بیٹے کی محبت کی بھی کوئی حد نہیں
چنئی کے تاجر امرالدین نے اپنی ماں سے محبت کے اظہار کے لئےمنی تاج محل تعمیر کیا
چنئی:۔19؍جون
(عمران زین)
تاج محل کو مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں ایک مقبرے کے طور پر تعمیر کیا تھاتب سے اس عمارت کو محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جس کو مغل فن تعمیر کی سب سے مشہور اور خوبصورت عمارتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور تاج محل دنیا بھر میں محبت کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
تاج محل کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ دنیا کے سات عالمی عجائبات کا ایک حصہ ہے۔شاہ جہاں کی جانب سے اپنی بیوی سے محبت کے اظہار کے طور پر تعمیر کردہ تاج محل کی نقل کو مختلف مقامات پر دوبارہ بنایا گیاہے۔
اب تامل ناڈو میں ایک شخص نے بھی تاج محل سے ملتی جلتی عمارت بنائی ہے لیکن اس نے یہ عمارت اپنی بیوی یا گرل فرینڈ کے لیے نہیں بلکہ اپنی ماں کے لیے بنائی ہےلیکن پہلی بار ایک شخص نے اپنی اپنی اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ اس حقیقت کو دوسرا ‘تاج محل’ یا منی تاج محل بھی کہا جاتا ہے
ماں !! اس ایک لفظ میں کتنی مٹھاس‘ کتنی مہک‘ کتنی ٹھنڈک‘ کتنی محبت اور کتنی اپنائیت ہے یہ لفظ اتنا پر کشش ہے کہ دل کی دھڑکنوں میں سمایا ہوا ‘ خون کی گردش میں شامل ‘ ہمارے جذبات ‘ محبت ‘ او ر احساسات میں اپنے دنیا بسائے ہوئے ہے کہ کسی اور رشتہ سے اس کی مثال نہیں دی جاسکتی ۔
دنیا میں ماں سے بڑھ کر کوئی دولت اور ہوہی نہیں سکتی۔جب سے دنیا انسانوں سے آباد ہوئی ہے تو انسان تب سے ما ں کو پہچانتا رہا اس لئے کہ انسان کی تخلیق میں اہم کردار باپ سے زیادہ ماں کا رہا ہے ۔ تمام مذاہب میں ماں کا مقام باپ کے مقابلہ میں کچھ زیادہ ہی اہم ہوتا ہے
مذہب اسلام نے تو تمام عظمتوں اور رفعتوں کا سلسلہ ماں کے ساتھ جوڑ دیا کیونکہ دنیا کے اہم و معروف شخصیتوں کے پیچھے ہمیشہ ماں کا کردار اور اسکی تربیت کا بڑا دخل رہا ہےتمل ناڈو کے چنئی سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر نے اپنی والدہ سے اٹوٹ محبت کے اظہار کے طورپر ان کی یاد میں ایک چھوٹا تاج محل تعمیر کروایا ہے۔
#Watch: Let's show you the 'Taj Mahal' of Tamil Nadu that depicts the power of love and dedication! In a heartwarming tribute, a son, Amrudheen Sheikh built a replica of Taj Mahal in memory of his beloved mother in Thiruvarur district. The memorial is open to everyone.#TajMahal pic.twitter.com/2BUwq6WLhz
— CNBC-TV18 (@CNBCTV18News) June 17, 2023
تاجر کا آبائی شہر تمل ناڈو میں تھرووارور جو والدین کی جائے پیدائش بھی ہے۔جہاں 5 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک چھوٹا تاج محل بنایا گیا جس کی تعمیر 2سال کے عرصہ میں مکمل ہوئی۔اب یہ تاج محل سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔
امرالدین نے کہا کہ ان کی والدہ اپنے پیچھے 5-6 کروڑ روپے چھوڑ گئی ہیں۔ اب یہ رقم اور زمین ٹرسٹ کے نام منتقل کر دی گئی ہے۔ آج تک کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ تاج محل نما عمارت ایک ایکڑ پر پھیلے 8000 مربع فٹ کے علاقے میں بنائی گئی ہے۔
عمرالدین کی والدہ کی یادگار کے علاوہ مسلمانوں کے لیے نماز ادا کرنے کی جگہ بھی ہے۔باقاعدہ وضو خانے بھی بنائے گئے ہیں اس عمارت میں بچوں کے لیے مدرسہ کی کلاسیں بھی چلائی جا رہی ہیں۔ ۔امرالدین نے کہا کہ کسی بھی ذات یا مذہب کا فرد اس عمارت میں داخل ہو سکتا ہے۔
پانچ بہن بھائیوں میں سے اکلوتے بھائی اور چنئی میں ہارڈ ویئر کے تاجرعمرالدین شیخ داؤد صاحب ہیں۔ ان کے والد عبدالقادر شیخ داؤد چنئی میں چمڑے کی مصنوعات کی فرم چلاتے تھے۔
لیکن عبدالقادر شیخ کا انتقال اس وقت ہوا جب ان کے بچے بہت چھوٹے تھے۔ جیلانی صاحبہ کا 2020 میں بیماری کے باعث انتقال ہوگیا ج وامرالدین کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا کیونکہ انہوں نے اپنی ماں کے ساتھ دکان میں کام کیا تھا اس وقت امرالدین بہت چھوٹے تھے اور ہمیشہ سفر میں رہتے تھے۔

امرالدین نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی ماں ان کے لیے سب کچھ تھی، اس لیے ان کی موت ان کے لیے صدمہ تھی امرالدین کے والد کا 1989 میں انتقال ہو گیا تھا، تب سے ان کی والدہ نے پورے خاندان کی دیکھ بھال کی
ان کی ماں موت چاند رات کے دن ہوئی اورامرالدین نے اس کے بعد ہر چاند رات کے دن 1,000 لوگوں کو بریانی کھلانے کا فیصلہ کیا۔ امرالدین نے محسوس کیا کہ یہ ناکافی ہے اس لیے بعد میں انہوں نے اپنی ماں کی یادگار کے طور پر ایک چھوٹا تاج محل بنانے کا فیصلہ کیا۔
اپنے آبائی گاؤں امایاپن میں، انہوں نے ایک ایکڑ اراضی خریدی اور اپنے ایک دوست کی مدد سے جو ایک بلڈر ہیں اس پر کام شروع کیا۔ اسے بنانے میں تقریباً 5.5 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔