tehsildar-prashant-thorat

  دفتر میں وداعی تقریب کے دوران بالی ووڈ کا گانا گانے پرتحصیلدار معطل

تازہ خبر قومی وائرل خبریں
  دفتر میں وداعی تقریب کے دوران بالی ووڈ کا گانا گانے پرتحصیلدار معطل
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
لاتور؍پونے: ۔19؍اگست
(زیڈ این میڈیا سرویس)
مہاراشٹر کے ضلع لاتور میں ایک انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک تحصیلدار کو دفتر میں الوداعی تقریب کے دوران بالی ووڈ کا گانا گانے پر معطل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی سرکاری وقار کے منافی طرزِ عمل پر کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق پرشانت تھوراٹ، جو ناندیڑ ضلع کے عمری میں تعینات تھے، کا حال ہی میں تبادلہ پڑوسی ضلع لاتور کے رینا پور میں کیا گیا تھا۔
 30 جولائی کو ان کا چارج ختم ہوا اور اسی روز انہوں نے اپنی نئی تعیناتی سنبھالی۔ 8 اگست کو عمری تحصیل آفس میں عملے نے ان کے اعزاز میں ایک رخصتی تقریب کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر پرشانت تھوراٹ نے جوش و خروش کے ساتھ 1981 کی امیتابھ بچن کی فلم یارانہ کا مشہور گانا “یارا تیری یاری کو گایا۔

تقریب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں وہ اپنی سرکاری کرسی پر بیٹھے گاتے دکھائی دے رہے تھے اور ان کے پیچھے “تعلقہ مجسٹریٹ” کی تختی نمایاں تھی۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد کئی افراد نے اس طرزِ عمل کو ایک سرکاری افسر کے عہدے کے شایانِ شان نہ سمجھا اور اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔
اس تنازع کے بعد ناندیڑ کے کلکٹر راہول کرڈیلے نے اعلیٰ حکام کو رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ تھوراٹ کے طرزِ عمل نے انتظامیہ کی شبیہ کو داغدار کیا ہے اور یہ مہاراشٹر سول سروسز (کنڈکٹ) رولز 1979 کی خلاف ورزی ہے۔رپورٹ کی بنیاد پر چھترپتی سمبھاجی نگر میں مقیم ریونیو کے ڈویژنل کمشنر جتیندر پاپالکر نے ہفتہ کے روز معطلی کے احکامات جاری کیے۔
ریاستی وزیر ریونیو چندر شیکھر باونکولے نے کہا کہ سرکاری افسران سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے دفتر کے وقار کو برقرار رکھیں۔ ایسی کارکردگی خاندانی یا نجی اجتماعات میں تو قابلِ قبول ہو سکتی ہے، لیکن سرکاری پلیٹ فارمز پر وقار اور سنجیدگی ضروری ہے۔
” انہوں نے مزید کہا کہ “افسر نے تحصیلدار کی کرسی پر بیٹھ کر گانا گایا، جو نہ صرف ایک انتظامی بلکہ نیم عدالتی عہدہ بھی ہے، اس لیے یہ عمل غیر ذمہ دارانہ ہے۔”باونکولے نے کہا کہ “محکمہ ریونیو میں اس طرح کے طرزِ عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر افسران اس طرح برتاؤ کریں گے تو انہیں گھر بھیج دیا جائے گا۔”تاہم، اس معطلی نے عوام اور سیاسی حلقوں میں ملے جلے ردِعمل کو جنم دیا ہے۔
 بی جے پی لیڈر اجول کیسکر نے کہا کہ “تحصیلدار جذبات میں بہہ گئے تھے اور اس لمحے سے لطف اندوز ہوئے۔ غلطی صرف یہ تھی کہ انہوں نے دفتر میں ایسا کیا۔ انہیں سخت سزا دینے کے بجائے وارننگ دی جانی چاہیے تھی۔” انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں فیصلوں پر نظرثانی ہو سکتی ہے اور امید ہے کہ حکومت اس معاملے پر بھی نظرثانی کرے گی۔