یوپی پولیس نے غلطی سے جج کو چوری کے مقدمے میں "ملزم” نامزد کر دیا
فیروزآباد، 15 اپریل
(زین نیوز ڈیسک)
اتر پردیش کے ضلع فیروزآباد میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک پولیس سب انسپکٹر نے غلطی سے ایک جج کو چوری کے مقدمے میں ملزم نامزد کر دیا۔ واقعے میں پولیس افسر نے اصل ملزم راج کمار عرف پپو کی تلاش کے بجائے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نغمہ خان کو "ملزم” قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی کوشش کی۔
تفصیلات کے مطابق سب انسپکٹر بنواری لال کو چوری کے ایک مقدمے میں نامزد ملزم راج کمار کو عدالت کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کی تعمیل کا کام سونپا گیا تھا۔ تاہم، انہوں نے فوجداری ضابطہ (سی آر پی سی) کی دفعہ 82 کے تحت جاری کردہ اعلامیہ کے تحت راج کمار کو "اشتہاری” قرار دینے کے بجائے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نغمہ خان کا نام وارنٹ میں شامل کر دیا۔
بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، سب انسپکٹر نے نہ صرف اعلامیہ میں جج کا نام درج کیا بلکہ اپنی رپورٹ میں عدالت کو یہ اطلاع بھی دی کہ "مکمل تلاش” کے باوجود ملزم اپنی رہائش گاہ پر موجود نہیں پایا گیا۔ یہ سنگین غلطی اس وقت سامنے آئی جب 23 مارچ کو سماعت کے دوران متعلقہ فائل عدالت میں نظرثانی کے لیے پیش کی گئی۔
عدالت نے اس واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب انسپکٹر کی اس حرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے نہ تو قانونی کارروائی کی سمجھ ہے اور نہ ہی اس بات کی آگاہی کہ عدالت نے اعلامیہ کس کے خلاف جاری کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ "سب انسپکٹر نے غیر ضمانتی وارنٹ اور اعلامیہ کو آپس میں خلط ملط کیا اور انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔”
چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نغمہ خان نے جب وارنٹ میں اپنا نام بطور ملزم دیکھا تو وہ حیران رہ گئیں۔ عدالت نے اسے "فرض سے مکمل غفلت” قرار دیتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ حکام کو ہدایت دی کہ وہ سب انسپکٹر بنواری لال کے خلاف سخت کارروائی کریں اور واقعے کی مکمل انکوائری کی جائے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی غفلت شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور ایسے واقعات کو دہرانے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
عدالت نے اس حکم کی ایک نقل آئی جی آگرہ رینج کو بھیجنے کی ہدایت بھی دی۔واقعہ منظرعام پر آنے کے بعد سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سوربھ نے سب انسپکٹر کو فوری طور پر پولیس لائنز بھیجنے اور معاملے کی انکوائری کا حکم دیا ہے تاکہ اس "سنگین” غلطی کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔