سپریم کورٹ میں سالیسٹر جنرل سےسینئر ایڈوکیٹ دشینت دیوکی نوک جھونک

تازہ خبر فلمی
سپریم کورٹ میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا سےسینئر ایڈوکیٹ دشینت دیو کی نوک جھونک
میں نے 40 سالوں میں آپ جیسا برا ایس جی نہیں دیکھا۔
 چیف جسٹس کی ڈانٹ پر دونوں کی معذرت خواہی
نئی دہلی:۔25؍اپریل
(زیڈ این ایم ایس)
میں پیر کو سینئر ایڈوکیٹ دشینت ڈیو اور مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل (ایس جی) تشار مہتا کے درمیان گرما گرم بحث’ نوک جھونک ہوئی۔ دشینت دیو کو اپنے دلائل کے دوران اتنا غصہ آیا کہ اس نے تشار مہتا سے کہا کہ میں نے اپنے 40 سال کے کیریئر میں آپ جیسا برا سالیسٹر جنرل نہیں دیکھا۔
سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا کی بنچ میں تلنگانہ حکومت کی عرضی پر سماعت جاری تھی۔ درخواست میں تلنگانہ کے گورنر تملائی ساؤندرراجن پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ وہاں کی مقننہ سے منظور شدہ10 بلوں کو جان بوجھ کر التواءمیں رکھے ہوئے ہیں۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے دشینت دیو اور مرکزی حکومت کی جانب سے تشار مہتا کیس کی وکالت کررہے تھے۔
جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں، وہاں بل جلد ہی منظور ہو جاتا ہے۔تلنگانہ کے وکیل دشینت دیو نے بنچ پر عام فیصلے کے لیے دباؤ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی منتخب حکومتوں کو گورنر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
دشینت دیونے کہا کہ مدھیہ پردیش اور گجرات کے گورنر، جن میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں، ایک ماہ کے اندر بلوں کو منظور کر دیتے ہیں۔ غیر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ایسا نہیں ہوتا۔
دیو نے کہا کہ آپ کو مجھ سے الرجی ہے اور مجھے آپ سے الرجی ہے ایس جی تشار مہتا نے کہا کہ اب عدالت کو اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں اتنا چیخ نہیں سکتا جتنا تلنگانہ کے وکیل’۔
اس پر دشینت دیو نے اونچی آواز میں کہا، ‘میں چیخ رہا ہوں؟ وہ ایک لا آفیسر ہے۔ اسے مجھ سے الرجی ہے۔ مجھے آپ سے بھی الرجی ہے۔ وہ حکومت کو خوش کرنے کے لیے نچلی سطح تک جا چکے ہیں۔  دشینت دیو نے کہا کہ میں نے 40 سالوں میں ایسی حرکتیں نہیں دیکھی تھیں۔
سی جے آئی نے کہاکہ عدالت کا ماحول خراب نہ کریں دونوں کے جھگڑے کو دیکھ کر سی جے آئی نے مداخلت کی اور دشینت دیوکے ساتھ تشار مہتا کو ہدایت دی کہ وہ عدالت کو ذاتی تنازعات کے حل کی جگہ نہ بنائیں۔
بہتر ہو گا کہ ہم اس مسئلے پر بحث کریں۔ سی جے آئی نے کہا کہ میری یا کسی کی عدالت کا ماحول خراب نہ کریں۔ تشار مہتا نے کہا کہ وہ خیال رکھیں گے۔
 دشینت ڈیو نے اسے طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ کم از کم تم نے تو مان لیا کہ تم عدالت کا ماحول خراب کر رہے ہو۔ چیف جسٹس  کی ڈانٹ کے بعد دونوں نے ان سے معذرت کرتے ہوئے تنازعہ ختم کر دیا۔
چیف جسٹس نے عرضی نمٹاتے ہوئے تشار مہتا کو ہدایت دی کہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ حکومتوں کے گورنر بلوں کو زیادہ دیر تک نہ لٹکائیں۔ تشار مہتا نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے۔
سی جے آئی نے سخت لہجے میں کہا کہ میں یہ تلنگانہ کے لیے نہیں کہہ رہا ہوں۔ یہ سب کے لیے ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ حکومتوں کے بل فوری طور پر منظور کیے جائیں۔