parliamen-security-breach =f

پارلیمنٹ حملے کی 22 ویں برسی پر ایک بار پھر سیکیورٹی کوتاہی

تازہ خبر قومی
پارلیمنٹ حملے کی 22 ویں برسی پر ایک بار پھر سیکوریٹی کوتاہی
2 افراد وزیٹرس گیلری سے لوک سبھا میں کود پڑے، زرد دھواں چھوڑا۔ملزمان گرفتار
نئی دہلی:۔13؍ڈسمبر
(زین نیوز ڈیسک)
پارلیمنٹ پر دہشت گرد حملے کی 22 ویں برسی کے موقع پر ایوان میں اس وقت افراتفری مچ گئی جب سامعین( وزیٹرس) گیلری سے دو نوجوانوں نے اچانک چھلانگ لگا دی۔ اس وقت بی جے پی ایم پی کھگین مرمو لوک سبھا میں اپنے خیالات پیش کر رہے تھے۔
 وہ ایوان کی بنچوں پر کودنے لگے۔ نوجوانوں نے اپنے جوتوں میں کچھ اسپرے چھپا رکھا تھا۔ باہر نکال کر اسپرے کیا جس سے ایوان  میں زرد(پیلا) دھواں پھیلنے لگا۔
پورے  ایوان میں افراتفری کا ماحول تھا۔ اس کے بعد اراکین پارلیمنٹ نے انہیں پکڑ لیا۔ کانگریس ایم پی گرجیت سنگھ اوجلا نے بتایا کہ میں نے انہیں پہلے پکڑا۔ کچھ نے ان دونوں کو مارا بھی۔
اس کے بعد اسے سیکیورٹی عہدیداروں کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ دیکھ کر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی۔
اس سے قبل 13 دسمبر 2001 کو پارلیمنٹ کی پرانی عمارت پر 5 دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔ اس میں دہلی پولیس کے 5 اہلکاروں سمیت 9 لوگ مارے گئے۔
کل 4 لوگ تھے، دو ایوان کے اندر اور دو باہر۔بتایاجا رہا ہے کہ کارروائی کے دوران داخل ہونے والے دو لوگوں میں سے ایک کا نام ساگر ہے۔ دونوں ارکان پارلیمنٹ وزیٹر پاس پر ایوان میں آئے تھے۔ اسی وقت ایک مرد اور عورت نے ایوان کے باہر پیلا دھواں چھوڑا۔ ان کے نام امول اور نیلم ہیں۔

https://twitter.com/GitaSKapoor_/status/1734871831788872009

 ان کے پاس سے کوئی فون یا بیگ برآمد نہیں ہوا۔ باہر سے گرفتار کیے گئے دونوں افراد کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے طور پر پارلیمنٹ پہنچے اور ان کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں ہے۔
نیلم نے نعرہ لگایا کہاکہ ‘آمریت نہیں چلے گی۔ آئین کو بچائیں۔ منی پور کو انصاف دو۔ خواتین پر تشدد جاری نہیں رہے گا۔ مادر ہند زندہ باد۔ جئے بھیم، جئے بھارت۔
ایک گھنٹے بعد دوبارہ کارروائی شروع ہوئی۔یہ واقعہ دوپہر ایک بجے پیش آیا۔ اس کے بعد دوپہر دو بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی۔ جیسے ہی وہ پہنچے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہاکہ ابھی جو واقعہ ہوا ہے
وہ سب کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اس کی تفتیش جاری ہے۔ دہلی پولیس کو بھی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ عام دھواں تھا۔ تفصیلی تحقیقات کے نتائج سے سب کو آگاہ کیا جائے گا۔
جب ڈی ایم کے ایم پی ٹی آر بالو نے اس معاملے پر سوال پوچھنا چاہا تو اسپیکر نے کہا کہ دونوں لوگ پکڑے گئے ہیں۔ ان کے پاس سے ملنے والی اشیاء کو ضبط کر لیا گیا ہے۔ ایوان کے باہر موجود دو افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اس کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ 2001 میں پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا۔ آج پھر اسی دن حملہ ہوا ہے۔ کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیکوریٹی میں کوتاہی ہوئی ہے؟
کارتی چدمبرم (کانگریس) نے کہاکہ اچانک دو لوگ وزیٹر گیلری سے لوک سبھا میں کود پڑے۔ دونوں کی عمریں 20 سال کے لگ بھگ ہیں۔ یہ لوگ کنستر اٹھائے ہوئے تھے۔ ان کنستروں سے پیلے رنگ کی گیس نکل رہی تھی
 دو میں سے ایک بھاگا اور اسپیکر کی کرسی کے سامنے جا پہنچا۔ وہ کچھ نعرے لگا رہے تھے۔ خدشہ ہے کہ یہ گیس زہریلی ہو سکتی ہے۔ 13 دسمبر 2001 کے بعد یہ ایک بار پھر پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں کوتاہی کا بڑا معاملہ ہے۔
ادھیر رنجن چودھری (کانگریس) نے کہاکہ دو لوگوں نے گیلری سے چھلانگ لگا دی۔ اس نے کوئی چیز پھینکی جس سے گیس نکل رہی تھی۔ اسے ارکان پارلیمنٹ نے پکڑ لیا اور پھر سکیوریٹی عہدیداروں نے اسے باہر پھینک دیا۔ سیکوریٹی میں یہ خامی اس وقت پیش آئی ہے جب پارلیمنٹ پر حملے کی 22 ویں برسی ہے۔