مکاتبِ قرآنیہ کو مؤثر بنانے کے لیے مقامی ذمہ داران کی توجہ اور محنت ضروری 

تازہ خبر تلنگانہ مذہبی
مکاتبِ قرآنیہ کو مؤثر بنانے کے لیے مقامی ذمہ داران کی توجہ اور محنت ضروری 
معلمین کرام کے ماہانہ تربیتی اجلاس سے مولانا محمد نظرالحق قاسمی و دیگر کے خطابات
کاماریڈی:۔13؍اگست
 (ای۔میل)
مکاتبِ قرآنیہ امت مسلمہ کے دینی و فکری تحفظ میں سنگِ میل ہیں۔ یہ نہ صرف بچوں کو قرآنِ کریم اور بنیادی دینی تعلیم سے روشناس کروا رہے ہیں بلکہ اسلامی تربیت، ایمان و عقائد کی حفاظت اور دینی شعور کی بیداری میں بھی مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ بالخصوص دیہی علاقوں میں معلمینِ کرام کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں جنہوں نے مساجد کی آبادکاری کے ساتھ ساتھ عوام کے عقائد و ایمان کی حفاظت میں بھی گراں قدر کردار ادا کیا ہے۔
مجلس تحفظ ختمِ نبوت ٹرسٹ کاماریڈی، جو مجاہدِ ختمِ نبوت حضرت مولانا ابرار الحسن صاحب رحمانی قاسمی کی قیادت و صدارت میں فتنوں کی سرکوبی اور عقائدِ اسلام کی حفاظت میں سرگرمِ عمل ہے، کے زیرِ اہتمام معلمینِ مکاتبِ قرآنیہ کا ماہانہ تربیتی اجلاس مدرسہ مصباح الہدی کاماریڈی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت حافظ محمد فہیم الدین منیری (ناظم مجلس) نے کی۔
مولانا محمد نظرالحق قاسمی نگران مجلس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معلمینِ کرام کی بے لوث خدمات کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی ذمہ داران مکاتب کے انتظام و انصرام میں بھرپور دلچسپی لیں، طلبہ کی حاضری، اوقات کی پابندی اور تعلیمی معیار کی مسلسل نگرانی کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک مکتب کی کامیابی صرف معلم کی محنت سے نہیں بلکہ مقامی قیادت اور برادری کے عملی تعاون سے ممکن ہوتی ہے۔
مولانا سید منظور احمد مظاہری نے زور دے کر کہا کہ دیہی مسلمانوں کو مجلس تحفظ ختمِ نبوت سے مضبوط تعلق قائم رکھنا چاہیے، اپنے علاقے کے مزید افراد کو اس دینی مشن سے وابستہ کرنا چاہیے اور عقائدِ اسلام کی حفاظت کے لیے ہونے والی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینا انتہائی ضروری ہے۔
قاری مجاہد صدیقی نے کہا کہ آج سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہی گھر گھر پہنچ رہی ہے، اس لیے علما، حفاظ اور دینی کارکنان کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو دینی ماحول اور مساجد و مکاتب سے جوڑیں۔ ورنہ نت نئے فتنوں کا شکار خصوصاً نوجوان نسل ہو رہی ہے، جو دین و ایمان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
 نوجوانوں کی فکری و عملی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ناظم مجلس، حافظ محمد فہیم الدین منیری حفظہ اللہ نے معلمین کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ دینِ اسلام کی سرحدوں کے محافظ ہیں اور اسی جذبہ و اخلاص کے ساتھ اپنی خدمات جاری رکھیں۔
انہوں نے معلمین کو ہدایت کی کہ قرآنِ مجید کو تجوید کے ساتھ پڑھانے، نماز کی عملی تربیت دینے، سنتوں کا مذاکرہ کرنے، مسنون دعائیں سکھانے اور طلبہ کو اسلامی اخلاق و آداب کی طرف راغب کرنے پر خصوصی توجہ دیںاس موقع پر حافظ فیض الحسن اور مولانا ابصار الحق نے تدریسی مہارت میں بہتری کے لیے معلمین کو عملی مشق کروائی تاکہ بچوں کی تربیت اور تدریسی معیار کو بہترین انداز میں پیش کیا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر حافظ محمد فہیم الدین منیری حفظہ اللہ نے دعا فرمائی، جس میں دینِ اسلام کی سربلندی، عقائد کی حفاظت، امت کی یکجہتی اور فتنوں سے محفوظ رہنے کی دعائیں شامل تھیں۔ حافظ محمد عبدالواجد حلیمی، مولانا شعیب خان قاسمی اور محمد عبدالرزاق (اراکین مجلس تحفظ ختمِ نبوت) نے معزز شرکا کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا