Jeevan Reddy Press Confirence

کانگریس کے لیے چالیس سالہ جدوجہد کا اعادہ

تازہ خبر تلنگانہ
کانگریس کے لیے چالیس سالہ جدوجہد کا اعادہ
ٹی۔ جیون ریڈی نے پارٹی چھوڑنے کی افواہوں کی تردید کر دی
جگتیال:15؍اپریل
(زین نیوز)
 
کانگریس کے سینئر رہنما و سابق وزیر مسٹر ٹی۔ جیون ریڈی نے پارٹی چھوڑنے سے متعلق خبروں کو سراسر بے بنیاد قرار دیا ہے۔ منگل کے روز اپنی رہائش گاہ اندرا بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سے متعلق گردش کرنے والی تمام افواہیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ سے ان کے بارے میں پارٹی چھوڑنے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، جن میں کوئی صداقت نہیں ہے
جیون ریڈی نے کہاکہ میں نے گزشتہ چار دہائیوں تک اپنے ضلع میں اکیلے جدوجہد کی ہے اور کانگریس کو مستحکم کرنے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔  کانگریس کا نام آتے ہی جیون ریڈی کا نام آتا ہے۔ 2014 میں جب متحدہ اضلاع (عادِل آباد، نظام آباد، کریم نگر) میں صرف میں ہی کانگریس کا ایم ایل اے تھا، اور 2019 میں بھی میں ہی قانون ساز کونسل میں کانگریس کا واحد رکن تھا، جو بی آر ایس حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف اکیلا لڑ رہا تھا۔
"کانگریس کا مطلب ہی جیون ریڈی بن گیا تھا۔”انہوں نے کانگریس میں اپنی سینیارئٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "وی۔ ہنمنت راؤ کے بعد میں ہی کانگریس میں سب سے سینئر ہوں۔یہاں تک کہ جانا ریڈی بھی میرے چار سال بعد پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اتنے سینئر ہونے کے باوجود پارٹی میں میری کیا حیثیت ہے؟” یہی ان کی ناراضی کی بنیادی وجہ ہے۔
 تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا پارٹی چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ کانگریس کے استحکام کے لیے کام کر رہے ہیں۔پارٹی میں سینئر رہنماؤں کو مناسب مقام نہ ملنے کا احساس‘ اور ناراضگی ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میں پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔میڈیا کی جانب سے بعض سینئر رہنماؤں کی ناراضی سے متعلق سوال پر ٹی۔ جیون ریڈی نے کہا کہ ہر کسی کا ذاتی مؤقف ہوتا ہے اور یہ بیانات ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ سینئر رہنما اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، لیکن وہ ذاتی خیالات ہی ہیں، پارٹی پالیسی کا حصہ نہیں۔ٹی۔ جیون ریڈی نے واضح کیا کہ وہ کانگریس کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرتے رہیں گے اور کسی دوسری پارٹی میں شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگادی سال کا آغاز ریاست تلنگانہ میں کئی اہم اصلاحات کے ساتھ ہوا ہے، جن میں سن چاول (باریک باسمتی چاول) کی پہلی مرتبہ تقسیم بھی شامل ہے، جو کہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سن چاول کی تقسیم کے نتیجے میں ریاست میں دلالی نظام کا خاتمہ ہوا ہے، جبکہ گجرات جیسی ریاستوں میں چاول کو ری سائیکل کر کے عوام میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔جیون ریڈی نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی جینتی کے موقع پر ان اقدامات کو "نئے باب کی شروعات” قرار دیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ سابق بی آر ایس حکومت کے دور میں عوام سے یعنی زمینوں کے مالکانہ حقوق چھین لیے گئے تھے اور دھَرنی پورٹل کے ذریعے عام کسان اور زمین کے مالک کو اپنے ہی اثاثوں پر حق نہیں دیا گیا۔
 کانگریس نے اپنی انتخابی مہم میں اس نظام کے خاتمے اور عوام کو دوبارہ مکمل مالکانہ حقوق فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، اور اب یہ وعدہ پورا کیا جا رہا ہے۔جیون ریڈی نے بتایا کہ کانگریس حکومت نے "بھُو بھارتی قانون” متعارف کروایا ہے، جس سے زمین سے متعلق تمام معلومات شفاف ہو گئی ہیں، اور لوگ اب آر ڈی او یا کلکٹر کو درخواست دے کر اپنے مسائل حل کرا سکتے ہیں۔
 میوٹیشن سے متعلق تنازعات بھی اس قانون کے ذریعے ختم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے فخر کے ساتھ کہا کہ اس وقت پورے ملک میں صرف تلنگانہ وہ واحد ریاست ہے جہاں حکومت عوام کو سن چاول فراہم کر رہی ہے
جیون ریڈی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے ریزرویشن کو ایک آئینی حق بنایا، اور سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات کے بعد پہلی بار ریاست تلنگانہ میں ایس سی طبقات کی درجہ بندی کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر کمزور طبقات اور اقلیتوں کے لیے 29 فیصد ریزرویشن فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ڈِڈیکیٹڈ کمیشن نے ریاست بھر میں سروے کر کے ثابت کیا ہے کہ پسماندہ طبقات کی آبادی 56 فیصد سے زائد ہے۔ اس کے پیشِ نظر تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ بیک ورڈ طبقات کو 42 فیصد ریزرویشن دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اقتصادی بنیاد پر 10 فیصد ریزرویشن دینے کے لیے آئینی ترمیم کر کے اسے نافذ کیا، اسی طرح وزیر اعظم نریندر مودی کو چاہیے کہ وہ بھی بی سی ریزرویشن بل پارلیمنٹ میں پیش کریں اور اسے آئین کی نویں شیڈول میں شامل کیا جائے۔
 اگر پارلیمنٹ کا اجلاس نہ ہو سکے تو حکومت کو آرڈیننس جاری کر کے 42 فیصد ریزرویشن منظور کرنا چاہیے۔اس پریس کانفرنس میں کانگریس قائدین ٹاون پریسڈنٹ کوتہ موہن‘  اسٹیٹ کانگریس پارٹی سکریٹری بنڈا شنکر‘ کونسلر گوجولہ راجندر‘ صدر مرکزی کمیٹی جگتیال محمد عبدالباری‘محمد چاند پاشاہ‘اور دیگر موجودتھے