- کانگریس پارٹی ملک کے غداروں کا ’کلب‘ ۔بی جےپی
ناخواندہ افراد کی جماعت کو اچھے اور برے میں فرق معلوم نہیں۔ڈگ وجے سنگھ
نئی دہلی:12؍جون
(زین نیوز)
کلب ہاؤس چیٹ تنازعہ نے جو سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے کانگریس کو جہاں پریشانی میں ڈال دیا ہے وہیں ڈگ وجے سنگھ کوایک بار پھر سرخیوں میں سہ سرخیوں میں لا کھڑا کیا ۔ اس بار وجہ اس میٹنگ کا آڈیو کا افشاں ہونا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی بحالی پر نظر ثانی کرے گی
ڈگ وجے سنگھ کے اس بیان پر اب سیاست گرما گئی ہے ۔ بی جے پی کے بہت سے تجربہ کار رہنماؤں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
سنگھ نے یہ مبینہ تبصرے سوشل میڈیا ایپ کلب ہاؤس میں گفتگو کے دوران ایک پاکستانی صحافی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں دیئے۔ بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے اس مباحثے کی افشاء آڈیو کو ٹویٹر پر شیئر کیا۔
اان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ اگر آپ کی حکومت آئے گی تو جموں و کشمیر سے متعلق آپ کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا میں پوری طرح مانتا ہوں کہ مذہبی جنونیت معاشرے کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے ، چاہے وہ ہندو شدت پسندی ہو یا اسلامی تعصب ، سکھ ہو یا عیسائی ، کچھ بھی ہو اس سے دہشت گردی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تمام مذاہب کے لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ ہر ایک کے اپنے عقائد ہیں ان کواپنے عقائد پر عمل کرنے کا حق ہے۔
انھوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمہ کے بعد انسانیت نہیں رہی کیونکہ سب کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔ کشمیریت سیکولرازم ہے۔ ایک مسلم اکثریتی ریاست میں ہندو بادشاہ تھا۔ کشمیر میں پنڈتوں کو سرکاری ملازمت میں ریزرویشن دیا گیا تھا۔ یہ افسوسناک فیصلہ تھا کہ آرٹیکل 370 کو جموں و کشمیر سے ہٹا دیا گیا۔ کانگریس پارٹی ایک بار پھر اس معاملہ پر غور کرے گی۔
In a Club House chat, Rahul Gandhi’s top aide Digvijaya Singh tells a Pakistani journalist that if Congress comes to power they will reconsider the decision of abrogating Article 370…
Really? यही तो पाकिस्तान चाहता है… pic.twitter.com/x08yDH8JqF
— Amit Malviya (@amitmalviya) June 12, 2021
ڈگ وجے سنگھ کے اس بیان پر ایک طوفان سا کھڑا ہوگیا ہے۔ چیٹ کا ایک حصہ شیئرکرتے ہوئے بی جے پی رہنما امیت مالویہ نے لکھا کہ ‘کلب ہاؤس چیٹ میں راہول گاندھی کے مشیر خاص ٰڈگ وجے سنگھ نے
پاکستانی صحافی کہ اس سوال پر کہ کانگریس کے برسراقتدار آنے کی صورت میں جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کا فیصلہ لیا جائے گا جیسا کہ پاکستان بھی چاہتا ہے اس پر انھوں نے صراحت بالا ردعمل کا اظہار کیاجس کے ساتھ ہی سیاسی حلقوں میں ردعمل کا ایک طوفان سا کھڑا ہوگیا اور سیاسیی قائدین جموں کشمیر کے معاملہ میں قدامت اور شدت پسندی میں تقسیم ہوگئے اس بیچ معاملہ پر قابو پانے کی کوشش کے طور پر ڈگ وجے سنگھ نے وضاحت پیش کی
کیا آپ اس پر نظر ثانی کریں گے واقعی پاکستان یہی چاہتا ہے۔ اس پر بی جے پی کے بہت سے دیگر رہنماؤں کا رد عمل بھی آنا شروع ہوگیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس پارٹی ملک کے غداروں کا ’کلب‘ ہے جو ایک طویل عرصے سے اسے ’’ٹول کٹ’ کے ذریعہ ملک کو کھوکھلا کرنے کا کام کررہی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے کانگریس کے رہنما اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ کو آرٹیکل 370 پر مبینہ ریمارکس پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ’’ مسٹر سنگھ وہی شخص ہیں جنھوں نے پلوامہ حملے کو ایک حادثہ قرار دیا تھا اور اسے دہشت گردانہ حملہ ماننے سے انکار کردیاتھا۔
وہیں اس معاملے پر تنازعہ بڑھتے ہی دگ وجے سنگھ نے وضاحت پیش کی ہے۔بی جے پی کی تنقید کو نظر انداز کرتے ہوئےکا انگریس رہنما دگ وجے سنگھ نے کلب ہاؤس چیٹ پر ہنگاموں کے درمیان واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔۔
انہوں نے کہا کہ ناخواندہ افراد کی جماعت کو شال اور غور میں فرق معلوم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے پارلیمنٹ میں آرٹیکل 370 پر بھی اعتراض جتایا تھا۔ کہ جس انداز میں عجلت پسندی کے ساتھ جو فیصلہ لیا گیا وہ غلط ہے۔ حکومت کو چاہیے تھاکہ فیصلہ لینے قبل وہاں کے شہریوں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھامگر اس کو نظر انداز کیا گیاا
