اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوکے گھر پر فلیش بم فائر
ایک ماہ کے اندر دوسری بار نشانہ
تل ابیب:۔17؍نومبر
(زین نیوز ورلڈ ڈیسک)
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے سیزریا میں واقع گھر پر ایک بار پھر حملہ ہوا ہے۔نیتن یاہو کے گھر کی طرف دو فلیش بم فائر کیے گئے جو باغ میں گرے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کی جانب دو فلیش بم دو شعلے (آگ کے گولے) فائر کیے گئے جو گھر کے صحن میں گرے۔
اسرائیلی پولیس نے اس کی تصدیق کی ہے۔ حملہ کہاں سے ہوا اور کس نے کیا اس بارے میں فی الحال معلومات دستیاب نہیں ہیں۔اسرائیلی سیکیوریٹی ایجنسی شن بیٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے میں کسی قسم کے نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔
سیکیورٹی ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ حملے کے وقت نیتن یاہو اور ان کا خاندان گھر پر نہیں تھا۔ انہوں نے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ادھر حزب اللہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔
گروپ کے ایک ترجمان نے مزید حملوں سے خبردار کیاجس سے تنازعہ کے ممکنہ بڑھنے کے خدشات بڑھ گئے۔ جواب میں، اسرائیلی حکومت نے اس حملے کو ایک "سنگین غلط حساب” قرار دیا اور ممکنہ جوابی اقدامات کا اشارہ دیا۔
اکتوبر میں سیزریا میں وزیراعظم کی رہائش گاہ کی طرف ایک ڈرون بھیجا گیا تھا لیکن اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ دریں اثنا، شمال میں، اسرائیلی فوجی اکتوبر 2023 سے لبنان میں حزب اللہ کے عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ ہفتے کے روز ہونے والے واقعے کی فوری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
اس سے قبل 19 اکتوبر کو نیتن یاہو کے گھر پر حزب اللہ نے حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد ایک ڈرون نیتن یاہو کے گھر کے قریب ایک عمارت پر گرا۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس وقت بھی نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ گھر پر نہیں تھے۔
تمام سیاسی جماعتوں نےاسرائیلی وزیر اعظم کے گھر پر حملے کی مذمت کی ہے۔ اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ اور بینی گینٹز نے ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سوشل میڈیا پر کہا کہ حدیں پار کر دی گئی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کو اس معاملے میں فوری ایکشن لینا چاہیے
یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سیکیوریٹی ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کو شکست دینے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں ہے۔ لیکن حفاظتی نظام مختصر فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ یا ڈرون کو پکڑنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔
آخری بار جب نیتن یاہو کے گھر پر ڈرون حملہ ہوا تو اسرائیل کو صرف ایک ڈرون کو مار گرانے کے لیے چار لڑاکا طیارے اور ایک میزائل چھوڑنا پڑا۔دفاعی ماہر Liran Entebbe نے کہا کہ ڈرون بہت کم اونچائی پر اڑتا ہے۔ اس وقت اسے نشانہ بنانا خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ دھماکہ خیز مواد سے بھرا ہوا ہے۔ اس سے گھروں اور لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ اگر ڈرون یا میزائل کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملہ ہوتا ہے تو بھی اسرائیل کے پاس اس سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات
