افغان وزیر نے 1971 میں پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کی تصویرشیئرکی ، کہا نتائج یاد رکھیں
نئی دہلی:۔3؍جنوری
(زیڈ این ایم ایس)
پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے جمعرات کو افغان طالبان کو دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کو ہمارے ملک میں حملوں سے نہیں روکا تو ہم افغانستان میں داخل ہو کر دہشت گردوں کو مار ڈالیں گے۔
اس کا جواب افغان کے نائب وزیراعظم احمد یاسر نے انتہائی سخت لہجے میں دیا۔ یاسر نے 1971 میں بھارت کے ہاتھوں پاکستانی فوج کی شکست اور ہتھیار ڈالنے کی تصویر شیئر کی اور کہاکہ اس طرح کا نتیجہ یاد رکھنا۔
پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کے درمیان تعلقات تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ تقریباً دو ماہ سے دونوں ملکوں کی سرحد یعنی ڈیورنڈ لائن پر فائرنگ کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔
جس میں پاکستان کے 12 فوجی اور 7 شہری مارے گئے ہیں۔ ٹی ٹی پی پاکستان میں بھی مسلسل حملے کر رہی ہے۔ حال ہی میں اس نے اسلام آباد میں فدائین حملہ بھی کیا۔
د پاکستان داخله وزیر ته !
عالي جنابه! افغانستان سوريه او پاکستان ترکیه نده چې کردان په سوریه کې په نښه کړي.
دا افغانستان دى د مغرورو امپراتوريو هديره.
په مونږ دنظامي يرغل سوچ مه کړه کنه دهند سره دکړې نظامي معاهدې د شرم تکرار به وي داخاوره مالک لري هغه چې ستا بادار يې په ګونډو کړ. pic.twitter.com/FFu8DyBgio— Ahmad Yasir (@AhmadYasir711) January 2, 2023
حالیہ کشیدگی کی وجہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے مسلسل حملے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں کی فوج اور حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
جمعرات کو پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ٹی ٹی پی کے حملوں کا ذمہ دار افغان طالبان کو ٹھہرایا۔ کہاکہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد پاکستان میں حملوں کے بعد افغانستان میں پناہ لیتے ہیں۔
اگر یہ حملے بند نہ ہوئے تو ہم افغانستان میں داخل ہو کر ان دہشت گردوں کو مار ڈالیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ افغانستان کے کن علاقوں میں اور ٹی ٹی پی کے دہشت گرد کہاں پناہ لیتے ہیں۔ انہیں وہاں سے اسلحہ بھی ملتا ہے۔
پاکستان کی طرف سے اس دھمکی پر طالبان حکمرانوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ سینئر طالبان رہنما اور نائب وزیراعظم احمد یاسر نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی۔ اس کے ساتھ اردو میں ایک کیپشن شیئر کیا۔
پہلے اس تصویر کے بارے میں جانیں۔ یہ تصویر 1971 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کی ہے۔ پاکستانی فوج کو بری طرح شکست ہوئی۔ ان کے 90 ہزار سے زائد فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔
ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر پاکستان کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل عامر عبداللہ خان نیازی نے دستخط کیے۔ ہماری فوج کے لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ ان کے بالکل پاس موجود تھے۔ اس ہتھیار ڈالنے کے بعد بنگلہ دیش ایک الگ ملک بن گیا اور پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔
وزارت دفاع بھی سخت اس بیان کے چند گھنٹے بعد افغانستان کی وزارت دفاع نے بھی ایک الگ بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔
ہمارے پاس ٹی ٹی پی کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ اس وہم میں نہیں رہنا چاہیے کہ افغانستان کمزور ہے یا اس کا کوئی آقا نہیں ہے۔ ہم اپنے ملک کی حفاظت کرنا اچھی طرح جانتے ہیں۔ اگر حملہ ہوا تو ہم منہ توڑ جواب دیں گے۔
