Superem Court

نفرت انگیز تقریر کے معاملے پر سپریم کورٹ مزید سخت

تازہ خبر
نفرت انگیز تقریر کے معاملے پر سپریم کورٹ مزید سخت
 بغیر کسی شکایت کے ایف آئی آر درج کرکے کارروائی کرنے ریاستوں کو ہدایت
نفرت انگیز تقاریر سنگین جرم” ۔جسٹس کے ایم جوزف۔جسٹس بی وی ناگارتنا
نئی دہلی :۔28؍اپریل
(زین نیوز ڈیسک)
نے جمعہ کو نفرت انگیز تقاریر پر ایک بار پھر سخت موقف ظاہر کیا ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے کہ جب بھی کسی کی طرف سے نفرت انگیز تقریر کی جائے تو وہ از خود نوٹس لیں اور بغیر کسی شکایت کے ایف آئی آر درج کرکے کارروائی کریں۔۔ نفرت انگیز تقاریر سے متعلق مقدمات میں مقدمہ کے اندراج میں تاخیر توہین عدالت تصور کی جائے گی۔ کیس کی اگلی سماعت 12 مئی کو ہوگی۔
اپنے 2022 کے حکم کا دائرہ تین ریاستوں سے آگے بڑھاتے ہوئے، سپریم کورٹ نے جمعہ کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی کہ وہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کریں، چاہے کوئی شکایت نہ کی گئی ہو۔
جسٹس کے ایم جوزف اور بی وی ناگارتنا کی بنچ نے نفرت انگیز تقاریر کو "سنگین جرم” قرار دیا جس سے ملک کے مذہبی تانے بانے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔بنچ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس کا 21 اکتوبر 2022 کا حکم تمام علاقوں کے لیے موثر ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مقدمہ کے اندراج میں کسی قسم کی تاخیر توہین عدالت تصور کی جائے گی۔
 سپریم کورٹ نے اس سے قبل اتر پردیش، دہلی اور اتراکھنڈ کو ہدایت دی تھی کہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ تب عدالت نے کہا تھا کہ مذہب کے نام پر ہم کہاں پہنچ گئے ہیں۔۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگارتنا کی بنچ نے کہا کہ مذہب کے نام پر ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟ یہ دکھ کی بات ہے.

بنچ نے جمعہ کو کہا کہ جج غیر سیاسی ہیں اور وہ پہلے یا دوسرے فریق کے بارے میں نہیں سوچتے اور ان کے ذہن میں صرف ایک چیز ہے یعنی ہندوستان کا آئین۔ انتظامیہ کی طرف سے تاخیر کو توہین عدالت سمجھا جائے گا۔
عدالت عظمیٰ کا یہ حکم صحافی شاہین عبداللہ کی درخواست پر آیا جس نے قبل ازیں دہلی، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کو نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایت کی درخواست کی تھی۔
عبداللہ نے دوبارہ ایک عرضی دائر کی جس میں عدالت عظمیٰ کے 21 اکتوبر 2022 کے حکم کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کرنے کی درخواست کی گئی۔