اردو زبان، مشترکہ ثقافت کی خوبصورت مثال
سپریم کورٹ نے اردو کے استعمال کے خلاف عرضی خارج کر دی
اردو پر کوئی پابندی نہیں، عدالت عظمیٰ کا دوٹوک فیصلہ
نئی دہلی :۔16؍اپریل
(زین نیوز ڈیسک)

نے اردو کو ‘گنگا جمنی تہذیب کی بہترین مثال قرار دیا اور زبانوں کے خلاف تعصب پر تنقید کرتے ہوئے اس طرح کے تعصب کو ہندوستان کی ثقافتی طاقت کے لیے خطرہ قرار دیا۔
عدالت عظمیٰ نے مہاراشٹر کے اکولا ضلع میں پٹور میونسپل کونسل کے بورڈ پر مراٹھی کے ساتھ اردو زبان کے استعمال کو چیلنج
کرنے والی ایک عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ منگل کو عدالت نے سخت ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان سمجھنا ہندوستان کی حقیقت اور تنوع کے بارے میں ایک بدقسمتی سے غلط فہمی ہے۔
یہ عرضی سابق کارپوریٹر ورشٹائی سنجے باگڑے نے دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ میونسپل کونسل کا کام صرف مراٹھی میں ہو سکتا ہے اور بورڈ پر بھی اردو کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے اس درخواست کو میونسپل کونسل اور پھر بمبئی ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا۔ بالآخر درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
جسٹس دھولیا نے اپنے فیصلے کا آغاز مولود بینزادی کے ایک مشہور اقتباس سے کیا "جب آپ کوئی زبان سیکھتے ہیں، تو آپ صرف ایک نئی زبان بولنا اور لکھنا نہیں سیکھتے، بلکہ آپ کھلے ذہن، آزاد خیال، روادار، مہربان اور تمام بنی نوع انسان کے لیے خیال رکھنا بھی سیکھتے ہیں”۔
سپریم کورٹ کے جسٹس سدھانشو دھولیا اور جسٹس کے کے۔ ونود چندرن کی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ زبان کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا، بلکہ کسی کمیونٹی، علاقے اور لوگوں سے ہوتا ہے۔ زبان ثقافت ہے اور سماج کے تہذیبی سفر کا ایک پیمانہ ہے۔” عدالت نے کہا کہ اردو زبان گنگا جمنی ثقافت کی بہترین مثال ہے اور اس کا جنم ہندوستان کی سرزمین پر ہوا۔
سپریم کورٹ نے اس غلط فہمی پر بھی تبصرہ کیا کہ اردو کو غیر ملکی زبان یا صرف کسی خاص مذہب کی زبان ماننا سراسر غلط ہے۔ عدالت نے کہاکہ قیقت یہ ہے کہ ہندی زبان کا روزانہ استعمال بھی اردو الفاظ کے بغیر نامکمل ہے۔ لفظ ‘ہندی خود فارسی کے لفظ ‘ہندوی سے آیا ہے،
عدالت نے کہا کہ ہندی اور اردو کے درمیان تقسیم نوآبادیاتی دور میں مذہب کی بنیاد پر کی گئی تھی، جو آج بھی ایک بڑی غلط فہمی کے طور پر موجود ہے۔بنچ نے مزید کہا،کہ اردو کا معاملہ بھی ہے، جو گنگا جمنی تہذیب ، یا ہندوستانی تہذیب کا بہترین نمونہ ہے ، جو شمالی اور وسطی ہندوستان کے میدانی علاقوں کی جامع ثقافتی اقدار ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ زبان سیکھنے کا ایک ذریعہ بن جائے، اس کا ابتدائی اور بنیادی مقصد ہمیشہ ابلاغ ہی رہے گا۔
عدالت عظمیٰ نے اردو جیسی زبانوں کو اکثر درپیش سماجی مزاحمت کا بھی ازالہ کیا اور اسے غلط فہمیوں اور تعصب کی جڑ قرار دیا۔ہماری غلط فہمیوں، شاید کسی زبان کے خلاف ہمارے تعصبات کو بھی ہمت اور سچائی کے ساتھ حقیقت کے مقابلے میں آزمانا ہوگا، جو کہ ہماری قوم کا یہ عظیم تنوع ہے۔ ہماری طاقت کبھی ہماری کمزوری نہیں ہوسکتی
سپریم کورٹ نے کہا کہ مہاراشٹر پبلک اتھارٹیز (سرکاری زبانیں) ایکٹ 2022 میں اردو زبان کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ صرف مراٹھی کا استعمال لازمی ہے، لیکن اس کے ساتھ دیگر زبانوں کے استعمال پر پابندی نہیں ہے۔ اس لیے درخواست قانون کی غلط تشریح پر مبنی ہے اور اسے خارج کر دیا جاتا ہے۔