Article Title 1

ملک میں مسلم مخالف پروپیگنڈہ فلموں کی زبردست حمایت

تازہ خبر مضامین
ملک میں مسلم مخالف پروپیگنڈہ فلموں کی زبردست حمایت
 ادے پور فائلز ” کے ذریعہ مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرنے کی سازش
 آسکر امیدوار ’سنتوش‘ پر پابندی اور ’ساوتری پھولے‘ پر اعتراضات
Imran zain عمران زین
  ایڈیٹر زین نیوز
ہندوستان میں جب سےبھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت حکومت 2014 میں اقتدار میں آئی ہے، تب سے مسلم مخالف پروپیگنڈہ اور اسلاموفوبیا کو فروغ دینے والی فلموں کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کی تازہ کڑی، ہندی فلم *’ادے پور فائلز‘، مسلم برادری کے جذبات سے کھلواڑ اور انہیں بدنام کرنے کی ایک دانستہ سازش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جو اسلاموفوبیا کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتی ہے۔
 مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم جمعیت علمائے ہند، نے فلم کی ریلیز پر پابندی کے لیے دہلی، مہاراشٹر، اور گجرات کی ہائی کورٹس سے رجوع کیا۔ جمعیت کے صدر مولانا ارشد مدنی، جو دارالعلوم دیوبند کےصد المدرسین  بھی ہیں، نے کہا کہ فلم پیغمبر اسلام کی توہین کرتی ہے اور مسلم برادری کے ساتھ ساتھ دیوبند کے اسلامی مدرسے کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔
 فلم کے ٹریلر میں بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے متنازع بیانات کا حوالہ شامل ہے، جن کے 2022 کے ریمارکس نے ملک بھر میں شدید کشیدگی کو ہوا دی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے 10 جولائی 2025 کو فلم کی ریلیز پر عارضی پابندی لگائی، اور سپریم کورٹ نے 16 جولائی 2025 تک اسے برقرار رکھا۔
 اسی طرح، برطانوی ہندی فلم ’سنتوش‘، جو 2025 کے اکیڈمی ایوارڈز کے لیے برطانیہ کی سرکاری انٹری کے طور پر شارٹ لسٹ ہوئی، ہندوستان میں مکمل پابندی کا شکار ہے، کیونکہ یہ سماجی ناانصافیوں، ذات پات کے نظام، اور پولیس کی بربریت کو اجاگر کرتی ہے۔
فلم ’ساوتری پھولے‘*، جو سماجی مصلح ساوتری بائی پھولے کی زندگی پر مبنی ہے، پر مکمل پابندی تو نہیں لگی، لیکن سنسر بورڈ نے اس کے کچھ مناظر پر اعتراضات اٹھائے، اور اسے سینما گھروں میں محدود اسکرینز دی گئیں، جو سماجی تعصب کی عکاسی کرتا ہے۔ سنسر بورڈ کی سخت گیر روی، سینما گھروں کی عدم دستیابی، اور وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی نے فنون لطیفہ کی آزادی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
 یہ پابندیاں، ترامیم، اور نمائش کی روکاوٹیں بی جے پی کے ہندو قوم پرست ایجنڈے سے جوڑی جا رہی ہیں، جو سماجی مسائل کو بے نقاب کرنے والی فلموں کو دباتی ہیں، جبکہ مسلم مخالف پروپیگنڈہ فلموں کو فروغ دیتی ہیں، جو حکومتی دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ ’ادے پور فائلز‘ مسلم برادری کے جذبات سے کھلواڑ کرتی ہے اور انہیں بدنام کرنے کی ایک دانستہ سازش ہے، جو اسلاموفوبیا کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتی ہے۔
فلم میںگیانواپی مسجد جیسے حساس اور زیر التوا مسائل کا ذکر ہے، جو وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر غور ہیں۔ جمعیت کے وکیل فضیل احمد ایوبی نے دلیل دی کہ فلم آزادی اظہار رائے کے حق کا غلط استعمال کرتی ہے اور ایسے مناظر دکھاتی ہے جن کا اسلام، مسلمانوں، اور دارالعلوم دیوبند سے کوئی تعلق نہیں۔
 انہوں نے کہا کہ فلم ہندوستانی آئین کے آرٹیکلز 14 (مساوات)، 15 (امتیازی سلوک سے تحفظ)، اور 21 (زندگی اور آزادی کا حق) کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ درخواست میں مرکزی حکومت، سنسر بورڈ، جانی فائر فاکس میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، اور ایکس کورپس کو فریق بنایا گیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے فلم کی ریلیز پر عارضی پابندی لگائی، اور سپریم کورٹ نے اسے برقرار رکھتے ہوئے مرکزی حکومت سے فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔
مسلم تنظیموں نے فلم کو ’وحشیانہ‘ اور نفرت انگیز قرار دیا، جبکہ پروفیسر سلیم نے کہا کہ یہ قانون کو ہاتھ میں لینے کے رجحان کو ہوا دیتی ہے، جو عدلیہ اور پولیس پر عوامی اعتماد کو کمزور کر سکتی ہے۔’سنتوش‘ پر مکمل پابندی کی وجہ اس کا موضوعاتی مواد ہے، جو پولیس کی بدعنوانی، ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک، اور خواتین کے ساتھ ناانصافی کو کھل کر دکھاتا ہے۔
سنسر بورڈ نے اسے ’ملکی اداروں کی شبیہ خراب کرنے‘ اور ’سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ‘ قرار دیا۔ ’ساوتری پھولے‘ پر سنسر بورڈ نے ذات پات سے متعلق مناظر اور مکالموں پر اعتراضات اٹھائے، جن میں مہار، مانگ، پیشوائی، اور منو کے تذکرے شامل تھے۔ بی جے پی سے وابستہ گروہوں نے فلم پر برہمن برادری کو بدنام کرنے کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں فلم کی ریلیز 11 اپریل سے موخر کر کے 25 اپریل کر دی گئی۔فلم ساز انوراگ کشیپ نے سنسر بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’فیصلہ کرلو، ذات پات کا نظام ہے یا نہیں؟‘
مزید برآں، ’ساوتری پھولے‘ کو مہاراشٹر اور ہندی بیلٹ کے علاقوں میں محدود اسکرینز دی گئیں، جو مقامی دباؤ اور تعصب کی وجہ سے اس کی نمائش کو متاثر کرتی ہیں۔’ادے پور فائلز‘، جس کی ہدایت کاری *بھارت ایس شرینے نے کی، 28 جون 2022 کو ادے پور میں درزی کنہیا لال کے قتل پر مبنی ہے، جسے دو مسلم نوجوانوں نے نوپور شرما کی حمایت میں فیس بک پوسٹ شیئر کرنے پر قتل کیا تھا۔ فلم مبینہ طور پر اس واقعے کو ’لو جہاد‘ اور ’اسلامک دہشت گردی‘ کے بیانیے سے جوڑتی ہے۔
ٹریلر میں مسلم کرداروں کو دہشت گردوں کے طور پر پیش کیا گیا، جس پر مسلم تنظیموں نے اعتراض کیا۔ فلم میں *وجے راز، رجنیش دگل، اور پریتی جھنگیانی نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔’سنتوش‘ کی کہانی مغربی اتر پردیش کے مظفر نگر کے دیہی علاقوں میں ترتیب دی گئی ہے۔ مرکزی کردار سنتوش، ایک خاتون پولیس کانسٹیبل، اپنے شوہر کی موت کے بعد پولیس میں نوکری حاصل کرتی ہے۔
 فلم ایک دلت لڑکی کے ریپ اور قتل کے گرد گھومتی ہے، جس کی لاش دلت کالونی کے پانی کے کنویں میں پائی جاتی ہے۔سنتوش اس کیس کی تفتیش ایک پراسرار انسپکٹر، مسز شرما، کے ساتھ کرتی ہے۔’ساوتری پھولے‘ ساوتری بائی پھولے کی زندگی پر مبنی ہے، جو ہندوستان کی پہلی خاتون ٹیچر اور سماجی مصلح تھیں۔
 19ویں صدی کے مہاراشٹر کے پس منظر میں ترتیب دی گئی یہ فلم ساوتری بائی کی دلتوں اور خواتین کی تعلیم کے لیے جدوجہد، ذات پات کے نظام کی سختیوں، اور اعلیٰ ذات کے طبقات کی پابندیوں کو دکھاتی ہے۔’ادے پور فائلز‘ مسلم برادری کو دہشت گردی سے جوڑ کر منفی تصویر کشی کرتی ہے، جو مسلم جذبات سے کھلواڑ اور اسلاموفوبیا کو فروغ دیتی ہے۔
 ’سنتوش‘ میں دلت لڑکی کا قتل اور پولیس کی بے حسی ذات پات کے امتیازی سلوک کو اجاگر کرتی ہے، جبکہ ایک مسلمان لڑکے پر بغیر ثبوت کے الزام اور تشدد اقلیتوں کے ساتھ تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔ ’ساوتری پھولے‘ تاریخی تناظر میں دلتوں اور نچلی ذاتوں پر اعلیٰ ذات کے مظالم دکھاتی ہے۔’سنتوش‘ حقوق نسواں پر مبنی ہے اور ذات پات، مذہبی تناؤ، اور مردانہ غلبہ کو اجاگر کرتی ہے۔ سنتوش، جسے شاہانہ گوسوامی نے ادا کیا، نظام کے سامنے اپنی آواز بلند کرتی ہے اور آخر میں پولیس سے دستبردار ہو جاتی ہے۔’
ساوتری پھولے‘ خواتین کی تعلیم اور ذات پات کے خلاف جدوجہد کو دکھاتی ہے۔ ’ادے پور فائلز‘ نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دیتی ہے، جو سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے۔بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی ایسی فلموں کو پروموٹ کرتے ہیں جو مسلم مخالف پروپیگنڈہ کو فروغ دیتی ہیں،
 جیسے کہ ’دی کشمیر فائلز‘ (2022)، ’دی کیرالہ سٹوری‘ (2023)، اور ’آرٹیکل 370‘ (2024)۔ ان فلموں کو ٹیکس فری قرار دیا گیا اور مودی نے ان کی تعریف کی۔ ’ادے پور فائلز‘ بھی اسی طرح ہندو قوم پرستی کو تقویت دیتی ہے، لیکن عدالتی روکاوٹوں کا شکار ہے۔ اس کے برعکس، ’سنتوش‘ اور ’ساوتری پھولے‘ کو پابندی، ترامیم، اور محدود نمائش کا سامنا ہے، جو حکومتی دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔
بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلم مخالف فلموں کا سلسلہ تیزی سے بڑھا ہے، جو ہندو قوم پرست ایجنڈے کو تقویت دینے اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کا ذریعہ بن رہا ہے۔’سنتوش‘ کو کانز فلم فیسٹیول، ممبئی، گوا، اور ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں سراہا گیا۔ ’ساوتری پھولے‘ نے بھی عالمی سطح پر تاریخی اہمیت کی وجہ سے توجہ حاصل کی۔
 ’ادے پور فائلز‘ کو نفرت انگیز مواد کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلم مخالف پروپیگنڈہ فلموں جیسے کہ ’ادے پور فائلز‘ کا سلسلہ بڑھ رہا ہے، جو مسلم برادری کے جذبات سے کھلواڑ اور انہیں بدنام کرنے کی سازش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ ’سنتوش‘ اور ’ساوتری پھولے‘ سماجی مسائل کو بے نقاب کرتی ہیں،
لیکن سنسرشپ اور تعصب کا شکار ہیں۔ بی جے پی کی مسلم مخالف فلموں کی حمایت اور سماجی مسائل کو اجاگر کرنے والی فلموں کی روکاوٹ حکومتی دوہرے معیار کو ظاہر کرتی ہے۔ عالمی سطح پر ’سنتوش‘ اور ’ساوتری پھولے‘ کی کامیابی ان کی عالمگیر اہمیت کی گواہ ہے، جبکہ ’ادے پور فائلز‘ نفرت انگیز بیانیے کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے۔