تلنگانہ : قرض ادا نہ ہونے تک ہم آپ کو چتا نہیں جلانے دیں گے۔
مٹ پلی:۔17؍ڈسمبر
(زین نیو ز)
قرض لے کر بھاگنے والے ایک شخص کے والد کے ساتھ مقروضوں نے غیر انسانی سلوک کیا۔ انہوں نے اپنے پیسے حاصل کرنے کے لیے مرنے والے بوڑھے شخص کی آخری رسومات میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے توہین کی۔
بیٹے کے غلطیو ں کی سزا اس کے مردہ باپ کی عزت پامال کرتے ہوئے دی گئی۔ باپ کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے جب بیٹے نے اپنی جائیداد بیچ کر قرض ادا کرنے کا وعدہ کیاتو آخری رسومات ادا ہوئیں
ضلع جگتیال کے مٹ پلی چیتنیا نگر علاقے کے پالوری سری کانت نے کچھ عرصے کے لیے کئی لوگوں سے 1.70 کروڑ روپے ادھار لیے ہیں۔ قرض ادا نہ کرسکاقرض داروں نے دباؤ ڈالا۔ قر
ضوں کے بوجھ سے تاب نہ لاکرسری کانت حیدرآباد بھاگ گیا۔سریکانت کے والد پلوری نارائنا کا ہفتہ کو انتقال ہوگیا۔ چنانچہ وہ اتوار کو اپنے والد کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے اپنے آبائی شہر مٹ پلی چیتنیا نگر آیا
معاملے کا علم ہوتے ہی سری کانت کے قرض دار آخری رسومات کی ادائیگی کے وقت شمشان گھاٹ پہنچ گئے۔ انہوں نے اسے اپنے والد کی نعش کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت دینے سے روک دیا جب تک کہ قرض کی ادائیگی نہ ہو جائے۔
جس کی وجہ سے اخری رسومات کا پروگرام ایک گھنٹے کے لیے روک دیا گیا۔انہوں نے ان سے لی گئی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک قرض ادا نہیں کیا جاتا اس وقت تک آخری رسومات نہیں ہونے دیں گے
آخر کارسری کانت کی طرف سے جائیداد بیچ کر قرض ادا کرنے کی یقین دہانی کے بعد قرض داروں کو راحت ملی۔ اس کےبعد میں والد نارائن کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔
اس واقعہ نے جہاں سماج کے بے رحم اور سنگ دلانہ رویہ کی عکاسی کی ہے وہیں مرتے ہوئے سماج کی اصل تصویر کو ابھار اہےیہ واقعہ اب عوام میں موضوع بحث بنا ہوا ہے
