مہاراشٹر میں درگاہ سے واپسی کے دوران المناک حادثہ
جگتیال کی تین مسلم خواتین اور ڈرائیور سیلابی ریلے میں لاپتہ
جگتیال:۔18؍اگست
(نمائندہ زین نیوز)
مہاراشٹر کے اُودگیر کے قریب ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا، جہاں تلنگانہ کے جگتیال ضلع کے ٹی آر نگر سے تعلق رکھنے والی تین خواتین درگاہ کی حاضری کے بعد واپسی کے دوران سیلابی ریلے کی نذر ہوگئیں۔
تفصیلات کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی رات حسینہ، سمینہ اور افریں نامی خواتین ایک بابا کی درگاہ پر حاضری کے بعد کار میں واپس لوٹ رہی تھیں۔ اس دوران اچانک شدید بارش کے نتیجے میں ندی نالے ابل پڑے اور گاڑی پانی کے تیز بہاؤ میں پھنس گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کار بہہ گئی اور اس میں سوار چاروں افراد لاپتہ ہوگئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں شیخ افریں، حسینہ، سمینہ، ایک اور خاتون آفریں اور ایک نوجوان سہیل شامل ہیں۔ کار کا ڈرائیور بھی مہاراشٹر سے تعلق رکھتا ہے۔
حادثے کے وقت افریں نے اپنے شوہر سلیم کو فون پر اطلاع دی کہ وہ سیلابی پانی میں پھنس گئے ہیں اور روتے ہوئے بچوں کا خیال رکھنے کی وصیت کی، اس کے بعد ان کا فون بند ہوگیا۔
اطلاع کے مطابق نوجوان سہیل بہتے ہوئے پانی سے کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب رہا اور اس نے خاندان والوں کو فون پر حادثے کی اطلاع دی۔
اطلاع ملتے ہی اہلِ خانہ جائے وقوعہ پہنچ گئے۔ متاثرہ خواتین کے قریبی رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال اس درگاہ پر حاضری دیا کرتے تھے۔ اہلِ خانہ شدید صدمے اور کرب میں مبتلا ہیں۔شتہ دار اور دیہاتی بھی شدتِ غم سے نڈھال ہیں۔ ٹی آر نگر کی فضا سوگوار ہوگئی ہے۔امدادی کارروائیاں جاری مقامی پولیس اوربچاؤ ٹیموں نے جائے حادثہ پر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جگتیال ضلع کے ٹی آر نگر سے تعلق رکھنے والی تین خواتین آفرین، سمینہ اور حسینہ اپنے رشتہ دار شعیب کے ہمراہ مہاراشٹر گئے تھے۔ واپسی کے دوران کار سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔ تاہم تینوں خواتین تاحال لاپتہ ہیں۔ریسکیو ٹیموں کی جانب سے تلاش کا کام جاری ہے جبکہ متاثرہ خاندان شدید کرب و صدمے میں مبتلا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نوجوان شعیب مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع کے مکھیڑ تعلقہ میں، دگلوڑ سے تقریباً 30 کلو میٹر دور پر صحیح سلامت پایا گیاہے۔
ندی کے اطراف تلاشی جاری ہے تاہم تیز بہاؤ کے باعث مشکلات پیش آرہی ہیں۔ عوامی ردِعمل حادثے کے بعد مقامی لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہوگئی۔بتایا جاتا ہے کہ بارش کے بعد اچانک ندی میں پانی کا بہاؤ تیز ہوا اور گاڑی دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔
