امریکی قدامت پسند رہنما‘ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی چارلی کرک کا قتل
سوگ میں 4 دن تک امریکی پرچم سرنگوں
واشنگٹن 11 :۔ستمبر
(انٹر نیٹ ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی اور دائیں بازوکے کارکن معروف امریکی قدامت پسندرہنما ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے بانی چارلی کرک ایک یونیورسٹی ایونٹ کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنے اور بعد ازاں ہلاک ہوگئے۔
یہ واقعہ یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ان کے پروگرام "دی امریکن کم بیک ٹور” کے دوران پیش آیا۔عینی شاہدین کے مطابق چارلی کرک سوال و جواب کے سیشن میں شریک تھے جب اچانک گولی ان کی گردن پر لگی اور وہ زمین پر گر گئے۔
انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق فائرنگ تقریباً 180 میٹر دور ایک عمارت سے کی گئی۔ واقعے کے بعد کیمپس کو بند کر دیا گیا اور سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔ ابتدائی طور پر ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا لیکن بعد میں واضح ہوا کہ اس کا واقعے سے تعلق نہیں تھا۔
حملہ آور تاحال فرار ہے اور وفاقی و ریاستی ایجنسیاں تحقیقات کر رہی ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چارلی کرک کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور انہیں ’’ایک عظیم اور حقیقی محب وطن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی نوجوانوں کے دلوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ کے تمام سرکاری جھنڈے اتوار کی شام تک نصف سر پر لہرائے جائیں گے۔چارلی کرک ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے ذریعے تعلیمی اداروں میں جا کر طلبہ کو سیاسی اور سماجی امور پر لیکچر دیتے تھے اور انہیں سابق صدر ٹرمپ کا قریبی حامی سمجھا جاتا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بعد امریکہ بھر میں سیاسی تشدد اور عوامی تقریبات کی سیکیوریٹی پر بحث نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ Truth پر لکھا، ‘عظیم اور حقیقی لیجنڈری چارلی کرک اس دنیا میں نہیں رہے۔ امریکہ کے نوجوانوں کو ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی ان کے دل تک کوئی پہنچ سکا۔ ہر کوئی اس سے بہت پیار اور عزت کرتا تھا، خاص کر میں۔ میلانیا اور میں ان کی اہلیہ ایریکا اور پورے خاندان سے تعزیت کرتے ہیں۔
واقعہ کے وقت موقع پر موجود کچھ لوگوں نے نیوز ویب سائٹ گارڈین کو بتایا کہ چارلی کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ بڑے پیمانے پر شوٹنگ سے متعلق سوالات کے جواب دے رہے تھے۔پروگرام میں موجود ڈیزرٹ نیوز کی رپورٹر ایما پِٹس نے کہا کہ سوال یہ تھا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ پچھلے کچھ سالوں میں کتنے ٹرانس جینڈر شوٹرز بڑے پیمانے پر فائرنگ میں ملوث تھے؟
چارلی نے اس کا جواب دیا۔ پھر کسی اور نے سوال کیا کہ پچھلے 10 سالوں میں کتنے بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات ہوئے؟ اس کے فوراً بعد شوٹنگ ہوئی۔یوٹاہ ویلی یونیورسٹی کا کیمپس بند کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے ترجمان ایلن ٹرینر نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ چارلی کو تقریباً 180 میٹر دور ایک عمارت سے گولی ماری گئی۔
۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے قبل ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا تھا، لیکن وہ حملہ آور نہیں تھا۔ حملہ آور کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔ فی الحال چار ایجنسیاں اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں
