڈ این ایم ایس)
نے سی بی آئی اور ای ڈی جیسی مرکزی ایجنسیوں کے من مانی استعمال سے متعلق 14 اپوزیشن جماعتوں کی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔
سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ نے بدھ کو کہا کہ سیاست دانوں کے لیے الگ رہنما خطوط نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت کے اس ریمارکس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے اپنی درخواست واپس لے لی۔
سی جے آئی نے یہ بھی کہا کہ جب آپ کہتے ہیں کہ اپوزیشن کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو اس کا حل سیاست میں ہے، عدالت میں نہیں۔ سی جے آئی نے یہ بھی کہا کہ حقائق کی عدم موجودگی میں عدالت کے لیے عام ہدایات جاری کرنا خطرناک ہوگا۔
آپ کو بتا دیں کہ کانگریس کی قیادت میں 14 اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت پر سی بی آئی اور ای ڈی کے من مانی استعمال کا الزام لگایا تھا۔ درخواست میں ان فریقین نے گرفتاری، ریمانڈ اور ضمانت کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے پیش ہوئے۔ سنگھوی نے کہا- سال 2013-14 سے 2021-22 تک سی بی آئی اور ای ڈی کے معاملات میں 600 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
 ای ڈی نے 121 لیڈروں کی جانچ کی، جن میں سے 95 فیصد اپوزیشن پارٹیوں سے ہیں۔ جبکہ سی بی آئی نے 124 لیڈروں کی تفتیش کی، جن میں سے 95 فیصد سے زیادہ اپوزیشن پارٹیوں کے ہیں۔
اس پر سپریم کورٹ نے سنگھوی سے پوچھا، کیا ہم ان اعداد و شمار کی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ کوئی تحقیقات یا ٹرائل نہیں ہونا چاہئے؟ کیا یہ دفاع کرنے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے؟ عدالت نے کہا کہ سیاسی جماعت کا لیڈر بنیادی طور پر ایک شہری ہوتا ہے اور بطور شہری ہم سب ایک ہی قانون کے تابع ہیں۔
جسٹس چندرچوڑ نے درخواست کی قانونی حیثیت اور عملییت پر شکوک کا اظہار کیا۔ انہوں نے سنگھوی سے پوچھا کہ کیا وہ جانچ اور کیس سے اپوزیشن جماعتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کیا انہیں بطور شہری کوئی خصوصی حقوق حاصل ہیں؟
ابھیشیک سنگھوی نے واضح کیا کہ وہ اپوزیشن لیڈروں کے لیے کوئی تحفظ یا استثنیٰ نہیں چاہتے ہیں بلکہ صرف قانون کی انصاف پسندی چاہتے ہیں۔
 انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو کمزور کرنے اور ڈرانے کے لیے ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے اور یہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے نقصان دہ ہے۔ حکومت عدالت کی طرف سے طے شدہ ‘ٹرپل ٹیسٹ’ کی بھی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ یعنی کسی کی گرفتاری کے جرم کی وجہ، ضرورت اور سزا کو مدنظر رکھنا۔
تاہم چیف جسٹس چندر چوڑ سنگھوی کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ آپ کی عرضی مکمل طور پر صرف سیاست دانوں کے لیے ہے۔ جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ عرضی میں عام شہریوں کے حقوق اور مفادات کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے۔
 درخواست میں یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ تفتیشی اداروں کی کارروائی سے عام شہری متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ سنگھوی پارلیمنٹ میں اپنی تشویشات اٹھا سکتے ہیں۔
ابھیشیک منو سنگھوینے اس کے بعد پٹیشن واپس لینے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ وہ دوبارہ عدالت میں آئیں گے جب ان کے پاس طاقت کے غلط استعمال کے بارے میں مضبوط حقائق ہوں گے۔