Gyanvapi-Masjid

سپر یم کور ٹ کا آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سروے پر روک لگانے سےکو انکار

تازہ خبر قومی
سپر یم کورٹ کا آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا کے سروے پر روک لگانے سے انکار
 سروے پر اعتراض کیوں؟ بناء کسی نقصان سروے مکمل کیا جائے گا
گیان واپی احاطے میں کوئی کھدائی نہیں ہوگی
نئی دہلی:۔4؍اگست
(زین نیوز ڈیسک)
سپریم کورٹ نے وارانسی کے گیان واپی احاطے میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے ذریعہ سروے کی اجازت دینے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے سے جمعہ کو انکار کردیا ۔
 سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم کو بھی دہرایا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا ے اپنے سروے کے دوران ڈھانچے کو کوئی نقصان پہنچائے سروے کرے اور اس جگہ پر کوئی کھدائی نہیں ہوگی۔
گیا ن واپی کے آرکیالوجیکل سروئے آ ف انڈیا کے سروے پر جمعہ کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ مسلم فریق کی درخواست پر عدالت نے کہاکہ ہم ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کیوں کریں؟ عدالت نے مسلم فریق سے پوچھا کہ آرکیالوجیکل سروئے آ ف انڈیا کے سروے پر اعتراض کیوں ہے؟
سروے سے مسلم فریق کو کوئی نقصان نہیں ہونے والا ہے۔ اتنا ہی نہیں سپریم کورٹ نے مشورہ دیا ہے کہ سروے ہونے دیا جائے۔ رپورٹ کو سیل بند لفافہ میں پیش کیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ سروے غیر حملہ آور طریقوں سے کیا جائے۔ آرکیالوجیکل سروئے آ ف انڈیا نے واضح کیا ہے کہ سارا سروے بغیر کسی کھدائی کے اور ڈھانچے کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر مکمل کیا جائے گا۔
قبل ازیں الہ آباد ہائی کورٹ سے اجازت ملنے کے بعد  آرکیالوجیکل سروئے آ ف انڈیاکی ٹیم نے جمعرات کی صبح 8 بجے سے گیان واپی میں سروے شروع کیا۔ 4 گھنٹے بعد یعنی 12 بجے نماز کے لیے سروے روک دیا گیا۔ اب سہ پہر تین بجے سے دوبارہ سروے شروع ہو گیا ہے۔
 اس بار آرکیالوجیکل سروئے آ ف انڈیا کی ٹیم میں 61 ارکان ہیں۔ یعنی پچھلی بار سے 40 ممبرز زیاد ہ ہیں گیان واپی کیمپس کو 4 بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چاروں طرف کیمرے نصب ہیں۔ ویڈیو گرافی کی جارہی ہے۔
گیان واپی کی مغربی دیوار پر سب سے زیادہ فوکس ہے۔ دیوار کی باریک سکیننگ کی جا رہی ہے۔ نمونے دیکھے جا رہے ہیں۔ ہندو فریق اندآرکیالوجیکل سروئے آ ف انڈیاکے ساتھ ہے۔ لیکن مسلم فریق نے سروے میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔
مسلم فریق گیان واپی تک نہیں پہنچا۔ نماز جمعہ کے پیش نظر ریاست میں ہائی الرٹ ہے۔ گیان واپی کے آس پاس بڑی تعداد میں فورسز تعینات ہیں۔ وارانسی کی مقامی عدالت نے آرکیالوجیکل سروئے آ ف انڈیا کو سروے کرنے اور 4 اگست کو رپورٹ پیش کرنے کو کہا تھا۔
 لیکن مسلم فریق سپریم کورٹ اور پھر ہائی کورٹ پہنچ گیا۔ آرکیالوجیکل سروئے آ ف انڈیا سروے نہیں کر سکا۔ ایسے حلف نامے میں عدالت میں مزید وقت مانگا گیا ہے۔
جمعرات کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اے ایس آئی کو گیان واپی کا سائنسی سروے کرنے کی اجازت دی تھی۔ جسٹس پریتنکر دیواکر نے کہاکہ ‘انصاف کے مفاد میں سروے ضروری ہے۔ مجھے اس دلیل میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی آرکیالوجیکل سروئے آ ف انڈیا دیوار کھودے بغیر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا۔
عدالت نے سروے روکنے کے لیے انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس دوران مسلم فریق نے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (سٹی) آلوک کمار ورما نے سروے ٹیم کے ساتھ ہندو کی طرف سے 7 اور مسلم فریق کے 9 لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دی ہے۔
 اس میں ریکھا پاٹھک، سیتا ساہو، لکشمی دیوی، سوہن لال آریہ، انوپم دویدی، سبھاش نندن چترویدی، وکرم ویاس ہندو کی جانب سے احاطے کے اندر پہنچ گئے ہیں۔
دوسری جانب مسلم سائیڈ سے مولانا عبدالبانکی، عبدالباطن نعمانی، ایم ایم یاسین، ممتاز احمد، اخلاق احمد، محمد اعجاز احمد، شمشیر علی، فضیل احمد، حاجی نثار کو بلایا گیا تھا، لیکن وہ گیان واپی کیمپس نہیں پہنچے۔
وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ کے حکم پر آرکیالوجیکل سروئے آ ف انڈیا نے گیان واپی کا سروے 24 جولائی کو شروع کیا تھا۔ اس وقت آرکیالوجیکل سروئے آ ف انڈیا کی 20 رکنی ٹیم تھی۔
تاہم چند گھنٹوں بعد سپریم کورٹ نے سروے پر روک لگا دی۔ آرکیالوجیکل سروئے آ ف انڈیاکی ٹیم کے سامنے آنے والی فوٹیج میں اسے بیلچہ اندر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ تاہم ہائی کورٹ نے اب کھدائی نہ کرنے کو کہا ہے، تاکہ احاطے کو نقصان نہ پہنچے۔