عجیب و غریب مشورہ: بیٹے کی فیس کے لیے ماں نے بس کے آگے چھلانگ لگا دی
چنئی:۔18؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)
تامل ناڈو کے سیلم میں ایک دل دہلا دینے والے واقعہ میں ایک 39 سالہ خاتون نے چلتی بس کے سامنے اس امید پرکود پڑی کہ اس کی موت سے اس کے بچوں کو حکومت کی طرف سے مالی امداد ملنے میں مدد ملے گی۔اور اپنے بیٹے کی کالج کی فیس کا بندوبست ہو سکے۔ یہ خاتون کلکٹر کے دفتر میں صفائی کا کام کرتی تھی۔
پولیس کے مطابق خاتون کو کسی نے بتایا تھا کہ اگر اس کی موت حادثے میں ہوئی تو لواحقین کو 45 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ عورت اس وہم میں آگئی۔
پولیس کی مزید پوچھ گچھ نے پاپتھی کی سنگین مالی صورتحال پر روشنی ڈالی۔ وہ اپنے بیٹے کے لیے کالج کی 45,000 روپے کی فیس ادا کرنے میں ناکامی پر بہت فکر مند تھیں۔ کسی کے مشورے سے گمراہ ہو کروہ یقین کرنے لگی کہ اس کی "حادثاتی” طریقے سے موت اس کے بچوں کے لیے معاوضے کا باعث بنے گی۔
یہ واقعہ 28 جون کی صبح تمل ناڈو کے سیلم ضلع میں پیش آیا۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج اب منظر عام پر آگئی ہے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔
A mother kills herself to meet son’s education expenses 😢
Being misled by someone, a mother, working as ‘safai karmachari’ at Collector’s office in Salem, kills herself by falling into a bus to get financial assistance from the Govt to pay son’s college fees of 45,000.
— Arvind Gunasekar (@arvindgunasekar) July 17, 2023
خاتون اپنے شوہر کی موت کے بعد دو بچوں کی پرورش کر رہی تھی۔اس خاتون کا نام پاپتھی (46 سال) تھا۔ حال ہی میں اس کے شوہر کی موت ہوگئی تھی۔ ایک عارضی جاروب کش( سویپر )کے طور پر اس نے 10,000 روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کی جو اس کے خاندان کی کفالت کے لیے ناکافی ثابت ہوئی
خاتون کے دو بچے ہیں ایک لڑکا ایک پرائیویٹ پولی ٹیکنیک کالج میں اپنے پہلے سال کا آرکیٹیکچر کر رہا ہےاور ایک بیٹی ایک پرائیویٹ انجینئرنگ کالج میں تیسرے سال میں پڑھنے والی اپنی بیٹی کے لیے ٹیوشن فیس ادا کرنے کا دباؤتھا
پولیس نے بتایا کہ واقعہ کے بارے میں ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ سیلم کے سیکنڈ اگرہرام اسٹریٹ پر تیز رفتار بس کی زد میں آکر خاتون کی موت ہوگئی۔ جب ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی تو معلوم ہوا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ خودکشی ہے۔
پاپتھی نے پہلے بس کے سامنے آنے کی کوشش کی لیکن پھر وہ دو پہیہ گاڑی سے ٹکرا کر گر گئی۔ کچھ دیر بعد وہ دوسری بس کے سامنے آ گئی۔
پولیس نے خاتون کے اہل خانہ، رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ اس نے اپنے بیٹے کی کالج کی فیس ادا کرنے کے لیے 45 ہزار روپے قرض کے طور پر مانگے تھے، لیکن وہ نہیں ملے۔ کہیں پیسے کا بندوبست نہ ہو سکا۔
پاپتھی کو کہیں سے پتہ چلا کہ اگر کوئی جھاڑو دینے والا حادثے میں مر جاتا ہے تو حکومت اس کے گھر والوں کو معاوضہ دیتی ہے۔ یہی معاوضہ ملنے کی امید میں پاپاتھی نے یہ قدم اٹھایا۔
ایسا لگتا ہے کہ ماں کی قربانی رائیگاں گئی ہے، اور خاندان اپنے واحد کمانے والے کے بغیر رہ گیا ہے۔ اب وہ حکومت اور معاشرے کی مدد پر منحصر ہیں۔